Daily Mumtaz:
2026-07-24@16:04:01 GMT

پاکستان کو آئی ایم ایف سے 1.02 ارب ڈالر کی قسط موصول

اشاعت کی تاریخ: 14th, May 2025 GMT

پاکستان کو آئی ایم ایف سے 1.02 ارب ڈالر کی قسط موصول

پاکستان کو آئی ایم ایف سے قرض کی اگلی قسط کے تحت ایک ارب 2 کروڑ 30 لاکھ ڈالر مل گئے، رقم اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اکاؤنٹ میں منتقل کر دی گئی۔
پاکستان کو آئی ایم ایف سے قرض کی اگلی قسط موصول ہوگئی، عالمی مالیاتی فنڈز نے 1.023 ارب ڈالر کی رقم اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اکاؤنٹ میں منتقل کردی۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان کو آئی ایم ایف سے موصول رقم 2 ارب ڈالر سے تجاوز کرگئی ہے، آئی ایم ایف نے 7 ارب ڈالر کا قرض پروگرام گزشتہ سال منظور کیا تھا۔
آئی ایم ایف نے 9 مئی کو پاکستان کیلئے 2.

4 ارب ڈالر کے پیکیج کی منظوری دی تھی۔
آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس کا اعلامیہ بھی جاری کر دیا گیا ہے جس کے مطابق پاکستان کیلئے 2.4 ارب ڈالر کے پیکج کی منظوری دے دی گئی ہے جبکہ پروگرام کے تحت ایک ارب ڈالر فوری جاری کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور کلائمیٹ فنانسنگ کے نئے پروگرام کے تحت پاکستان کو تقریبا 1.4 ارب ڈالر ملیں گے، پاکستانی حکام نے قرض پروگرام پر مضبوطی سے عمل کیا ہے۔
اعلامیہ کے مطابق فنانسنگ اور بیرونی صورتحال میں بہتری آئی ہے اور پاکستان میں معاشی بحالی کا عمل جاری ہے۔
ایگزیکٹو بورڈ نے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلٹی انتظام کے تحت پہلا جائزہ مکمل کر لیا ہے، آئندہ کیلئے پالیسی ترجیحات میں مسابقت کو فروغ دینا ہوگا، پیداواری صلاحیت میں بہتری اور سرکاری اداروں میں اصلاحات لانا ہوں گی، عوامی خدمات کی فراہمی اور توانائی کے شعبے کی پائیداری میں بہتری شامل ہے۔
موسمیاتی لچک پیدا کرنا بھی پروگرام کا حصہ ہے، ایگزیکٹو بورڈ نے ریذیلیئنس اینڈ سسٹینیبلٹی فیسیلٹی کے تحت ایک انتظام کی منظوری بھی دی، یہ قدرتی آفات اور موسمیاتی خطرات کے مقابلے میں پاکستان کو مدد فراہم کرے گا، اس سہولت کے تحت پاکستان کو تقریباً 1.4 ارب ڈالر تک رسائی حاصل ہوگی۔
آئی ایم ایف نے پاکستان کی معاشی صورت حال میں بہتری کا اعتراف بھی کیا اور کہا گیا کہ مشکل عالمی حالات کے باوجود پاکستان کی کوششوں سے معیشت کو استحکام ملا، اپریل میں مہنگائی 0.3 فیصد کی تاریخی کم سطح پر آگئی، مہنگائی میں کمی سےجون 2025 سےاب تک پالیسی ریٹ میں 1100 بیسس پوائنٹس کی کمی آئی۔
اپریل کے اختتام پر زرمبادلہ کے ذخائر 10.3 ارب ڈالر تک پہنچ گئے، اگست 2024 میں ذخائر 9.4 ارب ڈالر تھے، توقع ہے کہ یہ ذخائر جون 2025 کے آخر تک 13.9 ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گے، زر مبادلہ زخائر میں درمیانی مدت میں مزید بہتری آئے گی۔

پاکستان کی مالیاتی کارکردگی مضبوط رہی، مالی سال 2025 کی پہلی ششماہی میں پرائمری سرپلس جی ڈی پی کا 2.0 فیصد رہا، پاکستان مالی سال کے اختتام تک 2.1 فیصد کے ہدف کی جانب گامزن ہے

Post Views: 4

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: پاکستان کو ا ئی ایم ایف سے پاکستان کی میں بہتری ارب ڈالر کے تحت

پڑھیں:

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ

عالمی منڈی میں جمعہ کو خام تیل (Crude Oil)کی قیمتوں میں معمولی کمی دیکھی گئی، تاہم مجموعی طور پر ہفتہ وار بنیادوں پر تیل کی قیمتیں نمایاں اضافے کی جانب بڑھتی رہیں۔ بحیرۂ احمر میں آئل ٹینکروں پر حملوں اور قازقستان سے تیل کی برآمدات میں رکاوٹ نے عالمی منڈی میں سپلائی سے متعلق خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔

کاروباری سیشن کے دوران برینٹ خام تیل (Brent Crude) کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل کی نفسیاتی حد عبور کرتے ہوئے 100.12 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جو مئی کے بعد پہلی مرتبہ اس سطح پر پہنچی ہے۔ اسی طرح ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل 92 ڈالر فی بیرل جبکہ اماراتی مربن آئل (Murban Crude) 107.30 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہوا۔

مارکیٹ میں تیزی کی ایک بڑی وجہ یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے بحیرۂ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ قرار دیا جا رہا ہے۔ ان حملوں کے بعد سرمایہ کاروں میں خدشات بڑھ گئے ہیں کہ اگر باب المندب کی اہم بحری گزرگاہ متاثر ہوئی تو عالمی سطح پر تیل کی ترسیل شدید متاثر ہو سکتی ہے۔ یہ راستہ آبنائے ہرمز کے بعد دنیا میں خام تیل کی نقل و حمل کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ (Donald Trump) نے خبردار کیا ہے کہ مستقبل میں ایسے کسی بھی حملے کی ذمہ داری ایران پر عائد کی جائے گی۔ دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان بھی کر رکھا ہے، جبکہ مختلف اطلاعات کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے تناظر میں باب المندب کی صورتحال مزید حساس ہو گئی ہے۔

مزیدپڑھیں:پنجاب حکومت کا سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو جولائی کی ادائیگیاں قبل از وقت کرنے کا فیصلہ

ادھر قازقستان (Kazakhstan) کی وزارتِ توانائی نے بتایا کہ مشتبہ یوکرینی ڈرون حملوں کے بعد ملک کی ایک اہم برآمدی تنصیب عارضی طور پر بند ہونے سے خام تیل کی پیداوار کم کر دی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق کیسپین پائپ لائن کنسورشیم (Caspian Pipeline Consortium – CPC) نے ٹرمینل پر حملوں کے باعث قازقستان سے خام تیل کی وصولی عارضی طور پر معطل کر دی ہے۔ یہ پائپ لائن عالمی سطح پر یومیہ خام تیل کی تقریباً دو فیصد سپلائی سنبھالتی ہے، جبکہ ایک ذریعے کے مطابق قازقستان کے سب سے بڑے آئل فیلڈ کی پیداوار بھی نصف سے کم کر دی گئی ہے۔

توانائی کے شعبے کے ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی کشیدگی اور قازقستان سے سپلائی میں رکاوٹ کے باعث عالمی تیل مارکیٹ غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے، جس کے نتیجے میں آنے والے دنوں میں خام تیل کی قیمتوں پر اضافے کا دباؤ برقرار رہنے کا امکان ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان سمیت سونے کی عالمی مارکیٹوں میں قیمت میں کمی کا رجحان برقرار
  • فیس بک صارفین اب مفت ویریفائیڈ بلیو ٹک حاصل کر سکتے ہیں، میٹا کا نیا پروگرام متعارف
  • بی آئی ایس پی مستحق خواتین کے لیے بڑی سہولت، آئندہ قسط وصول کرنے کا نیا طریقہ سامنے آگیا
  • چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خاں کا امریکہ کی معروف یونیورسٹیوں کا دورہ
  • باکو میں بین الاقوامی جوڈیشل ٹریننگ پروگرام، سپریم کورٹ کے جج نے متبادل نظامِ انصاف پر زور
  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ
  • موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
  • وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
  • پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے