کراچی:

سندھ حکومت نے پسماندہ علاقوں کے سرکاری اسکولوں میں بچوں کو مفت کھانا فراہم کرنے کا انقلابی قدم اٹھاتے ہوئے ’’اسکول کھانا پروگرام‘‘ کا آغاز کر دیا ہے۔

پروگرام کا افتتاح وزیر تعلیم سندھ سید سردار علی شاہ نے گورنمنٹ بوائز پرائمری اسکول مراد میمن میں کیا، جہاں انہوں نے خود بچوں کو کھانا پیش کر کے مہم کی شروعات کی۔

یہ پروگرام سندھ حکومت کے محکمہ تعلیم اور معروف فلاحی ادارے اللہ والے ٹرسٹ کے اشتراک سے شروع کیا گیا ہے۔ پہلے مرحلے میں صوبے کے مختلف پسماندہ علاقوں کے 70 ہزار سے زائد بچوں کو روزانہ ایک وقت کا مفت اور متوازن کھانا فراہم کیا جائے گا۔

اس موقع پر وزیر تعلیم سید سردار علی شاہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بچوں کی تعلیمی کارکردگی کا براہ راست تعلق ان کی غذائی حالت سے ہے۔ انہوں نے کہا کہ غذائی کمی کی وجہ سے بچوں کی سیکھنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے اور اسکول کھانا پروگرام کے ذریعے ہم ان کی نیوٹریشنل ضروریات پوری کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

انہوں نے ملک میں غربت کی تشویشناک صورتحال کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ پاکستان کا شمار دنیا کے 10 غریب ترین ممالک میں ہوتا ہے  جب کہ ملک کی 42 فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہی ہے۔ ایسے میں ہمارے بچوں کی حالت مزید توجہ کی متقاضی ہے۔

افتتاحی تقریب میں بتایا گیا کہ گورنمنٹ بوائز پرائمری اسکول مراد میمن کے 700 سے زائد بچوں کو روزانہ مفت کھانا فراہم کیا جا رہا ہے اور مستقبل میں اس پروگرام کو دیگر اضلاع و اسکولوں تک توسیع دی جائے گی تاکہ زیادہ سے زیادہ مستحق بچوں تک یہ سہولت پہنچائی جا سکے۔

اللہ والے ٹرسٹ کے سربراہ شاہد لون نے اس موقع پر کہا کہ بچوں کی صحت مند نشوونما اور تعلیم کے لیے متوازن غذا ضروری ہے۔ انہوں نے اس شراکت داری کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ یہ پروگرام معاشرے میں مثبت تبدیلی کا ذریعہ بنے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: انہوں نے بچوں کو بچوں کی کہا کہ

پڑھیں:

کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر

محکمہ کالج ایجوکیشن سندھ واضح اعلان کے باوجود کراچی میں سرکاری کالجوں میں داخلہ شروع نہیں کرسکا ہے اور کم از کم سوا لاکھ طلبہ انٹر سال اول میں داخلوں کے منتظر ہیں۔

تفصیلات کے مطابق  انٹر سال اول میں داخلہ یکم جون سے شروع ہونے تھے اس سلسلے میں 23 مئی کو قومی اخبارات میں اشتہارات جاری کیے گئے تھے جس کے مطابق تمام سرکاری کالجوں میں انٹر سال اول میں نویں جماعت کے نتائج کی بنیاد پر یکم جون سے داخلہ فارم کی رجسٹریشن شروع ہوجانی تھی جبکہ داخلہ فارم رجسٹریشن کی آخری تاریخ 15 جولائی مقرر کی گئی ہے۔

انٹر سال اول میں صرف کراچی کے سرکاری کالجوں میں سوا لاکھ کے قریب طلبہ داخلہ لیتے ہیں جن کے لیے سینٹرلائزڈ ایڈمیشن پالیسی کے تحت 6 مختلف فیکیلٹیز پری انجینئرنگ،  پری میڈیکل، کمپیوٹر سائنس ، کامرس ، ہیومینیٹیز اور ہوم اکنامکس میں داخلے دیے جاتے ہیں۔

اس سلسلے میں جب میٹرک کا امتحان دینے والے داخلے کے خواہشمند طلبہ نے  www.seccap.dgcs..gos.pk  کے پورٹل پر داخلہ رجسٹریشن فارم تک پہنچنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ یہ پورٹل ہی بند ہے۔

ادھر "ایکسپریس" نے اس سلسلے میں ڈائریکٹر جنرل کالجز سندھ پروفیسر زاہد راجپر سے جب اس سلسلے میں رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ تکنیکی وجوہات کی بنا پر پورٹل بند ہے ہماری ٹیکنیکل ٹیم کام کررہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پوری امید ہے کہ بدھ کی صبح تک پورٹل کھل جائے جس کے بعد طلبہ داخلے کے لیے اپلائی کرسکیں گے۔

ڈی جی کالجز کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس بار ہم نے تمام سرکاری کالجوں میں "ڈیس ایبل" کوٹہ مختص کیا ہے تاکہ ایسے طلبہ اس کوٹے کی بنیاد پر اپنے قرب و جوار کے کالجوں میں بھی اپلائی کرسکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  •  یکم جون سے فیس لیس چالان سسٹم کا آغاز،پہلے دن کتنے چالان جاری ہوئے؟ تفصیلات سامنے آگئی
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • میئر ظہران ممدانی نے نیویارک میں بچوں کا بیڈ ٹائم کیوں معطل کردیا؟
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے