---فائل فوٹو

ترجمان دفترخارجہ نے افغان وزیر دفاع کے بھارت کے مبینہ خفیہ دورے پر تبصرہ کرنے سے گریز کرتے ہوئے کہا ہے کہ توقع رکھتے ہیں کہ ان دونوں ممالک کے تعلقات پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہوں۔

ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان نے کہا کہ ہم کسی ملک کے دوسرے ممالک سے تعلقات پر تبصرہ نہیں کرتے، ہر ریاست کو خود مختار حیثیت میں اپنی خارجہ پالیسی بنانے کا حق حاصل ہے۔ ہم بھارت اور افغانستان کو خود مختار اور آزاد ریاستیں تسلیم کرتے ہیں۔

اسلام آباد میں ہفتہ وار بریفنگ میں ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ بھارتی جارحیت کے خلاف آپریشن بنیان مرصوص کا آغاز کیا گیا، بھارت کو پاکستان نے بھرپور جواب دیا، مسلح افواج نے دشمن کے 6 جنگی طیارے گرائے، پاکستان نے ثابت کیا کہ عزت اور وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔

بھارت نے جارحیت کا راستہ اپنایا، پاکستان اپنا دفاع کرے گا: ترجمان دفتر خارجہ

انہوں نے کہا کہ بھارت عالمی قوانین کی خلاف ورزی کررہا ہے، عالمی برادری غیر ذمے دارانہ طرز عمل پر بھارت کو جوابدہ ٹھہرائے۔

انہوں نے کہا کہ سیز فائر کےلیے دوست ممالک کے کردار کو سراہتے ہیں، متعدد دوست ممالک کی کوششوں سے جنگ بندی ممکن ہوئی، مستقبل میں بھی کوئی جارحیت کی گئی تو اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ 

ان کا کہنا ہے کہ پاکستان مسائل کے پُرامن حل پر یقین رکھتا ہے، پاکستان دہشت گردی پر بات چیت سے نہیں گھبراتا، ہم خود دہشت گردی کا شکار رہے ہیں اور اس کا درد جانتے ہیں۔

انہوں نے بریفنگ میں کہا کہ بھارت پاکستان میں دہشت گردی کو ہوا دینے اور پروموٹ کرنے میں ملوث رہا ہے، بھارت نے ناصرف پاکستان میں بلکہ دیگر ممالک میں بھی قتل کی سازشیں کیں، ہمارے پاس بھارت کے کردار سے متعلق ٹھوس شواہد اور مواد موجود ہے۔

شفقت علی خان نے مزید کہا جب بھی دہشت گردی پر بات ہوگی، پاکستان اپنا مؤقف واضح انداز میں پیش کرے گا، ہم دہشت گردی کے مسئلے کا مستقل حل چاہتے ہیں، ہمیں بین الاقوامی فورم پر دہشت گردی پر بات کرنے سے کوئی اعتراض نہیں۔

ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے پاکستان ایک خود مختار ریاست ہے اور اپنی سالمیت کے تحفظ کا حق رکھتا ہے، یورپی وزرا کے دورہ پاکستان اور بھارت دونوں میں توازن دیکھا جانا چاہیے، علاقائی امن کےلیے باہمی احترام اور عدم مداخلت کی پالیسی ضروری ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ

پڑھیں:

مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار

پاکستان، سعودی عرب، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی مسلسل دراندازی، اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں ہونے والی کارروائیوں اور مسجد کے احاطے میں اسرائیلی پرچم لہرانے کی شدید مذمت کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت سے متعلق اسرائیلی قانون سازی، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مذمتی بیان جاری

8 عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں کہا کہ انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی یہ اشتعال انگیز اور ناقابل قبول کارروائیاں بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔

بیان میں اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے اور اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کے تشخص کو نقصان پہنچانے کے لیے جاری منظم اقدامات اور خلاف ورزیوں کی بھی سخت مذمت کی گئی۔

وزرائے خارجہ نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش کو مسترد کرتے ہوئے اس کے تحفظ پر زور دیا جبکہ اس حوالے سے ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا۔

مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35.6 ایکڑ) پر مشتمل رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے اور اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور سے وابستہ یروشلم اوقاف و مسجد اقصیٰ امور ڈائریکٹوریٹ ہی اس مقدس مقام کے انتظام و انصرام اور داخلے کے امور کا واحد مجاز ادارہ ہے۔

مزید پڑھیے: پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مشترکہ بیان، غزہ میں امن کے لیے ٹرمپ کی کوششوں کا خیرمقدم

وزرائے خارجہ نے اسرائیلی حکام کو ان اشتعال انگیز اقدامات کے فوری خاتمے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ بار بار کی جانے والی ایسی خلاف ورزیاں خطے میں کشیدگی، عدم استحکام اور انتہا پسندی کو فروغ دیتی ہیں امن کی بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچاتی ہیں اور بین الاقوامی قانون کے تحت اسرائیل کی ذمہ داریوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل فوری طور پر ایسی تمام غیر قانونی اور اشتعال انگیز کارروائیاں بند کرے اور مسجد اقصیٰ کی تاریخی و قانونی حیثیت کا مکمل احترام یقینی بنائے۔

????PR No.1️⃣4️⃣0️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣

Joint Statement by Foreign Ministers of the Group of Eight Arab-Islamic States

????⬇️ pic.twitter.com/qZTmgSZM0n

— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) June 2, 2026

آٹھوں ممالک نے فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے ان کے جائز اور ناقابل تنسیخ قومی حقوق، بالخصوص حقِ خودارادیت اور 1967 کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔

مزید پڑھیں: غزہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک اسرائیلی جارحیت پر بول پڑے

بیان میں اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور 2 ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ، دیرپا اور جامع امن کے قیام کے لیے جاری تمام سفارتی کوششوں کی بھی مکمل حمایت کا اظہار کیا گیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

8 اسلامی ممالک اسرائیل کی جارحیت مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی

متعلقہ مضامین

  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
  • مصر کے وزیرِ خارجہ کا اسحاق ڈار کو ٹیلیفون، خطے کی تازہ ترین صورتحال پر تبادلہ خیال
  • نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی