WE News:
2026-07-24@05:04:33 GMT

ٹارچ والا چائنا موبائل اور 10 مئی

اشاعت کی تاریخ: 15th, May 2025 GMT

پاک انڈیا تصادم کے بعد اب ہم سیز فائر کے لمحے میں ہیں۔ اور تیاری ہو رہی ہے باقاعدہ بات چیت کی۔ سو یہ موقع ہے اب تصادم کے نتائج اور اثرات پر بات کرنے کا۔ اس ضمن میں پہلی بات تو یہ سمجھنی ہوگی کہ رواں مئی کے پہلے عشرے کے واقعات تک ہم محض حادثاتی طور پر نہیں پہنچے۔ یہ تیاریاں تب شروع ہوئی تھیں جب 2011ء میں امریکا نے پوری سنجیدگی سے پاکستان سے کہا کہ ہماری افغان طالبان سے بات کروایے، ہم افغانستان سے نکلنا چاہتے ہیں۔

اگر آپ کو یاد ہو تو پاکستان نے ایک طویل ٹال مٹول اختیار کر لی تھی اور بات چیت کے لیے سہولت کاری سے مکمل گریز نظر آرہا تھا۔ یہ ٹال مٹول بے سبب نہ تھی۔ یہ چائنا تھا جس نے پاکستان سے کہا تھا کہ ہمیں کم از کم مزید 10 سال ہر حال میں درکار ہیں۔

سوال یہ ہے کہ چائنا کو 10 سال کیوں درکار تھے ؟ اور اس کا امریکی انخلا سے کیا تعلق تھا ؟ آپ یاد کیجیے تو 10 سال بعد جب فروری 2020 میں دوحہ معاہدہ سائن ہوا تو اسی سال نومبر میں امریکا 30 ممالک کی نیول فورس کی ہمراہی حاصل کرکے کہاں پہنچا تھا؟ وہ ساؤتھ چائنا سی پہنچا تھا۔ اور ایک اضافی حرکت یہ کی تھی کہ امریکا، جاپان، انڈیا اور آسٹریلیا پر مشتمل کواڈ نامی مردہ زندہ کرکے چین پر دباؤ بڑھا دیا تھا۔

اس لیے یہ بات چائنیز 2010ء سے ہی جانتے تھے کہ امریکا افغانستان سے انخلا کرتے ہی اسے گھیرے گا۔ یوں پاکستان نے چین کو مطلوب 10 سال فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کیا اور 2020 تک امریکا کو افغانستان میں الجھائے رکھا۔اور یہی وہ دورانیہ ہے جب چین میں شی جن پنگ کا دور صدارت شروع ہوتے ہی ہمہ جہت چائنیز ترقی ناقابل یقین رفتار حاصل کرگئی۔

ہماری ایک بڑی خوش قسمتی یہ رہی کہ جب فروری 2019ء میں بالاکوٹ واقعہ ہوا، اور ہم نے اس کا کرارا جواب دیا تو چونکہ ایک ہی انڈین طیارہ گرا تھا، سو اسے مغرب میں زیادہ اہمیت نہ دی گئی۔ اور چین کی خوش قسمتی یہ کہ یوکرین کی جنگ چھڑ گئی جس سے امریکا اور اس کے اتحادی ساؤتھ چائنا سی  سے دوڑے دوڑے روسی سرحد پر پہنچ گئے۔ یوں چین اور پاکستان کو اپنی عسکری طاقت کو یوں یک جان کرنے کا موقع کسی رکاوٹ کے بغیر میسر آگیا کہ اب نظر نہ آنے کے باوجود چین کی پیپلز لبریشن آرمی اپنے ہائی ٹیک وسائل کے ساتھ ہمارے شانہ بشانہ ہوتی ہے۔ اس کی دو مثالیں دیکھیے۔ چین کے انٹیلی جنس، سرویلنس اینڈ ریکانسنس نظام میں سٹیلائٹس کا حصہ 44 سٹیلائٹس پر مشتمل ہے۔ جو دیگر بہت سی سہولیات کے ساتھ ساتھ ایک سہولت یہ بھی فراہم کرتا ہے کہ میدان جنگ آپ کو لائیو نظر آرہا ہوتا ہے۔ہم سب ایئر وائس مارشل اورنگزیب کی پریس بریفنگ کے دوران اس کی جھلک دیکھ چکے۔

 دوسری چیز یہ کہ یہ خبر تین چار سال قبل باقاعدہ رپورٹ ہوچکی ہےکہ چین پاک فضائیہ کو سائبر وار ڈویژن بنانے میں تعاون فراہم کر رہا ہے۔ حتی کہ انڈین دفاعی تجزیہ کار پراوین ساھنی نے تب ہی اس پر ایک ویلاگ بھی کردیا تھا اور بتا دیا تھا کہ اس کے نتائج انڈیا کے لیے کیا ہوں گے۔

چنانچہ  10 مئی کو پاک فضائیہ کے سائبر ڈویژن کے کارنامے پوری دنیا نے دیکھ لیے۔ اس ڈویژن نے محض چھوٹی موٹی پارٹی یا منسٹیریل ویب سائٹ نہیں کیں بلکہ انڈیا کے پورے دفاعی نظام کو مفلوج کرکے رکھ دیا۔ ہم نے چاند پر کوئی کھوتا ریڑھا تو نہیں اتارا  مگر خلا میں گشت کرتے ہندوتوا سٹیلائٹ ہمارے قبضے میں تھے۔ کیا یہ کوئی معمولی بات ہے؟

 6 مئی کی رات سے 10 مئی تک انڈین ایئر فورس کسی پاکستانی طیارے پر ایئر ٹو ایئر میزائل داغنا تو دور کسی طیارے کو ریڈار پر لاک بھی کرسکی؟ یہ بات ذہن میں رہے کہ جب آپ کا طیارہ لاک ہوتا ہے تو پائلٹ کو فوراً پتہ چل جاتا ہے کہ وہ لاک ہوگیا ہے، اب کسی بھی لمحے میزائل فائر ہوگا مگر پاک فضائیہ کا کوئی بھی طیارہ لاک نہ ہوسکا۔

پھر ایک اہم بات یہ کہ ہم نے انڈین طیارے ان کی سرزمین پر ہی گرائے تھے۔ چلیے رافیل یا دیگر انڈین طیارے ہمارا کوئی طیارہ نہ گرا سکے۔ مگر 400 کلومیٹر رینج والا ایس 400 کیوں کچھ نہ کرسکا؟ اس کا میزائل تو 1 اعشاریہ 6 کلومیٹرفی سیکنڈ کی رفتار سے آتا ہے اور تقریباً یقینی کلنگ کرتا ہے۔ کیا انڈیا کا ایس 400 کوئی ہلکی سی ہِل جُل بھی کرسکا؟

نتیجہ دیکھیے، جب 7 مئی کو پاکستان نے دعویٰ کیا کہ اس نے 3 رافیل سمیت 5 انڈین طیارے محض ایک گھنٹے میں گرادیے ہیں تو یہ دعویٰ ترقی یافتہ دنیا کے لیے اس قدر ناقابل یقین تھا کہ اگلے 3 دن اس نے اس بحث میں گزار دیے کہ کیا واقعی ایسا ہوا ہے؟ کوئی کہتا ہوا ہے، کوئی کہتا نہیں، جبکہ کوئی کہتا کہ بس ایک رافیل گرا ہے باقی سب مبالغہ ہے۔ لیکن جب 3 دن بعد پاکستان نے پورا انڈین دفاعی نظام مفلوج کرکے اس نام نہاد ریجنل سپر پاور کی ناک رگڑی تو وہ امریکی حکومت بھی ہڑبڑا اٹھی جس نے دو تین روز قبل ہی کہہ دیا تھا کہ ہمارا پاک انڈیا کشمکش سے کوئی لینا دینا نہیں۔اب صدر ڈونلڈ ٹرمپ، نائب صدر جے ڈی وینس اور امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو بیک وقت ایک ٹیم کی طرح متحرک تھے۔کسی کو یاد بھی ہے یہ وہی امریکا ہے جو چار، چھ سال قبل تک ہمیں اپنے اسسٹنٹ وزیر خارجہ کے ذریعے ڈیل کیا کرتا تھا، ہمیشہ دھمکی کی زبان میں بات کرتا تھا، انڈیا کی واضح اور علانیہ طرف داری کیا کرتا تھا! مگر اس بار تاریخ میں پہلی بار ہوا کہ امریکا نے ہمیں اس حد تک برابری کی بنیاد پر ڈیل کیا کہ صدر ٹرمپ نے دونوں ممالک کی قیادت کو مدبر قرار دیدیا اور دونوں کا شکریہ ادا کیا۔

اس سب کا کیا مطلب ہوا؟ یہ کہ ہم نے محض ایک جھڑپ نہیں جیتی۔ بلکہ 3 دن کے اندر اندر اس خطے میں طاقت کا توازن بدل کر رکھ دیا۔ خود کو ریجنل سپر طاقت باور کرانے والا انڈیا کے پاس اب کاغذ پر لکھے پرشکوہ اعداد و شمار ہی رہ گئے ہیں۔ بے روح اور بے جان اعداد و شمار۔

اسے اب پتہ چلا کہ اس کے کسی بھی ایئربیس سے پرواز کرنے والا طیارہ ہم دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ اس کے فوجی کانوائے ہماری نگاہ سے محفوظ رہ کر موومنٹ نہیں کرسکتے۔ یہی وجہ ہے کہ اس نے تاحکم ثانی رافیل گراؤنڈ کردیے ہیں۔ لطف کی بات یہ کہ یہ سب اس انڈیا کے ساتھ ہوا ہے جو کہتا تھا ’اپن بھی اب سپر طاقت ہے۔ اپن کو بھی سلامتی کونسل میں ویٹو پاور مانگنے کا ہے۔‘  دے گا اسے ویٹو پاور اب کوئی؟ اسے ویٹو پاور بننے کے لائق چھوڑا ہم نے؟

اس پوری صورتحال کا سب سے شاندار پہلو یہ ہے کہ جب چین اور ہم مل کر یہ سب تیاریاں کر رہے تھے تو انڈیا اور مغربی دنیا نے اسے یہ سوچ کر سیریس ہی نہ لیا کہ چین کی مصنوعات تو بس وہ ٹارچ والے چائنا موبائل جیسی ہی ہوتی ہیں۔ یوں پاکستان کو یہ وارننگ کسی نے بھی جاری نہ کی کہ اتنے سارے طیارے کیوں خریدے جا رہے ہیں؟ یہ سب کیا چل رہا ہے؟ ورنہ امریکا کی تو تاریخ رہی ہے کہ کسی ناپسندیدہ ملک نے ہتھیاروں کا ذرا سا غیر معمولی سودا کیا تو وارننگ آگئی کہ خبردار جو طاقت کا توازن بگاڑا۔

ہماری خریداریوں کو دنیا نے ذرا بھی توجہ نہ دی۔ کیونکہ انہیں لگتا تھا کہ آئی فون کے آگے جو حیثیت چائنا کے ٹارچ والے موبائل کی ہے، وہی جے 10 سی کی رافیل کے آگے ہوگی۔  ہوش انہیں تب آیا جب 10 مئی ہوگیا۔ اور اب مغرب کی پریشانی یہ نہیں کہ انڈیا کا کیا بنے گا؟ بلکہ انہیں اپنی ٹیکنالوجیز کی فکر پڑ گئی ہے۔ کیونکہ  یوکرین جنگ سے جان چھڑا کر امریکا چین کی جانب متوجہ ہوکر ایک بار پھر ساؤتھ چائنا سی میں اودھم مچانے کی تیاری میں تھا۔ لیکن 10 مئی نے امریکیوں کو اس خوف میں مبتلا کردیا ہے کہ جب پاکستان کی ملٹری اتنی پاور فل ہوچکی ہے تو چین کی پیپلز لبریشن آرمی کی طاقت کا کیا عالم ہوگا؟

یہ وہ سوال ہے جس نے  10 مئی کے بعد سے مغرب کی نیندیں حرام کردی ہیں۔ اور انہیں صاف نظر آرہا ہے کہ تائیوان تو محض اس لیے چین میں ضم نہیں ہوا کہ ابھی چینیوں نے کیا نہیں، ورنہ رکاوٹ تو کوئی نہیں۔ گویا مار انڈیا کو پڑی مگر درد تائیوان سے ہوتا ہوا واشنگٹن تک گیا۔ اسی لیے عالمی تجزیہ کار بھی کہہ رہے ہیں کہ 10 مئی کو طاقت کا توازن چین کےحق میں شفٹ ہوچکا ہے۔ وہ شفٹ شفٹ کے ثمرات ہمیں براہ راست نصیب ہوں گے۔ یہ سفر ہم نے اور چین نے اس حد تک مل کر کیا ہے کہ نکلنے کے لیے بیتاب امریکا کو 2020ء تک افغانستان میں ہم نے ہی الجھائے رکھا تاکہ تیاریاں بھرپور ہوسکیں۔

10 مئی نے ثابت کردیا کہ اب الحمدللہ ہم تیار ہیں مگر ہمیں ٹارچ والے چائنا موبائل کا یہ احسان ہمیشہ یاد رکھنا ہوگا کہ مغربی طاقتوں کو ماموں اسی نے بنایا۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

رعایت اللہ فاروقی

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پاکستان نے انڈیا کے دیا تھا طاقت کا کے ساتھ چین کی تھا کہ کے لیے

پڑھیں:

باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟

ایک نئی جنگ شروع ہوتی نظر آرہی ہے۔ یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر سے باب المندب بند کر دیا ہے۔پہلے امریکا ایران جنگ کی وجہ سے دنیا جنگ کا شکار ہے۔ پوری کوشش کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا۔آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ اب باب المندب کی بندش تیل کی قیمتوں کو مزید اوپر لے کر جائے گی۔ جس کی وجہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ اور ایک بحرانی کیفیت بنتی نظر آرہی ہے۔

باب المندب کی بندش کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کے دو تیل کے ٹینکرز کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ ایک تیل کے ٹینکر کو میزائیل لگنے کی سعودی عرب نے تصدیق کر دی ہے۔ عالمی منڈی کا رحجان یہی رہا ہے کہ جب تیل کا ایک ٹینکر تباہ ہوتا ہے تو انشورنس ختم ہو جاتی ہے۔

کوئی کمپنی بھی اپنا جہاز وہاں سے گزارنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس لیے حوثیوں کو باب المندب بند کرنے کے لیے دو جہاز ہی تباہ کرنے تھے ۔ باقی جہاز خود ہی آنے سے انکار کر دیں گے۔ اس لیے باب المندب بند ہوگیا ہے۔ اب جب تک یا تو حوثی اس کو کھولنے کا اعلان نہ کریں یا حوثیوں کی اس کو بند کرنے کی صلاحیت ختم نہ ہوجائے تب تک یہ کھل نہیں سکتا۔

حوثیوں کی جانب سے بندش کے اعلان کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی ایک شدید سخت بیان جاری کیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کسی پاکستانی جھنڈے کے حامل جہاز پر حملہ کیا گیا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔اس کے علاوہ باب المندب کی بندش کی مذمت بھی کی گئی تھی اور اس کے خلاف سخت رد عمل جاری کیا گیا تھا۔ لیکن اس بیان کے اگلے ہی دن سعودی عرب کے دو جہازوں پر حملہ کر دیا گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ پاکستانی جہاز نہیں تھے۔ لیکن یہ سعودی عرب کے جہاز تھے اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ بھی تھا۔

باب المندب بند کرنا لگتا ہے ایران کے لیے ناگزیر تھا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کم ہی سہی لیکن ایک مناسب مقدار میں اپنا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کر رہے تھے۔ اس لیے ان کی تیل کی برآمد چل رہی تھی۔ کنویں بند نہیں ہو رہے تھے۔ وہاں کوئی خاص بحران نہیں تھا۔

دنیا کو بھی تیل مل رہا تھا اور ایسی خبریں آرہی تھیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایسی تیل کی لائنیں بچھا رہے ہیں کہ اگلے دو سال میں ان کا آبنائے ہرمز پر انحصار ختم ہو جائے گا۔ وہ اپنا سارا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کرنے کی پوزیشن میں ہونگے۔ یہ تیاری ایران کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھنے کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ اس لیے شائد ایران کو بھی سمجھ آگئی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے جو بھی فائدہ اٹھانا ہے اس کی مدت کم ہے۔ عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات متبادل بندوبست تیزی سے کر رہے ہیں۔

شائد اسی لیے ایران نے بھی حوثیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ باب المندب بند کر دیں ۔ کیونکہ ایران کے پاس بھی وقت کم ہے۔ویسے بھی چند دن پہلے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر نے ان کی طرف سے یہ بیان دیا تھا کہ اگر امریکا نے ایران پر بمباری بند نہ کی تو ایران جنگ کو وسیع کر دے گا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ باب المندب بند کرنا جنگ کو وسیع کرنے کی ایک شکل ہے۔ جنگ پھیل گئی ہے۔ ایران جنگ کو پھیلانا چاہتا تھا تو اس نے پھیلا دی ہے۔

باب المندب سے دنیا کے تیل کی سات فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے سات فیصد کی ترسیل بند ہو گئی ہے۔ لیکن یہ صرف اتنی بات نہیں کئی ماہ سے یو اے ای اور سعودی عرب کے درمیان جاری سرد جنگ بھی یک دم ختم ہوگئی ہے۔ باب المندب بند ہونے کی خبر کیا آئی سعودی عرب اور یو اے ای میں صلح ہوگئی دونوں کے وزراء نے ایک دوسرے کے ساتھ تصویر پوسٹ کر دیں کہ ہم بھائی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش تو انھیں اکٹھا نہیں کر سکی لیکن باب المندب کی بندش نے انھیں اکٹھا کر دیا۔ اب آگے کا منظر نامہ کیا ہو سکتا ہے۔ پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ موجود ہے۔

اگر سعودی عرب باب المندب کھلوانے کے لیے حوثیوں کے ساتھ جنگ شروع کرتا ہے اور جواب میں حوثی سعودی عرب پر حملہ کرتے ہیں تو پاکستان اپنے دفاعی معاہدہ کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کا پابند ہوگا۔ کیسے اور کتنا، اس سوال کا ابھی تک کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔ لیکن حوثیوں نے یہ خبردار کیا ہے کہ اگر ان پر کسی بھی قسم کا کوئی بھی حملہ کیا گیا تو وہ سعودی عرب کی تیل اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ایک عمومی رائے یہ ہے کہ اتنی سخت بمباری کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا تو کیا صرف بمباری سے باب المندب کھلوایا جا سکے گا۔ حوثی بھی جواب میں میزائل ماریں گے۔

یہ درست ہے کہ ان کے پاس ایران جتنے میزائل نہیںہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے پاس میزائل ہیں۔ انھوں نے ماضی میں اسرائیل اور سعودی عرب پر میزائیل مارے بھی ہیں۔ شاید حوثیوں کو یہ لگ رہا ہے کہ جیسے ایران کی دیگر پراکسیوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اگر وہ اس جنگ سے باہر رہتے ہیں تو بعد میں ان کی باری بھی آئے گی۔ اس لیے جنگ میں شامل ہونے کا یہ بہترین وقت ہے۔ باب المندب اور آبنائے ہرمز کا معاملہ اکٹھے طے کیا جائے، مل کر بات کی جائے، اس سے طاقت بڑھ جائے گی۔

اب سوال یہی ہے کہ پاکستان ایران امریکا لڑائی میں تو غیر جانبدار رہا۔ جس کی وجہ سے وہ آج تک ثالث ہے۔ لیکن کیا وہ باب المندب کی بندش اور سعودی عرب اور حوثیوں کی لڑائی میں بھی غیر جانبدار رہے گا۔ عملی طور پر یہ ممکن نظر نہیں آرہا۔ پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس کے علاوہ کوئی اور حل نظر نہیں آرہا۔ امریکا ایران میں مصروف ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باب المندب کھلوانے کے لیے کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن پہلی ترجیح ایران ہی ہوگا۔ ایسے میں یہ لڑائی فی الحال سعودی عرب کو خود ہی لڑنی ہوگی۔ اگر پاکستان اس لڑائی میں شریک ہوتا ہے تو پھر اس کی ثالث کی پوزیشن بھی ختم ہو جائے گی۔ ایران پاکستان کو بھی لڑائی میں فریق سمجھے گا۔ خدشہ ہے کہ پاکستان بھی نہ چاہتے ہوئے لڑائی میں شامل ہو جائے گا۔ ہم پہلے بھی ایران کو بتا چکے ہیں کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے۔ لیکن شائد حوثی پاکستان کی اس بات کو نہیں سمجھیں گے، وہ سعودی عرب پر حملے کریں گے۔

اس تناظر میں دیکھا جائے تو لڑائی وسیع ہو رہی ہے۔ ایک خطرناک منظر نامہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حوثیوں کے خلاف لڑائی میں پاکستان سعودی عرب ، یو اے ای ، امریکا اور اسرائیل مل کر لڑ رہے ہوں۔ یہ بھی لڑائی کی کوئی اچھی شکل نہیں ہوگی۔ لیکن اس کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ممکن ہے۔

متعلقہ مضامین

  • اسکردو: سیلفی بناتے کچورا جھیل میں گرے موبائل کو نکالتے ہوئے نوجوان گر کر جاں بحق
  • موبائل سم صار فین ہوشیار ، پی ٹی اے کا اہم انتباہ جار ی
  • نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
  • آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
  • موبائل کال اور انٹرنیٹ پیکجز مہنگے، صارفین پر نیا مالی بوجھ
  • کراچی: 6 سالہ بچی سے مبینہ زیادتی کرنے والا ملزم پولیس مقابلے میں مارا گیا