بھارت کشمیریوں کے اغوا و قتل اور اجتماعی قبروں کا ذمہ دار ہے، پاکستان کی سلامتی کونسل کو بریفنگ
اشاعت کی تاریخ: 17th, May 2025 GMT
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ بھارت نے حالیہ دہشتگردی کو جواز بنا کر 2 ہزار سے زائد کشمیریوں کو گرفتار کر لیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پاک بھارت تنازع: اقوامِ متحدہ سلامتی کونسل کے اہم اجلاس میں کیا ہوا؟
عاصم افتخار نے انکشاف کیا کہ حالیہ برسوں میں ہزاروں نامعلوم اور بے شناخت قبریں سامنے آئی ہیں، جو بھارتی مظالم کی نشاندہی کرتی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ بھارت مظالم چھپانے کے لیے اجتماعی قبروں کی تحقیقات سے گریز کر رہا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں لاپتا افراد کا مسئلہ سنگین صورتحال اختیار کر چکا ہے۔
عاصم افتخار نے سلامتی کونسل کو آگاہ کیا کہ بھارتی افواج پہلے کشمیریوں کو اغوا کرتی ہیں، پھر اذیت دے کر قتل کر دیا جاتا ہے۔
انہوں نے عالمی برادری کو بتایا کہ بھارت 7 ہزار سے زائد اجتماعی قبروں کی فرانزک تحقیقات کرانے سے مسلسل گریزاں ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں جبری گمشدگیوں کا مسئلہ انسانی المیے کی صورت اختیار کر چکا ہے۔
عاصم افتخار نے کہا کہ بھارت مقبوضہ جموں و کشمیر میں حقِ خودارادیت کی جدوجہد کو ریاستی طاقت سے کچلنے کی کوشش کر رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارت پاکستان سلامتی کونسل عاصم افتخار احمد کشمیر لاپتا افراد مستقل مندوب.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بھارت پاکستان سلامتی کونسل عاصم افتخار احمد لاپتا افراد سلامتی کونسل عاصم افتخار کہ بھارت
پڑھیں:
نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائیگا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت میں برسراقتدار مخلوط حکومت کی اتحادی جماعت بی جے پی کے لیڈر اور راجیہ سبھا کے رکنِ پارلیمان انجینیئر غلام علی کھٹانہ نے الزام عائد کیا کہ جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت عوامی مسائل کے حل میں ہر محاذ پر ناکام ثابت ہوئی ہے، جس کے باعث عوام میں بے چینی اور ناراضگی بڑھ رہی ہے۔ ضلع رامبن کے سب ڈویژن بنیہال میں منعقدہ ایک عوامی دربار سے خطاب کرتے ہوئے جس میں مقامی باشندوں اور سرکاری افسران نے شرکت کی، غلام علی کھٹانہ نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی اور بجلی کے شعبوں کی حالت مزید خراب ہوئی ہے۔ انہوں نے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت پر عوام سے دور ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے زیادہ جوابدہی کا مطالبہ کیا۔
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے مرکز کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی انتظامیہ کی کارکردگی پر وائٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ بھی کیا اور گوجر-بکروال برادریوں اور بے گھر کشمیری پنڈتوں کے لئے مزید حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ عوامی ملاقات کے دوران مختلف عوامی مسائل اور ترقیاتی امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا، جس میں مقامی حکام، بی جے پی رہنماؤں اور علاقے کے باشندوں نے شرکت کی۔