افغانستان میں طالبان حکومت نے شطرنج پر پابندی عائد کر دی
اشاعت کی تاریخ: 12th, May 2025 GMT
کابل: طالبان حکومت نے افغانستان میں شطرنج کھیلنے پر تاحکمِ ثانی پابندی عائد کر دی۔
برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق طالبان حکام کا کہنا ہے کہ یہ کھیل جوا کھیلنے کا ذریعہ بن سکتا ہے، جب تک شریعت کے تقاضے پورے نہیں ہوتے شطرنج کے کھیل کو معطل کر دیا گیا ہے۔
اس فیصلے کے تحت افغانستان میں شطرنج سے متعلق تمام سرگرمیاں فوری طور پر معطل کر دی گئی ہیں اور افغانستان شطرنج فیڈریشن کو بھی تحلیل کر دیا گیا ہے۔
طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد اگست 2021 سے اب تک کئی کھیلوں پر مختلف وجوہات کی بنیاد پر پابندیاں عائد کی جا چکی ہیں خاص طور پر خواتین کی کھیلوں میں شرکت مکمل طور پر بند کر دی گئی ہے۔
شطرنج وہ تازہ ترین کھیل ہے جس پر طالبان نے قدغن لگائی ہے۔ اس سے قبل گزشتہ سال مخلوط مارشل آرٹس (MMA) کو بھی شریعت سے متصادم قرار دیکر پابندی لگا دی گئی تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔
سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔
اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔