قطر کے ایئر بیس پر امریکی فوجیوں کے سامنے صدر ٹرمپ کا رقص؛ ویڈیو وائرل
اشاعت کی تاریخ: 15th, May 2025 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے دوسرے دورِ اقتدار کے مشرق وسطیٰ کے پہلے دورے پر سعودی عرب کے بعد قطر پہنچے۔
عرب میڈیا کے مطابق اس دورے میں امریکا اور قطر کے درمیان بیش بہا اور تاریخی نوعیت کے تجارتی معاہدے طے پاگئے۔
امریکی صدر نے قطر میں واقع العدید ائیر بیس بھی گئے اور وہاں تعینات امریکی فوجیوں سے خطاب بھی کیا۔
اس موقع پر ٹرمپ کی صدارتی مہم کے دوران مقبول ہونے والا پارٹی نغمہ چلایا گیا جس پر کچھ لمحوں کے لیے امریکی صدر نے اپنا روایتی رقص بھی کیا۔
اس دوران امریکی فوجی تالیاں بجاتے رہے اور ٹرمپ بھی قطر کے ساتھ 42 ارب ڈالر کے تجارتی معاہدوں خوشی سے نہال نظر آ رہے تھے۔
THE TRUMP DANCE MAKES AN APPEARANCE ???????????????? pic.
اس رقص کو اب ٹرمپ ڈانس کے نام سے جانا جاتا ہے جسے صدارتی انتخابات کی مہم کے دوران دنیا بھر میں مقبولیت حاصل ہوئی تھی۔
ٹرمپ کے اس نغمے پر کیے گئے رقص کی ویڈیو دیکھتے ہی دیکھتے سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔
امریکی صدر کے حامیوں نے اس ڈانس کو فتح کا رقص قرار دیا اور صدر ٹرمپ کے لیے اپنی بھرپور حمایت کا یقین دلایا۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: امریکی صدر
پڑھیں:
ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
واشنگٹن (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 24 جولائی2026ء) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے یورپی یونین جیسے گروپوں اور ممالک سمیت 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی مصنوعات پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے ٹیرف نافذ کر دیئے۔ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی تجارتی نمائندے جیمی سن گریئر نے بیان میں کہا ہےکہ نئی ڈیوٹیز امریکی تجارتی قانون 1974 کے سیکشن 301 کے تحت نافذ کی گئی ہیں اور ان کا اطلاق امریکی درآمدات کے تقریباً 99.4 فیصد حصے پر ہوگا، تاہم تیل و گیس، کھاد اور بعض غذائی اشیاء سمیت متعدد مصنوعات کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ان ممالک میں یورپی یونین،جاپان، جنوبی کوریا، تائیوان، سوئٹزرلینڈ، کینیڈا، بھارت ، برطانیہ، میکسیکو اور دیگر شامل ہیں۔(جاری ہے)
جیمی سن گریئر نے کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور اس پر سختی سے عمل درآمد کرتا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی ایسے ہی موثر اقدامات کریں۔
امریکا نے ارجنٹائن، بنگلہ دیش، برطانیہ، کمبوڈیا، کینیڈا، ایکواڈور، ایل سلواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، بھارت، انڈونیشیا، اردن، ملائیشیا، میکسیکو ،سری لنکا، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو سمیت متعدد ممالک پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا ہے۔ دوسری جانب یورپی یونین، تائیوان، جاپان، جنوبی کوریا اور سوئٹزرلینڈ پر پہلے سے موجود درآمدی محصولات کو مدنظر رکھتے ہوئے مجموعی ٹیرف 10 یا 12.5 فیصد مقرر کیا گیا ہے جبکہ باقی 38 ممالک پر 12.5 فیصد شرح نافذ کی گئی ہے جن میں چین اور ویتنام بھی شامل ہیں۔ امریکا کے اس اقدام پر متعدد ممالک نے فوری ردِعمل دیتے ہوئے احتجاج کیا۔ یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کاجا کیلس نے کہا کہ یورپی بلاک اس اقدام کو ایک غیر متوقع دھچکا سمجھتا ہے اور امریکا کی جانب سے پیش کی گئی اس کی توجیہ ناقابلِ فہم ہے۔