پاکستانی بدمعاشوں نے بھاری رشوت دے کر بھارت کو گھٹیا جہاز بکوا دیئے: سابق بھارتی جج کا طنز
اشاعت کی تاریخ: 15th, May 2025 GMT
نئی دہلی (نیوز ڈیسک)پاکستانی فوج کے ہاتھوں شکست کے بعد بھارتی سپریم کورٹ کے سابق جج مرکنڈے کاٹجو نے سوشل میڈیا پر طنزیہ اور مضحکہ خیز انداز اپنا لیا۔
نجی ٹی وی کے مطابق سوشل میڈیا پر جاری پیغام میں بھارتی سپریم کورٹ کے سابق جج مرکنڈے کاٹجو نے لکھا کہ سب پاکستانیوں کی حرکت ہے۔مرکنڈے کاٹجو نے سوشل میڈیا پوسٹ میں مزید لکھا کہ اِن بدمعاشوں نے ڈیسالٹ کمپنی کو بھاری رشوت دے کر بھارت کو گھٹیا جہاز بکوا دیئے جسے جنگ میں چینی ہوائی جہازوں نے مار گرایا۔
یاد رہے کہ آپریشن’’ بنیان مرصوص‘‘ کے تحت پاکستان نے بھارت میں متعدد اہداف کو نشانہ بناتے ہوئے ادھم پور ایئربیس، پٹھان کوٹ ایئربیس اور سرسہ ایئربیس کے علاوہ سورت گڑھ ایئرفیلڈز، براہموس سٹوریج سائٹ، بھارتی بریگیڈ ہیڈکوارٹرزکے جی ٹاپ اور اڑی میں سپلائی ڈپو سمیت 12 اہداف کو تباہ کردیا تھا۔
بھارت کی جانب سے 7 مئی کی رات پاکستان پر جب فضائی حملہ کیا گیا تو پاکستان نے بروقت اور مؤثر جواب دیتے ہوئے رات کی تاریکی میں میزائل حملوں کے ذریعے معصوم شہریوں کو نشانہ بنانے والے بھارت کے 5 جنگی طیارے پاک فضائیہ نے مار گرائے جس میں جدید طرز کا فرانسیسی جنگی طیارہ رافیل بھی شامل تھا۔
مزیدپڑھیں:میری ترجیح تنازعات کا خاتمہ ہے ،شروع کرنا نہیں،سمجھتا ہوں پاکستان اور بھارت کا تنازع حل ہو گیا ،ٹرمپ
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
پڑھیں:
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔
کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔