ملک بھر میں شدید گرمی؛ ہیٹ ویو برقرار، درجہ حرارت 48 ڈگری تک پہنچ گیا
اشاعت کی تاریخ: 16th, May 2025 GMT
ملک کے بیشتر علاقے ان دنوں شدید گرمی کی لپیٹ میں ہیں، جہاں درجہ حرارت معمول سے کئی ڈگری زیادہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔
محکمہ موسمیات نے آئندہ چند دنوں میں موسم میں مزید شدت آنے کی پیش گوئی کر دی ہے جب کہ متعلہقہ ادارے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایات جاری کر چکے ہیں۔
محکمہ موسمیات کے مطابق ملک کے بالائی و میدانی علاقوں میں درجہ حرارت معمول سے 5 سے 7 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ رہنے کا امکان ہے، جو کہ ہیٹ ویو کی سنگین صورت اختیار کر سکتا ہے۔
گزشتہ روز سندھ کے علاقے دادو اور بلوچستان کے تربت میں درجہ حرارت 48 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا، جو رواں سال کا اب تک کا بلند ترین درجہ حرارت شمار کیا جا رہا ہے۔ اسی طرح ڈیرہ غازی خان میں پارہ 47 ڈگری، بھکر، بہاولنگر، رحیم یار خان اور نوکنڈی جیسے شہروں میں 46 ڈگری ریکارڈ کیا گیا۔
پنجاب میں بھی سورج نے گویا آگ برسانا شروع کر دیا ہے۔ لاہور سمیت صوبے کے کئی علاقوں میں گرم اور خشک موسم کا راج ہے۔ لاہور میں درجہ حرارت کم سے کم 28 اور زیادہ سے زیادہ 43 ڈگری تک پہنچنے کی پیشگوئی کی گئی ہے۔
محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ اگلے 2 سے 3 روز تک موسم میں کسی قسم کی بارش کی کوئی امید نہیں ہے۔
پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے صوبے بھر میں ہیٹ ویو الرٹ جاری کر رکھا ہے۔ ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق 19 مئی تک پنجاب کے میدانی اور شہری علاقوں میں درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافے کا خدشہ موجود ہے، جو انسانی صحت کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے۔
موسمیات اور طبی ماہرین نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ دوپہر کے وقت غیر ضروری طور پر باہر نہ نکلیں، سر کو ڈھانپ کر رکھیں اور پانی و دیگر مشروبات کا زیادہ استعمال کریں تاکہ جسم میں نمی کی کمی نہ ہو۔
محکمہ موسمیات نے پہلے ہی تنبیہ کر دی ہے کہ 20 مئی تک ملک کے بیشتر علاقوں میں ہیٹ ویو کی شدت برقرار رہے گی، اس لیے عوام کو موسم کی شدت سے بچنے کے لیے احتیاطی تدابیر اپنانے کی اشد ضرورت ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: محکمہ موسمیات علاقوں میں ہیٹ ویو
پڑھیں:
آسام میں سیلاب سے 50 افراد ہلاک، 7 لاکھ بےگھر
بھارت کی ریاست آسام میں شدید مون سون بارشوں اور سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی ہے۔
تازہ اطلاعات کے مطابق شدید سیلابی صورتحال سے کم از کم 50 افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور تقریباً 7 لاکھ افراد بے گھر ہوگئے ہیں۔
دریائے برہم پترا کے پانی میں اضافے سے تقریباً 900 دیہات زیرِ آب آ گئے ہیں۔ تقریباً 3 لاکھ افراد کو سرکاری ریلیف کیمپوں میں منتقل کیا گیا ہے، جبکہ کئی علاقوں میں خوراک اور امدادی سامان ہیلی کاپٹروں کے ذریعے پہنچایا جا رہا ہے۔
ریاستی دارالحکومت گوہاٹی سمیت متعدد علاقوں میں سڑکیں زیرِ آب آنے سے آمدورفت شدید متاثر ہوئی ہے، جبکہ امدادی اور ریسکیو کارروائیاں جاری ہیں۔ حکام کے مطابق مسلسل بارشوں اور دریا کی بلند سطح کے باعث صورتحال بدستور تشویشناک ہے اور متاثرہ علاقوں میں مزید امدادی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔