عرب لیگ کے اجلاس کیبعد تہران جاونگا، عراقی وزیر خارجہ
اشاعت کی تاریخ: 16th, May 2025 GMT
اپنے ایک بیان میں فواد حسین کا کہنا تھا کہ امریکہ اس بات پر زور دیتا ہے کہ ایران سے تیل اور گیس کی خرید کا مطلب تہران کی مالی مدد ہے جسے روکنا چاہئے۔ اسلام ٹائمز۔ عراقی وزیر خارجہ "فواد حسین" نے کہا کہ بغداد مکمل طور پر ایران-امریکہ غیر مستقیم مذاکرات کی تفصیلات سے آگاہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان مذاکرات کی ناکامی کے بھیانک نتائج ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ، بغداد پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ وہ ایران سے گیس درآمد کرنے سے باز رہے۔ فواد حسین نے کہا کہ امریکہ اس بات پر زور دیتا ہے کہ ایران سے تیل اور گیس کی خرید کا مطلب تہران کی مالی مدد ہے جسے روکنا چاہئے۔ انہوں نے اس بات کا بھی اظہار کیا کہ میں عرب لیگ کے اجلاس کے بعد ایرانی حکام سے ملاقات و بات چیت کے لئے تہران جاوں گا۔ عراقی وزیر خارجہ نے کویت کے ساتھ سرحدی حد بندی کے بارے میں کہا کہ بغداد اور کویت کے درمیان اچھے تعلقات ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان خصوصی کمیٹیاں ہیں جو باقاعدگی سے ملاقاتیں کرتی ہیں۔ واضح رہے کہ عرب لیگ کا 34 واں سربراہی اجلاس 17 مئی 2025ء کو عراق کی میزبانی میں منعقد ہو گا۔ قابل غور بات یہ ہے کہ اب تک عرب ممالک کے بعض حکام اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل "انٹونیو گوترش" سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے بغداد پہنچ چکے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: نے کہا کہ
پڑھیں:
برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات ترجیح ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف
وزیرِ اعظم شہباز شریف—فائل فوٹووزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ صنعتی مصنوعات کی پیداوار میں اضافے سے برآمدات بڑھانے کے لیے مؤثر پالیسی اقدامات ترجیح ہیں۔
وزیرِاعظم کی زیرِ صدارت سرمایہ کاری میں اضافے، شعبہ جاتی اصلاحات اور پالیسی اقدامات پر جائزہ اجلاس ہوا جس میں متعلقہ وزارتوں کی جانب سے مختلف زیرِغور پالیسی تجاویز پر بریفنگ دی گئی۔
اجلاس میں وفاقی وزراء اسحاق ڈار، محمد اورنگزیب، احد چیمہ، عطاء تارڑ شریک ہوئے۔
نوجوانوں کو جدید علم اور مہارتوں سے آراستہ کرنا وقت کی ضرورت ہے، اے آئی کے فوائد اور چیلنجز دونوں ہیں: شہباز شریف
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِاعظم شہباز شریف نے کہا کہ ملکی معیشت کی پائیدار ترقی کے لیے صنعت کا فروغ اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ توانائی کی ضروریات متبادل توانائی ذرائع سے پوری کرنے کے لیے بھر پور کام ہو رہا ہے۔
وزیرِ اعظم کا مزید کہنا ہے کہ توانائی بچانے اور سستی ٹرانسپورٹ کے لیے الیکٹرک وہیکلز پالیسی ضروری ہے۔
وزیرِاعظم شہباز شریف نے یہ بھی کہا کہ تمام اصلاحات اور اقدامات میں انتظامی شفافیت اور بہترین کارکردگی اولین ترجیح ہے۔