کینیڈا کے گرودوارے میں ’جمہوریہ خالصتان‘ کا بورڈ نصب، انڈیا میں ہلچل مچ گئی
اشاعت کی تاریخ: 12th, August 2025 GMT
کینیڈا کے صوبے برٹش کولمبیا میں ایک گرودوارے کے کمیونٹی سینٹر پر ’جمہوریہ خالصتان‘ کا سفارتخانہ کا بورڈ نصب کر دیا گیا ہے، جہاں 2023 میں خالصتانی رہنما ہردیپ سنگھ نجر کو قتل کیا گیا تھا۔ یہ اقدام دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی بحالی میں رکاوٹ سمجھا جا رہا ہے۔
انڈیا اور کینیڈا کی طرف سے اس معاملے پر ابھی تک کوئی باضابطہ ردعمل نہیں آیا، تاہم انڈین میڈیا میں اس کی کوریج جاری ہے اور سوشل میڈیا پر بھی اسے خوب چرچا مل رہا ہے۔
مزید پڑھیں: صدر ٹرمپ کا گروپتونت سنگھ کو خط، ’ خالصتان تحریک کو نئی تقویت
ہردیپ سنگھ نجر کے قتل کے بعد سے دونوں ممالک کے تعلقات کشیدہ ہیں اور انڈیا کا موقف ہے کہ کینیڈا کی سرزمین پر خالصتان تحریک کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ کینیڈا کی حکومت پر بھی الزام ہے کہ وہ اس سرگرمی کو روکنے میں ناکام رہی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس واقعے سے دونوں ممالک کے تعلقات میں مزید تلخی پیدا ہو سکتی ہے، خاص طور پر اس وقت جب حال ہی میں انڈین وزیر اعظم کا کینیڈا کا دورہ دونوں ملکوں کے تعلقات کو بہتر بنانے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا تھا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
’جمہوریہ خالصتان‘ بھارت کینیڈا مودی ہردیپ سنگھ نجر.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: جمہوریہ خالصتان بھارت کینیڈا ہردیپ سنگھ نجر
پڑھیں:
آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
امریکی سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں ایرانی ’جوہری پروگرام (Irani atomic programme)کے وہ پہلو بھی شامل ہیں، جس کا وہ (ایران) ایک مہینے یا سال قبل تک ذکر کرنے سے بھی انکار کر رہا تھا۔‘
امریکی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نہ صرف زندہ ہیں بلکہ بظاہر تیزی سے سرگرم بھی ہو رہے ہیں۔
مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کو بتایا کہ ’میرے خیال میں اس بات کے آثار ہیں کہ وہ کسی نہ کسی سطح پر بڑھتا ہوا کردار ادا کر رہے ہیں۔
ایرانی ٹیلی ویژن کے مطابق، مجتبیٰ خامنہ ای کو 20 مارچ کے بعد سے عوامی سطح پر نہیں دیکھا گیا۔
وہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کی پہلی لہر میں زخمی ہوئے تھے۔ ان کے والد علی خامنہ ای بھی اسی حملے میں مارے گئے تھے۔
مزید پڑھیں:عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر کے دفتر میں بین الاقوامی امور کے نائب نے ایک ماہ قبل کہا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت بالکل ٹھیک ہے اور وہ ’معاملات کے انتظام میں مصروف‘ ہیں۔