Express News:
2026-06-03@04:34:53 GMT

انسانی المیے کو دھندہ بنانے کا ہنر

اشاعت کی تاریخ: 17th, May 2025 GMT

جمعرات (پندرہ مئی) کو اسرائیل کی ستترویں سالگرہ اور فلسطینی نقبہ (قیامتِ صغری) کا ستترہواں یوم ِ سیاہ تھا۔جمعرات کو ڈونلڈ ٹرمپ غزہ سے صرف ساڑھے سترہ سو کیلومیٹر پرے قطر میں تھے۔اسرائیل نے اپنے جنم دن پر ساتھ کے محلے میں موجود ٹرمپ کا خیرمقدم کرتے ہوئے انھیں دن بھر کی بمباری کی سلامی دیتے ہوئے کم ازکم ایک سو بیس بچوں ، عورتوں اور جوانوں کی لاشوں کا تحفہ دیا۔اس پرمسرت موقع پر غزہ میں موجود اسرائیلی فوجیوں نے پچھتر دن سے بھوکے پیاسے چوبیس لاکھ بے گھر فلسطینیوں کے سامنے بار بی کیو کی دعوتیں اڑائیں اور ان دعوتوں کی تصاویر فخریہ اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر مشتہر کیں۔

اس وقت لگ بھگ چھپن یرغمالی حماس کی قید میں ہیں۔ان میں سے تئیس زندہ بتائے جاتے ہیں۔حماس مکمل جنگ بندی اور غزہ سے اسرائیلی فوج کے انخلا کے بدلے یکدم تمام یرغمالیوں اور مرنے والوں کی لاشیں اسرائیل کے حوالے کرنے کو تیار ہے۔ اس کا اشارہ حماس نے ٹرمپ کے دورہِ خلیج کے موقع پر ایک امریکی نژاد دوہری شہریت کے حامل اسرائیلی فوجی کو ریڈ کراس کے حوالے کر کے دے دیا۔

نیتن یاہو ٹولے کو چھوڑ کے یرغمالیوں کے سو فیصد رشتے دار ، پوری حزب اختلاف اور پچھتر فیصد اسرائیلی شہری اب جنگ بندی چاہتے ہیں۔مگر نیتن یاہو ٹولہ یرغمالیوں کے بجائے مکمل اور خالی غزہ چاہتے ہیں اور اس خواہش کو کبھی نہیں چھپایا گیا۔

اسرائیلی وزیر خزانہ بذلیل سموترخ اور وزیرِ امورِ سلامتی بن گویر سینہ ٹھونک کے کہہ رہے ہیں کہ حماس بھلے تمام یرغمالی رہا کر دے مگر اسرائیل غزہ کا فوجی قبضہ ترک نہیں کرے گا۔فلسطینوں کے پاس آخری موقع ہے کہ وہ یہاں سے نکل جائیں۔

پانچ مئی کو اسرائیلی سیکیورٹی کابینہ نے ’’ آپریشن گیدون چیریٹ ’’ کی منظوری دی۔اس موقع پر نیتن یاہو نے کہا کہ ہم نہیں چاہتے کہ مزید اسرائیلی مریں۔ہم چاہتے ہیں کہ فلسطینی تنہا مریں۔اس ریمارک کا ایک مطلب شاید یہ بھی نکلتا ہے کہ فلسطینی اپنی زمین سے چمٹے رہتے ہیں تو بھوک اور پیاس سے مرجائیں۔کیونکہ بموں سے تو اب تک چوبیس لاکھ میں سے صرف پچپن ہزار مرے ہیں۔

اس وقت غزہ کے آس پاس بین الاقوامی امدادی ایجنسیوں کے گوداموں میں ایک لاکھ اکہتر ہزار میٹرک ٹن خوراک موجود ہے جو غزہ کی چار ماہ کی انسانی ضروریات کے لیے کافی ہے۔مگر اسرائیل بھوک کو نسل کشی کے ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے ریکارڈ کے مطابق دنیا میں اس وقت اگر کہیں سب سے سنگین مصنوعی قحط ہے تو وہ غزہ میں ہے۔اگر دو مارچ سے جاری ناکہ بندی اگلے ایک ماہ تک بھی جاری رہتی ہے تو غزہ کی پچیس فیصد آبادی بھک مری سے ختم ہو سکتی ہے۔ اس میں سب سے زیادہ تعداد بچوں کی ہو گی۔اب تک بھوک سے جو اٹھاون ہلاکتیں ہوئی ہیں ان میں اکیاون بچے ہیں۔ان کی عمریں زیرو سے دس برس کے درمیان ہیں۔

اس دنیا میں جو بیسیوں جنگی کنونشنز ہیں ان میں انیس سو انچاس کا جینوسائیڈ کنونشن بھی ہے۔اس پر اسرائیل ، امریکا ، برطانیہ ، فرانس اور جرمنی سمیت ایک سو تریپن ممالک کے دستخط ہیں۔یہ کنونشن دراصل نازی جرمنی کے کنسنٹریشن کیمپوں میں لاکھوں یہودیوں کی نسل کشی کے پس منظر میں اپنایا گیا۔کنونشن کے مطابق نسل کشی ایک بین الاقوامی جرم ہے اور نسل کشی کی جو تعریف متعین کی گئی ہے اس میں کسی بھی انسانی گروہ کو بھوک اور پیاس سے مارنا اور اس گروہ کو بالجبر حالتِ محاصرہ میں نسل کشی کی نئیت سے رکھنا بھی شامل ہے۔

 عالمی عدالتِ انصاف گزشتہ ایک برس میں تین بار رائے دے چکی ہے کہ اسرائیل غزہ میں مکمل طور پر نہیں تو جزوی طور پر نسل کشی کا مرتکب ضرور ہو رہا ہے۔جب کہ بین الاقوامی جرائم کی عدالت تو نیتن یاہو اور ان کے سابق وزیرِ دفاع یوو گیلنٹ کے گرفتاری وارنٹ بھی کب کے نکال چکی۔ان وارنٹس پر عمل کرنا ان تمام ممالک کی ذمے داری ہے جو جرائم کی بین الاقوامی عدالت کو تسلیم کرتے ہیں ( اسرائیل اور امریکا تسلیم نہیں کرتے)۔

وارنٹ کا مطلب یہ ہے کہ مطلوبہ ملزم کسی بھی دستخطی رکن ملک کی زمینی ، فضائی و بحری حدود سے گذریں تو اس ملک پر لازم ہے کہ حراست میں مدد کرے اور انھیں عدالت کے حوالے کرے۔نیتن یاہو ان وارنٹس کے اجرا کے بعد دو بار امریکا اور ایک بار ہنگری جا چکے ہیں۔جب کہ جرمنی اور برطانیہ ان وارنٹس پر تحفظ کا اظہار کر چکے ہیں۔

اوپر ہم نے بات کی اسرائیلی کابینہ کے منظور کردہ ’’ آپریشن گیدون چیرئیٹ ’’ کی۔اس آپریشن کا نام ایک یہودی پیغمبر گیدون کی مہم پر رکھا گیا کہ انھوں نے روائیت کے مطابق اپنے رتھ پر سوار ہو کر سپاہ کی قیادت کرتے ہوئے قتلِ عام میں کسی کو قیدی نہیں بنایا اور دشمن کی زمین پر ہل چلا کے برابر کر دیا۔گویا یہودی شریعت کی موجودہ اسرائیلی تشریح یہ ہے کہ زیتون کے درختوں سمیت کسی کو زندہ نہ چھوڑا جائے۔چنانچہ کابینہ نے فیصلہ کیا ہے کہ ٹرمپ کا خلیج کا دورہ مکمل ہوتے ہی اس آپریشن کو تیزی سے عملی جامہ پہنایا جائے تاکہ بین الاقوامی دباؤ کے ناقابلِ برداشت ہونے سے پہلے پہلے اہداف حاصل کر لیے جائیں۔

 گیدان چیریٹ منصوبے کے مطابق نوے فیصد غزہ خالی کروا کے پوری فلسطینی آبادی کو ایک کونے میں جمع کر دیا جائے۔پوری پٹی کو بفر اور حفاظتی زونز میں تقسیم کر کے فلسطینیوں کی نقل و حرکت ناممکن بنا دی جائے۔فلسطینی کبھی اپنے گھروں کو واپسی کا تصور نہ کر سکیں اس کے لیے غزہ میں تباہ شدہ ملبہ صاف کرنے کے ساتھ ساتھ اب تک کھڑی ہر عمارت کو بھی گرا کے موجودہ آبادیوں کا نام و نشان مٹا دیا جائے۔ صفائی اس ڈھنگ سے کی جائے کہ کسی بھی وقت نیا ’’ تعمیراتی کام ’’ شروع ہو سکے۔ (ٹرمپ پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ وہ غزہ کے خوبصورت ساحل کو ’’ جنت ‘‘ بنانا چاہتے ہیں )

آپریشن گیدون چیریٹ کے تحت فلسطینیوں کی خوراکی امداد میں اقوامِ متحدہ کی ایجنسیوں بشمول انرا کا کوئی کردار نہ ہوگا۔امداد اسرائیل کے منظور کردہ ٹھیکیداروں کے ذریعے تقسیم ہو گی اور صرف ان شہریوں کو ملے گی جن کا حماس یا اس کی سرگرمیوں سے کسی بھی قسم کے براہِ راست یا بلاواسطہ تعلق کا ثبوت نہ ملے۔منصوبے کے مطابق فلسطینیوں کو ترغیب دی جائے گی کہ اگر وہ اپنے موجودہ حالات سے خوش نہیں تو کسی بھی تیسرے ملک میں ’’ رضاکارانہ ’’ ہجرت کر سکتے ہیں۔اس بارے میں اسرائیل ان کی مدد کرے گا۔

لوگ باگ اس پر ہی بغلیں بجا رہے ہیں کہ ٹرمپ نے صدارتی روائیت سے انحراف کرتے ہوئے اپنے مشرق وسطی کے دورے میں اسرائیل کو شامل نہیں کیا۔مگر اسرائیل کو اس ’’ جھٹکے ‘‘ سے قطعاً پریشانی نہیں۔اس کی پشت پر پوری امریکی کانگریس ہے اور ٹرمپ خلیجی ممالک سے ساڑھے تین ٹریلین ڈالر سرمایہ کاری کے جو وعدے جیب میں ڈال کر لے گئے ہیں۔اس سرمایہ کاری میں سے کچھ نہ کچھ پھل تو اسرائیلی ہائی ٹیک کمپینوں کی جیب میں بھی جائے گا۔

ستتر برس سے جاری یومِ نقبہ انسانی تاریخ کا سب سے طویل دن ہے۔

(وسعت اللہ خان کے دیگر کالم اور مضامین پڑھنے کے لیے bbcurdu.

com اورTweeter @WusatUllahKhan.پر کلک کیجیے)

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: بین الاقوامی چاہتے ہیں نیتن یاہو کے مطابق کسی بھی ہیں ان ہیں کہ

پڑھیں:

ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں

حاصل مطالعہ
عبدالرحیم

ٹرمپ نے اسرائیل کو کاک پٹ سے نکال کراکانومی میں بٹھا دیا ہے جس کے اسرائیل اور خاص طور پر وزیر اعظم کیلئے ممکنہ اہم نتائج نکلیں گے۔انہیں اس سال دوبارہ انتخاب کیلئے محنت طلب جنگ کا سامنا ہے۔نتن یاہو نے طویل عرصے سے اسرائیلی ووٹرز سے کہا ہوا ہے کہ وہ ٹرمپ سے سرگوشی کرتا ہے اور صدر کی حمایت برقرارکھنے کی اہلیت رکھتا ہے۔ جنگ کے ابتدائی دنوں میں ٹیلی ویژن پر تقریر میںانہوں نے اپنے آپ کو صدر کا ہم رتبہ قرار دیا اور اسرائیلیوں کو یقین دلایا کہ ان کی ٹرمپ سے تقریباً روزانہ بات چیت ہوتی ہے،خیالات اور مشورہ کا تبادلہ ہوتا ہے اور وہ اکٹھے فیصلہ کرتے ہیں۔
اے آئی اور بے روزگاری
یہ امر واضح ہے کہ اے آئی ہماری روزمرہ کی زندگیوں کی دوبارہ تشکیل کرے گی۔گولڈ مین ساچز کے اقتصادی ماہرین کا اندازہ ہے کہ اگلے عشرے میں اے آئی موجودہ کام کے گھنٹوں کے25 فی صد کو خودکار بنا دے گی۔ وہائٹ کالر جابز میں لوگ مثلاً اکائونٹنٹس ، بینکرز اور وکلاء اپنے بہت سے کام خودکار پائیںگے،اسٹین فورڈ کے ایک جائزہ کے مطابق سافٹ ویئر انجینئرنگ ،کسٹمر سروس اورانٹری لیول کے روزگار میں16 فیصد کمی آئی ہے۔اقتصادی ماہرین کا اندازہ ہے کہ ڈیٹا سینٹرز کیلئے بڑھتی ہوئی طلب نے2022 سے 2 لاکھ سے زائد کنسٹرکشن روزگارپیدا کیا ہے۔ تین وجوہ ایسی ہیں کہ عالمی معیشت مشکلات سے جلد بحال ہونے کی قوت رکھے گی اور فعال رہے گی۔ اول، اے آئی25 فیصد روزگار کا خاتمہ نہیں کرے گی۔ اس امر کا امکان ہے کہ لوگ اپنا وقت گزارنے کیلئے زیادہ بار آور طریقے تلاش کر لیں گے۔ پہلے ایک بینکنگ تجزیہ نگار کو ایک اسٹاک کی کارکردگی کا گراف بنانے کیلئے 6 گھنٹے لگتے تھے۔ اسے وال اسٹریٹ جرنل کے گزشتہ شمارے دیکھنا پڑتے تھے ،آج ایک تجزیہ نگاریہ کام سیکنڈوں میں کر سکتا ہے۔
دوم، کسی جاب کی کوئی جگہ لے سکتا ہے۔کا یہ مطلب نہیں کہ ایسا ہوگا۔ ٹیلی ویژن میں لائیو انٹرٹینمنٹ کی طلب ختم نہیں ہوئی،نہ ہی انٹرنیٹ نے رئیل اسٹیٹ ایجنٹس یا فٹنس انسٹرکٹرز کا کام ختم کیا۔
سوئم، امریکی کمپنیاں سالانہ ڈھائی کروڑ اور ساڑھے تین کروڑ جابز ختم اور پیدا کرتی ہیں کیونکہ اے آئی چیزوں کوزیادہ جدت پسند بناتی ہے۔ معیشت اپنے آپ کو ڈھالتی رہتی ہے۔
بھارت کے نوجوانوں کیلئے غیر متوقع آواز
ابھیجیت دیپکے نے ڈیجیٹل گروپ کاکروچ جنتاپارٹی اس لئے قائم کی کہ بھارت کے چیف جسٹس سریا کانٹ نے بے روزگار نوجوانوں کو کاکروچ کہہ کر پکارا تھا۔طنزیہ کاکروچ جنتاپارٹی ان نوجوانوں کو اپیل کرتی ہے جنہیں حکومت نے نظر انداز کیا ہے۔دوتین ہفتے قبل ابھی جیت دیپکے امریکہ میں ان ہزاروں بھارتی طلبہ میں ایک تھا جس کے پاس نئی گریجویٹ ڈگری تھی اور ملازمت کا خواہشمند تھا۔ پھر ایک کاکروچ نے اس کی زندگی بدل دی۔اس کی ابتدا ایک سوال سے ہوئی۔اجیت دیپکے بوسٹن یونیورسٹی میں پبلک ریلیشنز پرگرام کا 30 سالہ گریجویٹ تھا۔اس نے16 مئی کو ایکس پر پوسٹ کیاکہ کیا اگر تمام کاکروچز اکٹھے ہو جائیں؟وہ ایک روز قبل بھارت کے چیف جسٹس سریا کانٹ کے کمنٹس کا جواب دے رہا تھا جنہوں نے نوجوان اور بے روزگار بھارتیوں کو کاکروچز کہا تھا جو ملازمتیں حاصل کرنے میں ناکام رہے اور وہ سوشل میڈیا پرشکایت کرتے ہیں اور سرگرم ارکان بن کر سسٹم پر نکتہ چینی کرتے ہیں۔
ہزاروں جواب سے حوصلہ افزائی پاکر جنہوں نے اس کی کال کی توثیق کی،اجیت دیپکے نے اپنی ویب سائٹ پر اے آئی اور دوستوں کی مددسے دو گھنٹے میںمذاق مذاق میںکروچ جنتاپارٹی کا آغاز کیا۔مقصد نوجوانوں کیلئے تحریک پیدا کرناتھا جنہیںسست اور آن لائن پر اور حال ہی میں کروچز کہا جانے لگا۔ لاکھوں نوجوان اس تحریک میں شامل ہو گئے جو بے عزتی کو فخر میں تبدیل کرنے کے خواہشمند تھے۔ دنوں کے اندرکروچ جنتاپارٹی کے بعض اکائونتس میں بھارت کی سب سے بڑی پارٹیوں سے زیادہ سوشل میڈیا کے فالوئرز ہوگئے۔اجیت دیپکے کے پیغام کا قبول کیا جانا بہت سے نوجوان بھارتیوں کے اداس موڈ کی بڑی کہانی بتاتاہے جو ملازمتیں تلاش کرنی کی جدوجہد کر رہے ہیں باوجودیکہ ملک دنیا کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی معیشت مسلسل4 برسوں سے ترقی کر رہی ہے۔
کاکروچ جنتاپارٹی جس کے10 لاکھ سے زائد رجسٹرڈ ووٹرز ہیں،ان لوگوں کو زبان دینا چاہتی ہے جنہیں کرپٹ حکومت نظر انداز کرتی ہے۔ ویب سائٹ میں کہا گیا ہے کہ ہم تحریری طور پر پوچھتے ہیں کہ پیسہ کہاں گیا؟ابھی جیت دیپکے نے ایک انٹرویو میں کہا کہ موجودہ سیاسی نظام ان کی پرواہ نہیں کرتا،خواہ سرکاری پارٹی ہو یا اپوزیشن۔ابھی جیت دیپکے اس وقت امریکہ میں ہے۔
ایپل کیا کرتا ہے؟
ایپل اپنی پروڈکٹس ڈایزائن کرتا ہے،ان کے چپس تیار کرتا ہے،آپریٹنگ سسٹم بناتا ہے،برانڈنگ،مارکیٹنگ اور ریٹیل ایکسپیرئینس کو کنٹرول کرتا ہے۔لیکن یہ مینوفیکچرکچھ نہیں کرتا ۔آئی فونز اور میک بکس کو ژینگزو میں فوکس کون اور پیگاٹرون شنگھائی میں مینوفیکچر کرتاہے۔ایڈوانسڈ چپسTSMC تائیوان میں تیار کرتی ہے جبکہ جنوبی کوریا میںسام سنگ ڈس پلے کرتا ہے۔ایپل ہر ڈیوائس سے منافع کا80 تا90 فیصد حاصل کرتا ہے جبکہ سپلائرز جوواقعی فزیکل ورک کرتے ہیں، باقی حصے پر لڑتے ہیں۔ یہ طریق کار کارپوریٹ منافع اور شیئر ہولڈرز کی قدر زیادہ سے زیادہ کرتا ہے۔
٭٭٭

متعلقہ مضامین

  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • نوازشریف کا گلگت تک موٹروے بنانے، ایئرپورٹ بڑا کرنے اور الیکٹرک بسیں چلانے کا اعلان 
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا