صدر ٹرمپ نے خطے کو ہولناک تباہی سے بچا کر انسانیت کی خدمت کی، وزیر داخلہ
اشاعت کی تاریخ: 16th, May 2025 GMT
صدر ٹرمپ نے خطے کو ہولناک تباہی سے بچا کر انسانیت کی خدمت کی، وزیر داخلہ WhatsAppFacebookTwitter 0 16 May, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(آئی پی ایس) وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا ہے کہ دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان سیز فائر کا کریڈٹ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو جاتا ہے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خطے کو ہولناک تباہی سے بچا کر انسانیت کی خدمت کی ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے امریکا کی قائم مقام سفیر نیٹلی بیکر کی اہم ملاقات ہوئی جس میں باہمی دلچسپی کے امور، پاک امریکا تعلقات اور دوطرفہ تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال ہوا جبکہ پاک بھارت جنگ بندی کے بعد کی صورتحال پر بھی بات چیت ہوئی۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے پاک بھارت جنگ بندی میں کلیدی کردار پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور سفیر کا شکریہ ادا کیا۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ پاکستان کی قیادت سے متعلق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مثبت خیالات کا خیر مقدم کرتے ہیں، امریکا کے ساتھ باہمی تعاون کو مزید فروغ دینا چاہتے ہیں۔
قائم مقام امریکی سفیر نیٹلی بیکر کا کہنا تھا پاکستان کے ساتھ بہترین تعلقات ہیں، امریکا مختلف شعبوں میں پاکستان کے ساتھ تعاون جاری رکھے گا۔
ملاقات کے دوران وفاقی سیکریٹری داخلہ خرم آغا بھی اس موقع پر موجود تھے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپاکستان کی حمایت : بھارت نے ترکیہ کی ایئرپورٹ کمپنی پر پابندی لگا دی آپریشن بُنْيَانٌ مَّرْصُوْصٌ، معرکہ حق میں تاریخی فتح پر ملک بھر میں یوم تشکر منایا جا رہا ہے پی ٹی آئی رہنماوں کو اڈیالہ جیل میں قید بانی سے ملاقات کی اجازت نہیں مل سکی ججز تبادلہ اور سنیارٹی کیس،5ججز نے تحریری جواب سپریم کورٹ میں جمع کرادیا پاکستان اور بھارت کے درمیان سیزفائر کی خلاف ورزی پورے خطے کیلئے خطرناک ہوگی،بلاول بھٹو کی وارننگ براہموس میزائلوں کے ڈپو کی تباہی کے پاکستانی موقف کی تصدیق ہوگئی پاکستان نے 5نہیں ،6بھارتی طیارے مارگرائے، وزیر اعظم شہباز شریف کی تصدیقCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ وزیر داخلہ
پڑھیں:
ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔
میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔
ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔
تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔
اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔
ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔
گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔
مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔