پاکستان کو آئی ایم ایف سے ایک ارب 23لاکھ ڈالر موصول ہوگئے
اشاعت کی تاریخ: 14th, May 2025 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)پاکستان کو عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی طرف سے ایک ارب 23لاکھ ڈالر کی قسط موصول ہوگئی۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے آئی ایم ایف سے ایک ارب 23 کروڑ ڈالر کی قسط موصول ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ آئی ایم ایف نے رقم ای ایف ایف قرض پروگرام کی دوسری قسط کےطور پر جاری کی ہے۔
اسٹیٹ بینک کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ آئی ایم ایف کے جائزہ مشن نے پاکستان کی معیشت کا جائزہ لینے کے بعد قسط جاری کرنےکی سفارش کی تھی، آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ نے رقم جاری کرنےکی منظوری 9 مئی کو دی تھی ، دوسری قسط کی رقم 16 مئی 2025 کے زرمبادلہ ذخائر کا حصہ ہوگی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: آئی ایم ایف
پڑھیں:
گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔
سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔
اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔