پی ٹی آئی سمیت دیگر جماعتیں جب چاہیں ہم بات کرنے کو تیار ہیں، رانا ثنا اللہ
اشاعت کی تاریخ: 16th, May 2025 GMT
اسلام آباد(آئی این پی ) وزیر اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی سمیت دوسری جماعتیں جب چاہیں ہم بات کرنے کو تیار ہیں۔ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا بھارت نے حملہ کیا تو ہم نے بھرپور دفاع کیا اور مغربی محاذ پر پاکستان کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ گوریلا ہتھکنڈوں کا استعمال کیا جا رہا ہے اور گوریلا ہتھکنڈوں میں ویرانی میں بس پر حملہ اور ٹرین کو نشانہ بنانا شامل ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہے۔ اور بلوچستان میں بھارتی دہشت گردی کے ثبوت بھی ہیں۔ بھارت دہشت گردوں کو تربیت دے کر خیبرپختونخوا بھی بھیجتے ہیں۔ جبکہ بھارت دہشت گردوں کی مالی معاونت اور ان کی تربیت کرتا ہے۔ رانا ثنا اللہ نے کہا کہ پاکستان میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔ اور ان کارروائیوں کے دوران بڑی تعداد میں دہشت گردوں کو مارا جا رہا ہے۔ دہشت گردوں کے خاتمے تک جنگ جاری رہے گی اور قانون نافذ کرنے والے ادارے موثر انداز میں آپریشن کر رہے ہیں۔ملکی سیاسی امور پر انہوں نے کہا کہ جمہوری معاشرے میں سیاسی جماعتوں نے معاملات چلانے ہوتے ہیں۔ اور سیاسی جماعتوں کے درمیان اتفاق اور اختلاف کی باتیں ہوتی رہتی ہیں۔ پی ٹی آئی یا دوسری جماعتیں جب چاہیں ہم بات کرنے کو تیار ہیں۔انہوں نے کہا کہ بھارت نے پاکستان پر حملہ کیا تو قوم نے قومی یکجہتی کا مظاہرہ کیا۔ اور وزیر اعظم پہلے بھی سیاسی جماعتوں کے ساتھ مذاکرات کی بات کر چکے ہیں۔ اور اب بھی ملکی مفاد کے لیے پی ٹی آئی سمیت تمام جماعتوں کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار ہیں۔مشیر سیاسی امور نے کہا کہ بنیادی معاملات پر چارٹر آف اکانومی میں پی ٹی آئی کو شامل ہونا چاہیے۔ حالیہ صورتحال میں نواز شریف کی رہنمائی حکومت کو حاصل رہی ہے۔ اور وزیر اعظم، آرمی چیف، نیول اور ایئرچیف نے کشیدہ صورتحال میں اہم کردار ادا کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین تین بڑے شہروں ایران، قم اور مشہد میں نماز جنازہ کے بعد مشہد میں امام رضا کے مزار میں ہوگی، جس کے لیے حکام کی جانب سے تیاریاں شروع کی گئی ہیں۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران کے سماجی و ثقافتی امور کے نائب محمد امین توکلی زادہ نے بتایا کہ شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ کی تدفین کے لیے تیاریاں جاری ہیں اور صرف دارالحکومت تہران میں ڈیڑھ سےدو کروڑ (15 سے 20 ملین) لوگوں کے لیے تیاریاں جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم دنیا کے انتہائی استکبار مخالف رہنما، امریکا اور اسرائیل کے خلاف جنگ کے عظیم کمانڈر اور ایران کے عظیم قابل تقلید رہنما کے جنازے میں شریک ہو رہے ہیں۔
امین توکلی زادہ نے کہا کہ مختلف صوبوں کی جانب سے جنازے کی میزبانی کے لیے درخواستیں کی گئی ہیں اور تدفین ممکنہ طور پر ذوالحج کے اختتام اور محرم کے شروع میں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ تہران میں نماز جنازے کا پروگرام تقریباً 24 گھنٹوں تک جاری رہے گا، ہم شیعہ مسلمانوں کا ایک بہت بڑا اجتماع دیکھیں گے اور یہاں تک کہ تمام مسلمانوں کا ایک عظیم اجتماع ہوگا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازے میں ہمسایہ ممالک بشمول پاکستان، افغانستان، بھارت، بنگلہ دیش اور کشمیر سے بڑی تعداد میں سوگواروں کی شرکت کا امکان ہے۔
یاد رہے کہ ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملے میں شہید ہوگئے تھے جب ایران پر اچانک حملہ کیا گیا تھا اور بم باری کے نتیجے میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے علاوہ ان کے خاندان کے چند انتہائی قریبی ارکان سمیت پاسداران انقلاب کے اعلیٰ کمانڈرز بھی شہید ہوگئے تھے۔
امریکا اور اسرائیل کے اس حملے میں مناب میں لڑکیوں کے ایک اسکول پربھی بم باری کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں اسکول کی بچیوں سمیت 165 افراد شہید ہوگئے تھے، جبکہ ایران نے جواب میں اسرائیل اور خطے کے ممالک میں قائم امریکی اڈوں پر حملے شروع کیے تھے۔
پاکستان کی ثالثی میں اپریل میں امریکا اور ایران نے جنگ بندی پر اتفاق کیا اور دونوں اطراف سے حملے روک دیے گئے تاہم ایران نے آبنائے ہرمز کا کنٹرول اپنے پاس رکھا جبکہ امریکا نے ناکہ بندی کی جو تاحال جاری ہے لیکن مخصوص جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔