لاہور:

پاک-بھارت کشیدگی کے باوجود افغانستان سے تجارتی سامان کے 5 ٹرک واہگہ کے راستے بھارت روانہ ہو گئے جو سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کئی ہفتوں سے نیشنل لاجسٹک سیل کے تحت واہگہ پورٹ پر کھڑے تھے اور بالآخر بھارت جانے کی اجازت دے دی گئی۔

ذرائع کے مطابق افغان تجارتی سامان جس میں خشک میوہ جات شامل ہیں، سے لدے ان ٹرکوں کو پاکستانی ڈرائیوروں نے بھارتی حدود میں منتقل کیا، جنہیں بھارتی حکومت کی جانب سے 24 گھنٹے کے انٹری پرمٹ جاری کیے گئے تھے۔

واضح رہے کہ افغان حکومت نے گزشتہ ماہ پاک-بھارت سرحد بند ہونے کے بعد حکومت پاکستان سے درخواست کی تھی کہ افغانستان سے پاکستان میں داخل ہونے والے 150 خشک میوہ جات کے ٹرکوں کو واہگہ کے راستے بھارت جانے کی اجازت دی جائے۔

افغان حکومت کی اس درخواست پر پاکستان نے یکم مئی کو ان ٹرکوں کو بھارت جانے کی مشروط اجازت دے دی تھی، تاہم بھارتی حکومت کی جانب سے پاکستانی ڈرائیوروں کے لیے انٹری پرمٹ کے اجرا کا انتظار جاری تھا، اسی دوران دونوں ممالک کے درمیان سرحدی کشیدگی اور جنگی جھڑپوں کے باعث معاملہ مؤخر ہو گیا تھا۔

افغان تجارتی سامان سے لدے مزید ٹرک آئندہ چند روز میں بھارت بھیج دیے جائیں گے۔

یاد رہے کہ پاک-بھارت تجارت فروری 2019 سے معطل ہے، جب پلوامہ حملے کے بعد بھارت نے پاکستانی مصنوعات پر بھاری محصولات عائد کر دیے تھے، اسی سال اگست میں بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر کے آرٹیکل-370 منسوخ کیا تھا، جس کے بعد پاکستان نے بھارت کے ساتھ تجارتی تعلقات محدود کر دیے تھے تاہم واہگہ اٹاری بارڈر کے راستے افغانستان اور بھارت کے مابین ٹرانزٹ ٹریڈ جاری تھی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: تجارتی سامان پاک بھارت کے راستے

پڑھیں:

سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان

 اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ  سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔

 ’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔

اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم

مزید :

متعلقہ مضامین

  • امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
  • جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا
  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا