Express News:
2026-06-03@04:28:51 GMT

ائیر انڈیا کا جہاز کیا پائلٹ نے تباہ کیا؟

اشاعت کی تاریخ: 11th, August 2025 GMT

بھارت کے شہر، احمد آباد میں گزشتہ ماہ ایئر انڈیا کا طیارہ اڑان بھرتے ہی تباہ ہو گیا تھا۔اس حادثے میں 260 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس سانحے کے بارے میں نئی تفصیلات وسط جولائی میں سامنے آگئیں۔ان تفصیلات میں طیارہ گرنے سے قبل آخری لمحات کے دوران سینئر پائلٹ کی کارروائیوں پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔

ممتاز امریکی اخبار ، وال اسٹریٹ جرنل نے 16جولائی کو ایک رپورٹ شائع کی۔اس رپورٹ کے مطابق امریکی حکام کے قریبی ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ، شواہد کے ابتدائی جائزے یعنی دونوں پائلٹوں کے درمیان آخری گفتگو کی بلیک باکس آڈیو ریکارڈنگ سے ظاہر ہوتا ہے کہ جہاز کے کپتان نے ہوائی جہاز کے انجنوں میں ایندھن کے بہاؤ کو کنٹرول کرنے والے سوئچز کو بند کر دیا تھا۔

پچھلے ہفتے ہی انڈیا کے ایئر کرافٹ ایکسیڈنٹ انویسٹی گیشن بیورو (اے اے آئی بی) کی ابتدائی رپورٹ میں پتا چلا کہ جہاز کے دونوں انجن ایک سیکنڈ کے اندر بند ہو گئے تھے۔اس وجہ سے جہاز کی اونچائی کو فوری طور پر نقصان پہنچا جس کے نتیجے میں طیارہ احمد آباد کے ایک گنجان آباد مضافاتی علاقے میں جا گرا ۔ تاہم،اس رپورٹ میں، جس میں کہا گیا تھا کہ ایندھن پر قابو پانے والے سوئچز "کٹ آف" پوزیشن پر چلے گئے تھے،سئینر اور جونئیر، دونوں پائلٹوں کو اس واقعے کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا گیا۔بھارت میں کمرشل پائلٹوں کے دو گروپوں نے بھی ان تجاویز کو مسترد کر دیا ہے کہ ہو سکتا ہے، انسانی غلطی اس تباہی کا سبب بنی ہو۔

ایئر انڈیا کی فلائٹ کا کیا ہوا؟

12 جون کو دوپہر 1بجکر 38 منٹ پر(08:08 GMT) ایئر انڈیا کی پرواز 171 نے احمد آباد کے سردار ولبھ بھائی پٹیل بین الاقوامی ہوائی اڈے سے لندن گیٹوک ہوائی اڈے جانے کے لیے اڑان بھری ۔اس میں 230 مسافر، 10 کیبن عملہ اور دو پائلٹ سوار تھے۔

ٹیک آف کے تقریباً 40 سیکنڈ بعد ہوائی جہاز، بوئنگ 787 ڈریم لائنر کے دونوں انجن ابتدائی چڑھائی کے دوران بجلی سے محروم ہو گئے۔ اس کے بعد طیارہ رن وے سے 1.

85 کلومیٹر (1.15 میل) دور آبادی والے مضافاتی علاقے میں واقع بی جے میڈیکل کالج ہاسٹل سے ٹکرا گیا۔

طیارہ عمارت سے ٹکرانے سے ٹوٹ گیا، جس سے اس میں آگ لگ گئی۔اس آگ سے پانچ عمارتوں کے حصے جل گئے۔ ہوائی جہاز میں سوار تمام مسافروں کی موت ہو گئی سوائے ایک کے ، وشواس کمار رمیش، ایک 40 سالہ برطانوی شہری جو ہندوستانی نژاد ہے۔ زمین پر موجود 19 افراد بھی ہلاک اور 67 زخمی ہوئے۔

اے آئی بی کی رپورٹ کیا کہتی ہے؟

اے اے آئی بی بوئنگ کمپنی، امریکہ اور برطانیہ کے ماہرین کے ساتھ مل کر حادثے کی تحقیقات کر رہا ہے جو ایک دہائی میں ہوا بازی کا سب سے مہلک واقعہ کہا جاتا ہے۔ جولائی کے دوسرے ہفتے جاری ہونے والی تفتیش کاروں کی ابتدائی رپورٹ میں پتا چلا کہ طیارے کوسفر کے قابل سمجھا گیا تھا، اس کی جدید ترین دیکھ بھال کی گئی تھی اور اس میں کوئی خطرناک سامان نہیں تھا۔

لیکن رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2018ء کی یو ایس فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن ایڈوائزری نے ڈریم لائنر سمیت کچھ بوئنگ طیاروں کے فیول کنٹرول سوئچ سسٹم میں ممکنہ خامی کے بارے میں خبردار کیا تھا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ ایئر انڈیا نے سسٹم کا معائنہ نہیں کیا اور اس کے لیے ایسا کرنا لازمی نہیںتھا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ حادثے کے دوران ریکوری سسٹم چالو ہو گیا تھا لیکن ایک انجن میں صرف جزوی ریلیٹ نے جنم لیا یعنی وہ پھر چل پڑا مگر تب تک دیر ہو چکی تھی۔

دونوں انجن ٹیک آف کے فوراً بعد بند ہو گئے کیونکہ ایندھن کے سوئچز(Fuel Switches) "رن" سے "کٹ آف" پوزیشن پر منتقل ہو گئے۔ رپورٹ میں ایک بلیک باکس آڈیو ریکارڈنگ کا حوالہ دیا گیا جس میں ایک پائلٹ نے پوچھا، "آپ نے (ایندھن) کیوں کاٹ دیا؟" اور دوسرے نے ایسا کرنے سے انکار کیا۔ رپورٹ کی رو سے مقررین کی شناخت نہیں ہو سکی۔

ہنگامی اقدامات کرنے کے باوجود صرف ایک انجن جزوی طور پر دوبارہ شروع ہوا اور عمارت سے ٹکرانے سے چند لمحے پہلے اور مواصلاتی رابطہ منقطع ہونے سے پہلے "مے ڈے" کال جاری کی گئی۔

ایئر ٹریفک کنٹرول کو اس ایمرجنسی کال کے بعد کوئی جواب نہیں ملا لیکن اس نے طیارے کو ہوائی اڈے کی حدود سے باہر گرتے دیکھا۔ ہوائی اڈے کی سی سی ٹی وی فوٹیج میں فلائٹ ریکوری سسٹم میں سے ایک دکھایا گیا جسے رام ایئر ٹربائن (Ram Air Turbine) کے نام سے جانا جاتا ہے۔وہ سسٹم لفٹ آف کے فوراً بعد تعینات ہوتا ہے جس کے بعد تیزی سے نیچے اترتا دکھائی دیتا ہے۔

پائلٹ کون تھے؟

  56 سالہ کیپٹن سومیت سبھروال نے پرواز میں پائلٹ ان کمانڈ کے طور پر خدمات انجام دیں۔ وہ ایک نرم گو تجربہ کار پائلٹ تھا جس نے 15,600 سے زیادہ پرواز کے اوقات لاگ ان کیے تھے، جن میں سے 8,500 بوئنگ 787 پر تھے۔ سبھروال اپنی مخصوص طبیعت، محتاط عادات اور جونیئر پائلٹوں کی رہنمائی کے لیے جانا جاتا تھا۔

اس نے ہندوستان کے پریمیئر ایوی ایشن اسکول، اندرا گاندھی راشٹریہ یوران اکیڈمی میں تربیت حاصل کی اور وال اسٹریٹ جرنل سے بات کرنے والے دوستوں نے انہیں اچھا پائلٹ قرار دیا جواپنے کیرئیر کو بہتر سے بہتر بنانا چاہتا تھا۔ وہ ساتھ ساتھ اپنے بوڑھے والد کی دیکھ بھال بھی تندہی سے کر رہاتھا۔انھوں نے اچھے لفظوں میں اپنے ساتھی اور سول ایوی ایشن کے سابق اہلکار کو بھی یاد کیا۔

32 سالہ فرسٹ آفیسر کلائیو کنڈر حادثے کے وقت طیارے کو اڑانے والا پائلٹ تھا جبکہ سبھروال اس کی نگرانی کر رہا تھا۔کنڈر نے 3,400 سے زیادہ پرواز کے گھنٹے جمع کیے تھے جن میں ڈریم لائنر پر 1,128 گھنٹے شامل تھے۔ اڑان اس کا بچپن کا خواب تھا کہ کلائیو کنڈر کی والدہ کے بطور ایئر انڈیا فلائٹ اٹینڈنٹ کے تیس سالہ کیریئر سے ازحد متاثر تھا۔

انیس سال کی عمر میں اس نے امریکہ میں تربیت حاصل کی اور 2017 میں ایئر انڈیا میں شامل ہونے کے لیے بھارت واپس آنے سے پہلے کمرشل پائلٹ کا لائسنس حاصل کیا۔وال سٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق کلائیو کنڈر کو خاندان اور دوستوں کی طرف سے خوش کن، متجسّس اور ٹیک سیوی کے طور پر بیان کیا گیا۔ کنڈر کو ہوا بازی کا شوق تھا اور وہ بوئنگ 787 اڑانے کے لیے پُرجوش بتایا گیا۔

رپورٹ میں کیا سامنے آیا ہے؟

امریکی حکام جنہوں نے حادثے کے شواہد کی جانچ کی ،ان کے قریبی ذرائع نے وال سٹریٹ جرنل کو بتایا، کاک پٹ کی آواز کی ریکارڈنگ سے پتا چلتا ہے کہ یہ سبھروال ہی تھا جس نے ٹیک آف کے بعد فیول کنٹرول سوئچز کو "کٹ آف" پر منتقل کیا تھا، ایسا عمل جس سے دونوں انجنوں کی پاور کٹ گئی۔

سوئچز کو چند سیکنڈ بعد دوبارہ آن کر دیا گیا، لیکن بھاری بھرکم ہوائی جہاز کے لیے مکمل زور دوبارہ حاصل کرنے میں بہت دیر ہو چکی تھی۔وال سٹریٹ جرنل رپورٹ میں نامعلوم امریکی پائلٹوں کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ فلائنگ پائلٹ کے طور پر کنڈر کی ساری توجہ جہاز اڑانے پر مرکوز تھی اور اس دوران جہاز اڑانے والے پائلٹ کے لیے بالکل یہ ممکن نہیں ہوتا کہ وہ سوئچز میں ہیرا پھیری کر سکتا۔ سبھروال اس وقت نگرانی کے پائلٹ کے طور پر کردار نبھا رہا تھا اور اس کے دونوں ہاتھ آزاد تھے۔

ایندھن کو کنٹرول کرنے والے سوئچز

 پائلٹوں کی دو سیٹوں کے درمیان ،تھروٹل لیورز کے بالکل پیچھے، ایک کلیدی کاک پٹ پینل پر واقع یہ سوئچز ہوائی جہاز کے دو انجنوں میں سے ہر ایک میں ایندھن کے بہاؤ کا انتظام کرتے ہیں۔

پائلٹ زمین پر رہتے ہوئے انجن کو شروع کرنے یا بند کرنے کے لیے ایندھن کے کٹ آف سوئچ کا استعمال کرتے ہیں۔ پرواز میں پائلٹ ناکامی کی صورت میں انجن کو دستی طور پر بند یا دوبارہ شروع کر سکتے ہیں۔

 سوئچ کیسے کام کرتے ہیں؟

سوئچ دستی آپریشن کے لیے بنائے گئے ہیں۔ وہ اپنی جگہ پر مضبوطی سے رہنے کے لیے اسپرنگ سے لدے ہوتے ہیں اور فلائٹ آپریشن کے دوران حادثاتی طور پر یا ہلکے دباؤ کے ساتھ منتقل نہیں ہو سکتے۔

سوئچ کی دو سیٹنگیں ہیں: "کٹ آف" اور "رن"۔ "کٹ آف" موڈ ایندھن کو انجن تک پہنچنے سے روکتا ہے جبکہ "رن" ایندھن کے معمول کے بہاؤ کی اجازت دیتا ہے۔ پوزیشن تبدیل کرنے کے لیے پائلٹ کو سب سے پہلے سوئچ کو "رن" اور "کٹ آف" کے درمیان منتقل کرنے سے پہلے اوپر کی طرف کھینچنا ہوتا ہے۔

کیا حادثہ انسانی غلطی کی وجہ ؟

ماہرین اس بارے میں محتاط ہیں۔ امریکی ایوی ایشن تجزیہ کار ، میری شیاوو نے بھارت کے اخبار، فنانشل ایکسپریس کو بتایا کہ لوگوں کو وقت سے پہلے کوئی نتیجہ اخذ نہیں کرنا چاہیے، یہ دلیل دیتے ہوئے کہ ابھی تک پائلٹ کی غلطی کا کوئی قطعی ثبوت سامنے نہیں آیا ہے۔اس نے اسی طرح کے ایک واقعے پر روشنی ڈالی ۔اس واقعے میں 2019 میں اوساکا، جاپان جاتے ہوئے دوران پرواز آل نپون ایئر ویز بوئنگ 787 کے ایک انجن نے اچانک کام کرنا بند کر دیا تھا۔ یہ پرواز مگر پائلٹوں کی دانشمندی اور تجربے کاری کی بدولت اترنے میں کامیاب رہی۔

تفتیش کاروں کو بعد میں پتا چلا کہ طیارے کے سافٹ ویئر نے غلطی سے طیارے کے مرکزی نظام کو یہ باور کرا دیا کہ وہ زمین پر کھڑا ہوا ہے ۔اس عمل نے طیارے میں ایک سسٹم، تھرسٹ کنٹرول میں خرابی رہائش کے نظام کو متحرک کر دیا ۔اس سسٹم نے پائلٹس کی طرف سے کسی کارروائی کے بغیر خود بخود فیول سوئچ کو "رن" سے "کٹ آف" میں منتقل کرڈالا۔شیاوو خبردار کرتے ہوئے کہتی ہے، ایئر انڈیا کے حادثے میں بھی اسی طرح کی خرابی کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔اس نے گمراہ کن تشریحات سے بچنے کے لیے مکمل کاک پٹ وائس ریکارڈر (CVR) ٹرانسکرپٹ جاری کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔وہ کہتی ہے’’کاک پٹ وائس ریکارڈر کی اب تک جو گفتگو سامنے آئی ہے، وہ یہ نہیں بتاتی کہ وہ کوئی پائلٹ خودکشی کرنا چاہتا تھا۔یا وہ اپنے ساتھ سبھی مسافروں کو بھی ہلاک کرنا چاہتا تھا۔میں سمجھتی ہوں کہ کاک پٹ وائس ریکارڈر پر آوازوں، الفاظ اور آوازوں کا احتیاط سے تجزیہ کیا جانا چاہیے۔"

امریکی اخبار میں شائع شدہ رپورٹ پر انڈیا کی فیڈریشن آف انڈین پائلٹس نے تنقید کی۔ ایک عوامی بیان میں فیڈریشن نے نوٹ کیا کہ رپورٹ سی وی آر کے اقتباسات پر بہت زیادہ انحصار کرتی ہے اور اس میں جامع ڈیٹا کا فقدان ہے۔

"شفاف ڈیٹا سے چلنے والی تحقیقات سے پہلے کسی ایک پائلٹ پر الزام لگانا قبل از وقت اور غیر ذمہ دارانہ ہے۔‘‘ بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ عملے کی پیشہ ورانہ مہارت کو مجروح کرتا اور ان کے اہل خانہ کو بے جا تکلیف پہنچاتا ہے۔

ایئر انڈیا کے چیف ایگزیکٹیو، کیمبل ولسن نے وال سٹریٹ جرنل کی رپورٹ آنے کے بعد عملے پر زور دیا کہ وہ حادثے کی وجوہ کے بارے میں قبل از وقت کوئی نتیجہ نہ نکالیں، اور کہا کہ تحقیقات ابھی ختم نہیں ہوئی ہیں۔ 

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: وال سٹریٹ جرنل ہوائی جہاز ایئر انڈیا ایوی ایشن ہوائی اڈے بتایا گیا رپورٹ میں ایندھن کے کے طور پر کے دوران سے پہلے نہیں ہو گیا تھا جہاز کے کہا گیا نے وال اور اس کے لیے کے بعد ہو گئے کر دیا

پڑھیں:

سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک

حکمران اکثر یہ بات کرتے رہتے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں سرمایہ کاری درکار ہے بلکہ ایسے بیانات مسلسل آتے رہے ہیں اور آئی ایم ایف کے مطالبات پر حکومت فوری رضامندی بھی ظاہر کر دیتی ہے تاکہ قرض کی منظوری میں تاخیر نہ ہو۔ قرض منظوری کے بعد ایسے بیانات جاری ہوتے ہیں جیسے بہت بڑا معرکہ سر کر لیا ہو۔ مطلب یہ ہے کہ ہمیں قرض کے حصول کے لیے آئی ایم ایف کی ہر شرط ماننا اور بے انتہا کوشش کے بعد قرض حاصل کرنے میں کامیابی حاصل ہوتی ہے۔

ملک کو اس حالت میں پہنچایا جا چکا ہے کہ خود انحصاری کی منزل بہت دور ہوگئی ہے ۔ پاکستان کی ہر حکومت نے آئی ایم ایف کی ہر بات مانی لیکن خود انحصاری کی منزل نہ مل سکی۔ غیر سیاسی وزیر خزانہ بھی اس امید پر لائے گئے کہ ان کی کوشش سے ملک خود انحصاری کی طرف بڑھے گا اور غیر ملکی قرضوں کے مزید حصول کی کوشش نہیں ہوگی لیکن سب نے اپنا اولین مقصد مزید قرضے حاصل کرنا بنا رکھا ہے اور آئی ایم ایف کو ہر ممکن طریقے سے مزید قرض دینے پر آمادہ کرنا رہ گیا ہے ۔

اب بھی پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کا مزید قرضہ منظور کرا لیا گیا ہے جس کا حکومتی حلقے پرجوش خیر مقدم کررہے ہیں۔ ہر وزیر خزانہ کے بارے میں یہ دعویٰ سننے میں آتا رہاکہ وہ آئی ایم ایف سے معاملات طے کرنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں، لیکن معاملہ مرض بڑھتا ہی گیا جوں جوں دوا کی جیسا ہی رہا۔ آئی ایم ایف سے جان نہیں چھوٹ رہی بلکہ آئی ایم ایف مزید شرائط سخت کرتا جا رہا ہے اور حکومت کو پرانے قرضوں پر سود ادا کرنے کے لیے مزید قرضے لینا پڑ رہے ہیں۔

آئی ایم ایف اپنی ہر شرط منوا رہا ہے اور حال ہی میں آئی ایم ایف نے پٹرولیم لیوی ہدف میں 18 فی صد اضافے کا کہا ہے جب کہ حکومت نے یہ لیوی آئی ایم ایف کے مطالبے سے بھی بہت زیادہ بڑھا رہی ہے مگر آئی ایم ایف ہے کہ مطمئن ہی نہیں ہوتا۔ آئی ایم ایف نے قرض دینے کے لیے کبھی یہ شرط نہیں رکھی کہ پاکستانی حکومت اپنے شاہانہ اخراجات اور حکومتی افراد کے غیر ملکی دورے کم کرکے اپنی آمدنی کے مطابق اخراجات کم کرے تاکہ اسے مزید قرضے نہ لینا پڑیں۔

موجودہ حکومت کی طرف سے پی ٹی آئی حکومت پر الزام لگایا جاتا ہے کہ اس نے سب سے زیادہ غیر ملکی قرضے لیے اور اقتدار جاتا دیکھ کر آئی ایم ایف کو مزید ناراض کرنے کے فیصلے کیے تھے جس پر نئی حکومت کو غیر ملکی قرضوں کے حصول کے لیے سخت محنت کرنا پڑی تھی اور چار سال سے عوام سرکاری طور یہ دعوے ہی سنتے آ رہے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں غیر ملکی سرمایہ کاری چاہیے۔

یہ دعوے صرف دکھاوے کے لیے ہیں اور حکومت کی اولین ترجیح غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول رہی ہے۔ حکومت پاکستان کو قرضے مانگنے کی عادت چھوڑدینی چاہیے اور اپنے پیروں پر کھڑے ہونے اور اپنے حاصل مالی وسائل استعمال کرکے خود انحصاری کی عملی کوشش کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ ملکی صنعتوں اور غریبوں پر ٹیکسوں کی بھرمار ہے اور جو تنخواہ دار طبقہ ٹیکسز کے شکنجے میں پہلے سے پھنسا ہوا ہے اس پر اور عوام پر مزید ٹیکس بڑھا دیے گئے ہیں۔

حکومتی ٹیکسوں کی بھرمار، مہنگی بجلی و گیس پر فکسڈ چارجز لگا کر بھی حکومت مطمئن نہیں۔ عوام بجلی نہ بھی استعمال کریں اور سولر سسٹم لگائیں وہ بھی حکومت کو قبول نہیں۔ بجلی پر پہلے ہی بے شمار ٹیکس لگے ہوئے ہیں اس پر کم سے کم بجلی استعمال پر فکسڈ چارجز دو ماہ بعد ہی چھ سو سے نو سو روپے ماہانہ کر دیے گئے ہیں۔ فکسڈ چارجز سے آمدنی بڑھانے کا نیا طریقہ ایجاد کر لیا گیا ہے۔

عوام سانس لینے اور سڑکیں ضرور مفت استعمال کر رہے ہیں اور ہر چیز پر ٹیکس متعلقہ اداروں کو ادا کر رہے ہیں اور وزارت خزانہ ایک ہزار روپے معاوضہ لینے والوں سے بھی ڈیڑھ سو روپے ٹیکس لے رہا ہے اور بیس ہزار ماہانہ کمانے والوں سے بھی تین ہزار روپے لیے جا رہے ہیں جو حکومتی مظالم کی انتہا ہے پھر بھی حکومتی رونا ختم ہونے میں نہیں آتا اور عوام پر جھوٹا الزام کہ وہ ٹیکس نہیں دیتے۔

بڑے تاجروں سے انکم ٹیکس وصولی اور ہر سال اپنے اہداف وصولی میں ناکامی سرکار کا قصور ہے سرکاری ادارے اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام ثابت ہو چکے ہیں۔ حکومت دکھاوے کی حد تک سرمایہ کاری کو اپنی ترجیح قرار تو دیتی ہے مگر عملی طور ایسا نہیں کر رہی اور اس کی ترجیح اب بھی غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول ہے۔

وزیر توانائی نے کہا ہے کہ قابل تجدید توانائی کے لیے تین سو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہمیں ضرورت ہے۔ ملکی صنعتوں پر پہلے سے ٹیکسوں کی بھرمار ہے ، نئی سرمایہ کاری کہاں سے آئے گی۔ صنعتیں باہر سے کون لائے گا یہاں تو ملکی سرمایہ بیرون ملک منتقل کیا جا رہے ہے تو یہاں بیرونی سرمایہ کار کیوں آنا چاہیں گے۔ نجیبجلی کمپنیوں کو نوازنا جاری ہے ۔ ایک مخصوص طبقے کو ٹیکسوں پر چھوٹ دی جارہی ہے، جب کہ عام لوگوں کو حکومت ریلیف کیا دے گی ،اسے تو طاقتوروں کو ٹیکسوں سے چھوٹ دینے سے ہی فرصت نہیں مل رہی۔

متعلقہ مضامین

  • کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار مقرر کرنے کی سفارش
  • پنجاب حکومت کے دو پراجیکٹ ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی کی ٹاپ لسٹ میں شامل، دنیا میں پاکستان کا تشخص نمایاں ہوا: مریم نواز
  • کیا لاہور کو آؤٹ سائیڈرز نے تباہ کیا ہے؟
  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • کراچی: نجی ایئر لائن کی حج پرواز جدہ سے 15 گھنٹے کی تاخیر سے پہنچ گئی
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے