پاکستان نے 5نہیں ،6بھارتی طیارے مارگرائے، وزیر اعظم شہباز شریف کی تصدیق
اشاعت کی تاریخ: 15th, May 2025 GMT
پاکستان نے 5نہیں ،6بھارتی طیارے مارگرائے، وزیر اعظم شہباز شریف کی تصدیق WhatsAppFacebookTwitter 0 15 May, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (سب نیوز)وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف نے کہا ہے پاک فضائیہ کی جانب سے بھارت کے 5 نہیں بلکہ 6 طیارے مارگرائے گئے ہیں۔
وزیراعظم نے آج کامرہ ائیربیس کا دورہ کیا جس میں وزیراعظم کے ہمراہ آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر ، ائیرچیف مارشل ظہیراحمد بابرسدھو ، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور وزیر دفاع خواجہ آصف بھی موجود تھے۔وزیر اعظم نے دشمن کی برتری کی خوش فہمی کو خاک میں ملانے والے پاک فضائیہ کے شاہینوں سے ملاقات کی اور ان سے خطاب کیا۔
اپنے خطاب میں وزیر اعظم نے کہا کہ قوم کو یہ بتاسکتا ہوں کہ بلا خوف تردید 5 نہیں شاہینوں نے 6 جہاز مار گرائے ہیں۔شہباز شریف نے کہا کہ چند گھنٹوں میں پاک فوج نے بہادری کی وہ تاریخ رقم کی جو قیامت تک پڑھی جائے گی، 10 گھنٹے سے بھی کم وقت میں دشمن کو آپ نے مات دی۔اپنے خطاب میں وزیر اعظم نے کہا کہ فضائیہ کے شاہینوں کو عظیم کامیابی پرمبارکباد پیش کرتا ہوں، جوانوں نے جنگ میں دشمن کے دانت توڑے اور غرور کو خاک میں ملایا۔
وزیر اعظم نے کہا کہ 6 سے 10 مئی تک دنیا کو پاک فضائیہ نے اپنی اعلی ترین مہارت سے حیرت میں ڈالا، پاکستان کی تاریخ میں اس سے زیادہ شاندار فتح ہمیں پہلے نصیب نہیں ہوئی تھی۔شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان کی کامیابی نے خطے میں طاقت کے توازن کو تبدیل کیا، دشمن کو پیغام مل گیا کہ اگر دوبارہ ہماری طرف میلی آنکھ سے دیکھا تو پاں تلے روند دیں گے۔وزیر اعظم نے مزید کہا کہ ہمارے جوانوں نے دنیا کی سوچ بدل کر رکھی دی، 10 مئی کو دنیا میں ایک ہی آواز اٹھی کہ جنگ پاکستان نے تکنیکی مہارت سے جیتی۔
وزیر اعظم شہباز کا کہنا تھا کہ بھارت نے اربوں ڈالر خرچ کرکے جنگی آلات خریدے اور تاثر دیا کہ وہ اس خطے میں تھانیدار ہے، 10 مئی کو اس نام نہاد تھانیدار کا بت آپ نے پاش پاش کردیا، بھارت اب رہتی دنیا تک اس گھمنڈ اور غرور میں مبتلا نہیں ہوگا۔شہباز شریف نے کہا کہ پوری دنیا میں آج پاکستان کے پرچم کو احترام سے دیکھا جارہا ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبربھارت تمہارے جنگی جنون کا بخار اتر چکا، اب امن کی بات کرو، ہم تیار ہیں، وزیراعظم بھارت تمہارے جنگی جنون کا بخار اتر چکا، اب امن کی بات کرو، ہم تیار ہیں، وزیراعظم بڑے ریلوے اسٹیشنز پر وائی فائی کی سہولت فراہم کرنے کا فیصلہ پاکستان نے بھارت کو شکست دے کر غزہ کا بدلہ لے لیا، مولانا فضل الرحمان کوہستان کرپشن، تحقیقات کیلئے وزیراعلی کی سربراہی میں کمیٹی بنانے کا فیصلہ بنیان مرصوص، سینیٹ میں افواج پاکستان کو خراج تحسین پیش کرنے کی قرارداد متفقہ منظور ریاستی اداروں کیخلاف نفرت انگیز اور گمراہ کن پروپیگنڈے میں ملوث ملزمان کیخلاف مقدمات درجCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: پاکستان نے شہباز شریف
پڑھیں:
بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو مؤثر جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت خود امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ۔
قرارداد 2788 کے تناظر میں تنازعات کے پرامن حل پر مباحثے کے دوران پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حق جواب میں کہا کہ ایک وفد نے تنازعات کے پُرامن حل پر ہونے والی بحث کو حقائق مسخ کرنے، انکار اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ؛ بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارت خود جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، مگر آج اسی کونسل کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔ قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔ ایک طرف سیاسی آزادی ہے، دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے بے اعتنائی کا مظہر ہے۔
پاکستانی مندوب نے حق جواب میں کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے؛ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد حقیقی ہے۔
قونصلر صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کیس اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔ بھارت میں ہندوتوا پر مبنی انتہا پسند نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کا رنگ دے دیا ہے، جبکہ اقلیتیں امتیازی سلوک اور جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی اور جارحیت کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دی۔ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ انکار یا ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری سے ہو کر گزرتا ہے۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے معاہداتی وعدے پورے کرے اور جموں و کشمیر تنازع کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرے۔