افغان تجارتی سامان کے ٹرک واہگہ کے راستے بھارت روانہ
اشاعت کی تاریخ: 17th, May 2025 GMT
خشک میوہ جات سے لدے ٹرک پاکستانی ڈرائیوروں کے ذریعے بھارتی حدود منتقل
کئی ہفتوں سے واہگہ پورٹ پر کھڑے ٹرکوں کو بالآخر بھارت جانے کی اجازت
پاک-بھارت کشیدگی کے باوجود افغانستان سے تجارتی سامان کے 5 ٹرک واہگہ کے راستے بھارت روانہ ہو گئے جو سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کئی ہفتوں سے نیشنل لاجسٹک سیل کے تحت واہگہ پورٹ پر کھڑے تھے اور بالآخر بھارت جانے کی اجازت دے دی گئی۔ذرائع کے مطابق افغان تجارتی سامان جس میں خشک میوہ جات شامل ہیں، سے لدے ان ٹرکوں کو پاکستانی ڈرائیوروں نے بھارتی حدود میں منتقل کیا، جنہیں بھارتی حکومت کی جانب سے 24 گھنٹے کے انٹری پرمٹ جاری کیے گئے تھے ۔واضح رہے کہ افغان حکومت نے گزشتہ ماہ پاک-بھارت سرحد بند ہونے کے بعد حکومت پاکستان سے درخواست کی تھی کہ افغانستان سے پاکستان میں داخل ہونے والے 150 خشک میوہ جات کے ٹرکوں کو واہگہ کے راستے بھارت جانے کی اجازت دی جائے ۔افغان حکومت کی اس درخواست پر پاکستان نے یکم مئی کو ان ٹرکوں کو بھارت جانے کی مشروط اجازت دے دی تھی، تاہم بھارتی حکومت کی جانب سے پاکستانی ڈرائیوروں کے لیے انٹری پرمٹ کے اجرا کا انتظار جاری تھا، اسی دوران دونوں ممالک کے درمیان سرحدی کشیدگی اور جنگی جھڑپوں کے باعث معاملہ مؤخر ہو گیا تھا۔افغان تجارتی سامان سے لدے مزید ٹرک آئندہ چند روز میں بھارت بھیج دیے جائیں گے ۔یاد رہے کہ پاک-بھارت تجارت فروری 2019 سے معطل ہے ، جب پلوامہ حملے کے بعد بھارت نے پاکستانی مصنوعات پر بھاری محصولات عائد کر دیے تھے ، اسی سال اگست میں بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر کے آرٹیکل-370 منسوخ کیا تھا، جس کے بعد پاکستان نے بھارت کے ساتھ تجارتی تعلقات محدود کر دیے تھے تاہم واہگہ اٹاری بارڈر کے راستے افغانستان اور بھارت کے مابین ٹرانزٹ ٹریڈ جاری تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: بھارت جانے کی تجارتی سامان ٹرکوں کو کے راستے
پڑھیں:
آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
وفاقی حکومت نے عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف)کی شرائط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔
وفاقی وزارت خزانہ حکام کے مطابق آئی ایم ایف کی شرط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کر دی جائے گی اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔
حکام کا کہنا تھا کہ اس وقت ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کو اپنی 20 فیصد پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت حاصل ہے تاہم آئی ایم ایف نے اس رعایت کو برقرار رکھنے کی حکومتی درخواست مسترد کر دی ہے۔
وزارت خزانہ کے مطابق حکومت نے مزید ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کے قیام کی اجازت کی بھی درخواست کی تھی تاہم آئی ایم ایف نے اسے بھی قبول نہیں کیا۔
حکام نے بتایا کہ حکومت آئندہ اقتصادی جائزے کے دوران دوبارہ درخواست کرے گی کہ مقامی مارکیٹ میں 20 فیصد پیداوار فروخت کرنے پر پابندی عائد نہ کی جائے۔
وزارت خزانہ کے مطابق مقامی مارکیٹ میں پیداوار فروخت کرنے کی چھوٹ ختم کرنے کی تجویز فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کو بھی بھجوائی جا رہی ہے۔