بھارت میں مینوفیکچرنگ پلانٹس نہ لگائیں، ٹرمپ کا ایپل سے مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 16th, May 2025 GMT
میں نہیں چاہتا کہ آپ بھارت میں ڈیوائسز تیار کریں، اور انہیں امریکی خریدیں
امریکا میں پیداواری مراکز کو ترجیح دے،امریکی صدرکا ایپل کے سی ای او پر زور
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ’ایپل انک‘ کے ٹم کوک سے کہا ہے کہ ڈیوائسز کی مینوفیکچرنگ کے لیے بھارت میں پلانٹس لگانا بند کریں۔بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق آئی فون بنانے والی کمپنی چین سے دور ہونے کے ساتھ ساتھ اندرونی پیداوار بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے ۔امریکی صدر نے کہا کہ گزشتہ روز ٹم کوک کے ساتھ ایک چھوٹے سے مسئلے پر بات کی، وہ قطر کے سرکاری دورے کے دوران ایپل کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) کے ساتھ اپنی گفتگو کا حوالہ دے رہے تھے ۔امریکی صدر نے کہا کہ ’میری کل ٹِم کوک سے تھوڑی تکرار ہوئی، میں نے کہا کہ میرے دوست میں تمہارے ساتھ بہت اچھا سلوک کر رہا ہوں، تم امریکا میں 500ارب ڈالر لا رہے ہو لیکن اب میں سن رہا ہوں کہ تم بھارت میں ہر جگہ فیکٹریاں لگا رہے ہو، میں نہیں چاہتا کہ تم بھارت میں پیداوار کرو۔ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ میں نہیں چاہتا کہ آپ بھارت میں ڈیوائسز تیار کریں، اور انہیں امریکی خریدیں۔ان کا کہنا تھا کہ میری اس گفتگو کے نتیجے میں ایپل اب امریکا میں اپنی پیداوار کو ‘وسعت’ دینے والا ہے ۔انہوں نے کہا کہ بھارت میں ٹیرف کی شرح بہت زیادہ ہے ، اگر وہ اس کے باوجود وہاں ڈیوائسز تیار کرتے ہیں، تو ہم بھارت پر ٹیرف بڑھادیں گے ، پھر وہ وہاں کام نہیں کرسکیں گے ۔ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ بھارت دنیا میں سب سے زیادہ درآمدی محصولات (ٹیرِف) عائد کرنے والے ممالک میں شامل ہے اور امریکا کے لیے دنیا کے سب سے زیادہ آبادی والے ملک میں اپنی مصنوعات بیچنا انتہائی مشکل ہے ۔ انہوں نے مزید کہاکہ اگرچہ بھارتی حکومت نے ہمیں ایک ایسا معاہدہ پیش کیا ہے جس میں وہ ہم پر تقریباً کوئی ٹیرف نہ لینے پر آمادہ ہیں، لیکن وہ درآمدی ٹیکسز پر ایک جامع معاہدہ چاہتے ہیں۔ٹرمپ نے ایپل پر زور دیا کہ وہ امریکا میں پیداواری مراکز کو ترجیح دے ، ان کا کہناتھا کہ ‘میں نے ٹِم سے کہا ہے کہ آپ نے چین میں فیکٹریاں لگائیں لیکن ہم نہیں چاہتے کہ تم بھارت میں بھی یہی کرو، بھارت اپنا خیال خود رکھ سکتا ہے ۔ایپل اپنے زیادہ تر آئی فون چین میں بناتا ہے اور امریکا میں اس کے پاس اسمارٹ فون کی کوئی پیداوار نہیں ہے ، حالاں کہ ایپل نے امریکا میں مزید کارکنوں کی خدمات حاصل کرنے کا وعدہ کیا ہے ، اور اگلے 4 سال میں گھریلو سطح پر (امریکا میں) 500 ارب ڈالر خرچ کرنے کا وعدہ کیا ہے ۔ٹیک اینالٹکس فرم کاؤنٹر پوائنٹ کے ریسرچ ڈائریکٹر ترون پاٹھک کا کہنا ہے کہ ‘یہ ٹرمپ کا ایک جانا پہچانا حربہ ہے ، وہ ایپل پر دباؤ ڈالنا چاہتے ہیں کہ وہ امریکا میں سپلائی چین کی تعمیر کرے ، جو راتوں رات نہیں ہوسکتا۔ان کا کہنا تھا کہ امریکا میں ایپل کی ڈیوائسز بنانا بھارت میں آئی فون کی اسمبلنگ سے زیادہ مہنگا ہوگا۔ایپل اور اس کے سپلائرز نے دنیا کی دوسری بڑی معیشت (چین) سے دوری کا عمل تیز کر دیا ہے ، یہ عمل اس وقت شروع ہوا، جب کووڈ کے دوران سخت لاک ڈاؤن نے اس کے سب سے بڑے پلانٹ میں پیداوار کو متاثر کیا تھا۔ٹرمپ کے ذریعے متعارف کرائے گئے ٹیرف، بیجنگ اور واشنگٹن کے مابین کشیدگی نے ایپل کو اپنی یہ کوشش تیز کرنے پر مجبور کیا تھا۔بھارت میں آئی فون کے سالانہ 4 کروڑ سے زیادہ یونٹس تیار کیے جاتے ہیں، جو ایپل کی سالانہ پیداوار کا تقریباً 20 فیصد ہے ، جب کہ ٹرمپ نے ایپل سے اصرار کیا ہے کہ امریکا میں آئی فون تیار کرے ، لیکن مقامی انجینئرنگ اور پیداوار میں ہنر کی کمی اس عمل کو قلیل مدت میں تقریباً ناممکن بنا دے گی۔ترن پاٹھک نے کہا کہ ایپل کے پاس ایک انتہائی پیچیدہ سپلائی چین ہے ، جسے کئی سال کے دوران تیار کیا گیا ہے ، اسے متاثر کرنا، بھارت یا چین سے مکمل طور پر نکلنا انتہائی مشکل ہوگا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: میں پیداوار امریکا میں بھارت میں نے کہا کہ سے زیادہ آئی فون کیا ہے
پڑھیں:
شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟
پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن نے حکومت سے ایک بار پھر فاضل چینی کی فوری برآمد کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا ہے اور مؤقف اختیار کیا ہے کہ اضافی چینی بیرون ملک فروخت کرنے سے ملک کو قریباً 50 کروڑ ڈالر کا قیمتی زرمبادلہ حاصل ہو سکتا ہے۔
ماہرین اور صارفین کے حلقوں میں اس مطالبے پر تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے کیونکہ گزشتہ برس بھی چینی کی برآمد کی اجازت کے بعد ملک میں چینی کی قیمتوں میں 50 سے 60 روپے فی کلو کا نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا تھا۔
مزید پڑھیں: فاضل چینی برآمد کرنے کی اجازت دی جائے، ملک کو 50 کروڑ ڈالر زرمبادلہ مل سکتا ہے: شوگر ملز ایسوسی ایشن
پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن کے چیئرمین چوہدری ذکا اشرف نے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کو ارسال کیے گئے خط میں کہا ہے کہ 26-2025 کے کرشنگ سیزن کے اختتام پر ملک میں چینی کے مجموعی ذخائر 79 لاکھ میٹرک ٹن تک پہنچ گئے ہیں، جبکہ ملک کی سالانہ ضرورت قریباً 66 لاکھ میٹرک ٹن ہے، اس طرح ملک میں 13 لاکھ میٹرک ٹن چینی سرپلس موجود ہے۔
ایسوسی ایشن کے مطابق ایک ماہ کا تزویراتی ذخیرہ محفوظ رکھنے کے باوجود قریباً 7 لاکھ 60 ہزار میٹرک ٹن چینی اضافی رہے گی، جسے برآمد کرکے ملک کے لیے قیمتی زرمبادلہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔
خط میں کہا گیا ہے کہ فروخت نہ ہونے والے ذخائر کی وجہ سے شوگر ملوں کو شدید مالی دباؤ کا سامنا ہے جبکہ گنے کے کاشتکاروں کی ادائیگیوں اور بینک قرضوں کی واپسی میں بھی مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔
پی ایس ایم اے کا کہنا ہے کہ گزشتہ 2 برسوں کے دوران گنے کے کاشتکاروں کو بہتر نرخوں پر ادائیگی کی گئی جس کے باعث گنے کی کاشت اور فی ایکڑ پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوا۔
ایسوسی ایشن نے دعویٰ کیا ہے کہ اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو آئندہ سیزن میں مزید ریکارڈ گنے کی فصل پیدا ہونے کا امکان ہے جس کے نتیجے میں قریباً 20 لاکھ میٹرک ٹن اضافی چینی مارکیٹ میں آ سکتی ہے۔
دوسری جانب صارفین اور معاشی ماہرین شوگر ملز کے اس مؤقف کو تنقیدی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ گزشتہ مالی سال کے دوران بھی حکومت نے چینی برآمد کرنے کی اجازت دی تھی اور اس وقت حکومتی اور صنعتی حلقوں کی جانب سے یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ برآمدات سے مقامی مارکیٹ میں قیمتوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا اور چینی کی دستیابی برقرار رہے گی۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 25-2024 کے دوران 67 شوگر ملوں نے مجموعی طور پر 7 لاکھ 49 ہزار ٹن چینی برآمد کی جس سے قریباً 40 کروڑ ڈالر کا زرمبادلہ حاصل ہوا۔ تاہم برآمدات کے بعد ملک میں چینی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
مارکیٹ ذرائع کے مطابق 2 ماہ قبل پرچون سطح پر چینی کی قیمت قریباً 140 روپے فی کلو تھی جبکہ تھوک مارکیٹ میں 50 کلوگرام کا تھیلا قریباً 6 ہزار 200 روپے میں فروخت ہو رہا تھا۔
موجودہ صورتحال میں پرچون قیمت 190 سے 200 روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہے جبکہ 50 کلوگرام کے تھیلے کی قیمت بڑھ کر 9 ہزار 100 روپے تک جا پہنچی ہے۔
قیمتوں میں اس غیر معمولی اضافے کے بعد گزشتہ سال حکومت نے ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کے خلاف کارروائیوں کا اعلان بھی کیا تھا۔
تاہم صارفین کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کے باوجود مارکیٹ میں چینی کی قیمتوں کو مؤثر طور پر کنٹرول نہیں کیا جا سکا۔
شوگر ملز ایسوسی ایشن کا مؤقف ہے کہ چینی کو ذخیرہ کرنے کی مدت قریباً 2 سال ہوتی ہے اور اگر گزشتہ سال 7 لاکھ 49 ہزار ٹن چینی برآمد نہ کی جاتی تو اس کے ضائع ہونے کا خدشہ تھا۔
تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ ایک جانب اضافی ذخائر کا دعویٰ کیا جاتا ہے جبکہ دوسری جانب برآمدات کے فوراً بعد مقامی مارکیٹ میں قیمتوں میں نمایاں اضافہ سامنے آ جاتا ہے، جس کی وجہ سے برآمدی پالیسی پر سوالات جنم لیتے ہیں۔
مزید پڑھیں: چینی کی قیمتوں میں اضافہ: کس شوگر مل کے پاس کتنی چینی اسٹاک ہے؟
اب جبکہ شوگر ملز ایسوسی ایشن نے ایک مرتبہ پھر چینی برآمد کرنے کی اجازت مانگی ہے، حکومت کو ایک ایسے فیصلے کا سامنا ہے جس میں ایک طرف زرمبادلہ کمانے کا امکان موجود ہے تو دوسری طرف عوام کو سستی چینی کی فراہمی اور قیمتوں کو قابو میں رکھنے کا چیلنج بھی درپیش ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر برآمدات کی اجازت دی جاتی ہے تو حکومت کو سخت نگرانی، شفاف اسٹاک آڈٹ اور قیمتوں کے مؤثر کنٹرول کے لیے جامع حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی تاکہ گزشتہ سال کی صورتحال دوبارہ پیدا نہ ہو۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں