چین نے پاک بھارت جنگ بندی کی حمایت کردی
اشاعت کی تاریخ: 13th, May 2025 GMT
چین کے وزارت خارجہ کے مطابق 10 مئی کی رات، چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے رابطہ کیا۔ اسلام ٹائمز۔ چین نے پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی کی حمایت کرتے ہوئے اس کا خیر مقدم کیا ہے۔ چین کے وزارت خارجہ کے مطابق 10 مئی کی رات، چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے رابطہ کیا۔ اس کے علاوہ چین کے وزیر خارجہ نے بھارت کے قومی سلامتی مشیر اجیت دوول سے بھی ٹیلی فون کالز کیں جس کا مقصدہ کشیدگی میں کمی اور مکمل اور پائیدار جنگ بندی کو یقینی بنانا ہے۔
چینی وزیر خارجہ نے کہا کہ چین امید کرتا ہے کہ بھارت اور پاکستان جنگ بندی کے موجودہ رجحان کو مضبوطی سے برقرار رکھیں گے اور مزید تصادم سے گریز کریں گے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ دونوں ممالک اپنے اختلافات کو مذاکرات اور بات چیت کے ذریعے سلجھائیں گے تاکہ سیاسی حل کے راستے پر واپس آسکیں۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ چین بھارت اور پاکستان کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہے گا اور خطے میں پائیدار امن و استحکام کے لیے اپنا تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
بھارتی شہر کولکتہ کے علاقے لیک ٹاؤن میں نصب فٹبال لیجنڈ لیونل میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ مقامی رہائشیوں کی شکایات کے بعد ہٹا دیا گیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق شہریوں کا کہنا تھا کہ تیز ہواؤں کے دوران یہ دیوقامت ڈھانچہ ہلتا محسوس ہوتا تھا جس سے حفاظتی خطرات پیدا ہو رہے تھے۔
میسی کا یہ مجسمہ گزشتہ سال دسمبر میں نصب کیا گیا تھا اور اسے 2022 فیفا ورلڈ کپ کے فاتح کپتان کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔
مجسمے میں ارجنٹائن کے سپر اسٹار کو ورلڈ کپ ٹرافی تھامے ہوئے دکھایا گیا تھا جو ان کی تاریخی کامیابی کی یادگار کے طور پر بنایا گیا تھا۔
یہ یادگار میسی کے مداحوں کی جانب سے ان کے بھارت کے دورے کے موقع پر وی آئی پی روڈ کے کنارے قائم کی گئی تھی۔
View this post on Instagramتاہم حالیہ دنوں میں مقامی افراد نے انتظامیہ کو آگاہ کیا کہ تیز ہوا چلنے پر مجسمہ معمولی طور پر جھولتا نظر آتا ہے جس سے راہگیروں اور قریبی آبادی کے لیے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔
حکام نے عوامی تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے مجسمے کو عارضی طور پر ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ اس کے مستقبل کے بارے میں تاحال کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔