کوئی کشمیریوں سے بات نہیں کر رہا ہے، میرواعظ عمر فاروق
اشاعت کی تاریخ: 16th, May 2025 GMT
حریت کانفرنس کے چیئرمین نے کہا کہ بھارت اور پاکستان کیلئے یہ ایک زمینی تنازع ہے لیکن کشمیر کے عوام کیلئے، جو روز اس حقیقت کو جھیلتے ہیں یہ ایک ایسا ناسور ہے جو بھرنے کا نام نہیں لیتا۔ اسلام ٹائمز۔ میرواعظ کشمیر مولوی محمد عمر فاروق نے کہا کہ جموں و کشمیر کے عوام جنگ نہیں بلکہ امن چاہتے ہیں، ہم حل چاہتے ہیں نہ کہ اس تنازع کا تسلسل۔ انہوں نے کہا کہ ہماری پُرزور توقع ہے کہ ڈی جی ایم اوز کی جانب سے حال ہی میں 18 تاریخ تک کے لئے اعلان کردہ جنگ بندی مستقل نوعیت اختیار کرے۔ انہوں نے کہا کہ یہ حیرت کا مقام ہے کہ جب دونوں فریقوں کے ڈی جی ایم اوز آپس میں بات کرسکتے ہیں اور کسی نتیجے پر پہنچ سکتے ہیں، تو بھارت اور پاکستان کی قیادت کے لئے کیا چیز مانع ہے، مگر آج کل سچ بولنا اور حقیقت کا اظہار بھی غداری سمجھا جاتا ہے۔ میرواعظ عمر فاروق نے کہا کہ دنیا کی نظروں میں کشمیر ایک ایٹمی فلیش پوائنٹ ہے جو کسی بھی وقت پھٹ سکتا ہے لیکن بھارت اور پاکستان کے لئے یہ ایک زمینی تنازع ہے لیکن جموں و کشمیر کے عوام کے لئے، جو روز اس حقیقت کو جھیلتے ہیں یہ ایک ایسا ناسور ہے جو بھرنے کا نام نہیں لیتا۔ انہوں نے کہا کہ کب تک ہم یوں ہی تکلیف میں جیتے رہیں گے، کب تک ہم خوف اور غیر یقینیت کے سائے میں زندہ رہیں گے۔
میرواعظ عمر فاروق نے سوال کیا کہ آج جب سب کشمیر کے بارے میں بات کر رہے ہیں لیکن کوئی کشمیریوں سے بات نہیں کر رہا ہے ان لوگوں سے جو یہاں رہتے ہیں، ہم اپنے لئے کیا چاہتے ہیں، ہماری اگلی نسلوں کے لئے ہمارے خواب کیا ہیں، ہمارا امن کے لئے ترسنا کب ختم ہوگا اور کیا ہمارے زخم کبھی بھر سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہر بار اس طرح کے واقعات مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا دیتا ہے۔ عسکری برتری کی کوشش تباہی لاتی ہے، جیسا کہ ہم نے دیکھا اور صرف اسلحہ کی فروختگی میں اضافہ ہوتا ہے نہ کہ امن کے قیام میں لیکن سوال یہ ہے کہ کیا بھارت اور پاکستان واقعی امن چاہتے ہیں یا صرف ایک دوسرے کے تئیں برتری کی دوڑ میں مصروف ہیں، کشمیری عوام یہی سوچتے ہیں۔
میرواعظ کشمیر ڈاکٹر مولوی محمد عمر فاروق نے گزشتہ جمعہ حکام کی جانب سے نظر بندی کے بعد آج جامع مسجد سرینگر میں نماز جمعہ سے قبل عوام کے ایک بھاری اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ دنوں میں ہم ایک اور اذیت ناک تجربے سے گزرے جو اس پرانے اور سلگتے ہوئے تنازع نے پیدا کیا جس نے دو ایٹمی طاقتوں کو ہمہ گیر جنگ کے دہانے تک پہنچا دیا تھا۔ صرف محدود کشیدگی ہی ان لوگوں کی زندگیاں برباد کرنے کے لئے کافی تھی جو لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف رہتے ہیں۔ درجنوں قیمتی جانیں ضائع ہوئیں، گھر اور روزگار تباہ ہوگئے۔ بارہ سالہ جڑواں بچے زین اور عروہ کی مسکراتی ہوئی تصویر ہمیشہ کے لئے ہمیں رُلا تی رہے گی۔ ان کی والدہ کس طرح صبر کر رہی ہیں جب کہ ان کے والد ہسپتال میں زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہے، یقیناً یہ دل کو چیر دینے والا منظر ہے یہ دکھ بہت گہرا ہے۔
میرواعظ عمر فاروق نے تمام سوگوار خاندانوں سے تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا جو اس بے مقصد تصادم میں اپنے عزیز کھوئے کیونکہ الفاظ سے ان کا ازالہ ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم زخمیوں کے لئے دعاگو ہیں کہ وہ جلد صحتیاب ہوں۔ انہوں نے کہا کہ دارالخیر میرواعظ منزل متاثرہ خاندانوں تک پہنچنے کی کوشش کررہا ہے جن کے گھر تباہ ہوئے، جو بھی ممکنہ مدد اور ریلیف ہم فراہم کر سکتے ہیں، اسے کریں گے۔ میرواعظ نے توقع ظاہر کی کہ متعلقہ حکام کے علاوہ صاحب ثروت افراد متاثرین کی بحالی کیلئے ہر ممکن مدد فراہم کریں گے کیونکہ ایل او سی پر رہنے والے یہ لوگ سب سے زیادہ متاثر اور ہمیشہ خطرے میں رہتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: میرواعظ عمر فاروق بھارت اور پاکستان انہوں نے کہا کہ عمر فاروق نے چاہتے ہیں کشمیر کے کے لئے یہ ایک
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔