وزیرِ اعظم کا حالیہ بحران میں پاکستان کیساتھ یکجہتی اور حمایت پر آذربائیجان کے صدر کا شکریہ ادا کیا
اشاعت کی تاریخ: 15th, May 2025 GMT
—فائل فوٹو
وزیرِ اعظم شہباز شریف اور آذربائیجان کے صدر الہام علیوف کے درمیان ٹیلی فون پر گفتگو ہوئی، اس دوران وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے حالیہ بحران میں پاکستان کے ساتھ یکجہتی اور حمایت پر آذربائیجان کے صدر کا شکریہ ادا کیا۔
وزیرِاعظم نے کہا کہ مستقل حمایت پاکستانی عوام سے بےپناہ محبت اور پیار کا ایک اور مظہر ہے۔
آذربائیجانی صحافی احمد شاہدوف کا کہنا ہے کہ بھارت کی جانب سے آذربائیجان کے سیاحتی بائیکاٹ کی دھمکیاں ملنے کے باوجود بھی آذربائیجان مضبوطی سے پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے۔
شہباز شریف نے پاکستان کے ساتھ اظہار یکجہتی پر آذربائیجان کے برادر عوام کا بھی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ایک بار پھر دونوں ممالک کے درمیان پائیدار اور دیرینہ دوستی کا اظہار ہوا ہے، دونوں ملک ہمیشہ سچے بھائیوں کی طرح ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہے ہیں۔
وزیرِاعظم نے صدر علیوف کو جلد پاکستان کا سرکاری دورے کی دعوت کی تجدید کی جبکہ آذربائیجان کے صدر الہام علیوف نے دورے کی دعوت قبول کر لی۔
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے صدر علیوف نے پاکستان کی شاندار کامیابی پر وزیرِ اعظم شہباز شریف کو مبارکباد دی اورامن کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہا۔
انہوں نے کہا کہ آذربائیجان پاکستان کے ساتھ برادرانہ تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے پُرعزم ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: آذربائیجان کے صدر پاکستان کے ساتھ شہباز شریف پاکستان کی
پڑھیں:
بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم
احمد جواد، چیف آرگنائزر پاکستان بزنس فورم۔پاکستان بزنس فورم نے حکومت سے بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کا مطالبہ کیا ہے۔ فورم کے چیف آرگنائز احمد جواد نے کہا کہ انتخابات کے بعد حکومت کا تیسرا بجٹ ہے، اس بجٹ میں حکومت معاشی سمت واضح کرے۔
احمد جواد نے مزید کہا کہ اس وقت ریجن میں ہماری کاروباری لاگت 34 فیصد سے زیادہ ہے، توقع ہے آنے والا بجٹ گروتھ کی طرف ہوگا، موجودہ ٹیکسز میں کمی ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت بزنس کمیونٹی مایوسی کا شکار ہے، کاروبار بند ہو رہے ہیں۔
احمد جواد نے کہا کہ کاروبار بند ہونے سے بزنس کمیونٹی کو بچا لیا جائے۔ پاکستان بزنس فورم کے چیف آرگنائزر کا کہنا تھا کہ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ بجلی اور گیس بلوں کے یونٹ کو مسابقتی ریٹ پر لایا جائے تاکہ بلز برداشت ہوسکیں۔