ہمیں خطرہ محسوس ہورہا ہے بھارت کی طرف سے یہ سیز فائر جاری نہ رہے، بلاول بھٹو
اشاعت کی تاریخ: 15th, May 2025 GMT
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ عوامی بیانات اپنی جگہ، اس وقت پاکستان اور بھارت میں سیز فائر موجود ہے، ہمیں خطرہ محسوس ہورہا ہے کہ بھارت کی طرف سے یہ سیز فائر جاری نہ رہے۔
جیو نیوز کے پروگرام کیپٹل ٹاک میں گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان نے اس پورے عمل میں ظاہر کیا کہ ہم جنگ نہیں چاہتے، لیکن اپنی دفاع کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ مذاکرات میں مسئلہ کشمیر بھی شامل ہے جو پاکستان کی بڑی کامیابی ہے، بھارت کا مؤقف تھا کہ مقبوضہ کشمیر ان کا اندرونی مسئلہ ہے، بیانیہ کے لحاظ سے پاکستان کو بہت زیادہ کامیابیاں ملیں۔
پی پی پی چیئرمین نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ سیز فائر قائم رہے اور یہ امن کی بنیاد بنے، ہم چاہتے ہیں کہ مسئلہ کشمیر سمیت تمام تنازعات مذاکرات سے حل کریں، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور دونوں ممالک کے وزرائے اعظم کے لیے اس وقت ایک بڑا امتحان ہے، موجودہ صورتحال میں چین، ترکیہ، سعودی عرب کا کردار فراموش نہیں کیا جا سکتا۔
وزیر اعظم نے دشمن کی برتری کی خوش فہمی کو خاک میں ملانے والے پاک فضائیہ کے شاہینوں سے ملاقات کی
بلاول بھٹو نے مزید کہا کہ وزیراعظم نے پہلے دن کہا ہے کہ پہلگام واقعہ پر غیر جانبدار تحقیقات کے لیے تیار ہیں، ہمارے ہاں بھی دہشتگردی کے واقعات ہوئے ہیں جن کا الزام بھارت پر ہے، بھارت نے دریائے سندھ پر حملہ کیا ہے، ماضی میں کبھی پانی کو ایسے ہتھیار نہیں بنایا گیا، یقین ہے کہ مذاکرات میں سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی پر بھی بات ہوگی، نئے معاہدوں کے لیے ضروری ہے کہ ہم پرانے معاہدوں پر عمل درآمد کریں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے بھارت کے 6 جہاز گرائے، رافیل گرا کر تاریخ رقم کی، بھارت تو کہتا تھا کہ پاکستان سے بات چیت نہیں کرنی، آج بھارت مذاکرات پر تیار ہے تو یہ پاکستان کی کامیابی ہے، چار پانچ دن جو پاک بھارت جنگ رہی اس میں پاکستان کامیاب ہوا، پاکستان اور بھارت دونوں ایٹمی ممالک ہیں جنگ کسی کے حق میں نہیں، دونوں ممالک کے وزرائے اعظم میں کامیاب وہ ہوگا جو امن کی طرف جائے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ عالمی بینک نے سندھ طاس معاہدہ کی معطلی سے متعلق بھارتی مؤقف مسترد کر دیا،
پی پی پی چیئرمین نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کے پانی کے حق کا ہم پہلے سے ہی دفاع کرتے آرہے ہیں، نئی کینالز پر ہمارا موقف ہے کہ مشاورت کے بغیر نہ بنائے جائیں، پیپلز پارٹی پانی اور کینالز کے معاملے پر شروع سے آواز اٹھاتی رہی ہے، کینالز پر یکطرفہ فیصلہ رہتا تو ہمارا حکومت کے ساتھ رہنا مشکل ہوتا، یہ کامیابی ہے کہ فیصلہ ہوا کہ نئے کینالز اگر بنیں گے تو مشاورت سے بنیں گے۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ اسرائیل پر پاکستان کا موقف دنیا کے سامنے ہے اس میں کوئی تبدیلی آئی ہے نہ آسکتی ہے، اسرائیل سے متعلق ہماری پالیسی قائداعظم کے وقت سے چلی آرہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: بلاول بھٹو کہ پاکستان نے کہا کہ سیز فائر
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :