Daily Mumtaz:
2026-06-03@07:57:07 GMT

حکومت کا بچوں کے دودھ پاؤڈر پر ٹیکس ختم کرنے پر غور

اشاعت کی تاریخ: 16th, May 2025 GMT

حکومت کا بچوں کے دودھ پاؤڈر پر ٹیکس ختم کرنے پر غور

وفاقی حکومت نومولود اور چھوٹے بچوں کی نشوونما اور پرورش کے لیے بچوں کے دودھ پاؤڈر کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے اس پر عائد ٹیکس ختم کرنے پر غور کر رہی ہے۔

نجی اخبار کی رپورٹ کے مطابق اس بات کا اشارہ وزیر قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے سوئس ملٹی نیشنل فوڈ اینڈ ڈرنک پروسیسنگ کارپوریشن کے وفد سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔

وفاقی وزیر نے وفد کو یقین دلایا کہ وزارت اس معاملے پر سنجیدگی سے کام کر رہی ہے اور جلد ہی مثبت پیش رفت متوقع ہے۔

رانا تنویر نے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح بچوں کے دودھ کے پاؤڈر پر ٹیکس کو کم کرنا اور اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ ہر شہری کو اس ضروری شے تک آسانی سے رسائی حاصل ہو۔

بچوں کے دودھ کا براہ راست تعلق نومولود اور چھوٹے بچوں کی نشوونما اور پرورش سے ہے، اس لیے اسے یا تو ٹیکس سے پاک ہونا چاہیے یا کم سے کم ٹیکس کے تابع ہونا چاہیے۔

ملاقات کے دوران نیسلے کے وفد نے صنعت کو درپیش مختلف مسائل پر روشنی ڈالی، خاص طور پر بچوں کے دودھ کے پاؤڈر پر عائد ٹیکسز پر توجہ مرکوز کی۔

وفاقی وزیر نے دوسرے ممالک کی مثالیں بھی پیش کیں جہاں بچوں کے دودھ کے پاؤڈر کو ٹیکس سے استثنیٰ حاصل ہے، اور نشاندہی کی کہ برطانیہ اور آئرلینڈ میں بچوں کے دودھ کے پاؤڈر پر کوئی ویلیو ایڈڈ ٹیکس (وی اے ٹی) نہیں ہے۔

اسی طرح آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں، بچوں کے فارمولا دودھ کو بنیادی غذائی ضرورت سمجھا جاتا ہے اور اس وجہ سے ٹیکس سے مستثنیٰ ہے۔

ان ممالک کی پالیسیوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے پاکستان کو بھی ایسا ہی طریقہ اختیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ ہر خاندان اپنے بچوں کے لیے معیاری دودھ تک آسانی سے رسائی حاصل کر سکے۔

رانا تنویر نے نیسلے کے وفد پر زور دیا کہ وہ دیہی کسانوں کو فائدہ پہنچانے اور ملکی زرعی پیداوار کو فروغ دینے کے لیے اپنی مصنوعات میں مقامی پھلوں کا زیادہ سے زیادہ استعمال کریں۔

انہوں نے بتایا کہ بہت سے دیہی خاندان اپنے ذریعہ معاش کے لیے دودھ کی پیداوار اور فروخت پر انحصار کرتے ہیں، اور حکومت ان کے معاشی حالات کو بہتر بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کرے گی۔

وزیر غذائی تحفظ نے مزید اعلان کیا کہ ان کی وزارت اہم مسائل کے حل کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دے گی جس میں تمام اسٹیک ہولڈرز کو شرکت کی دعوت دی جائے گی۔ اس مشاورتی عمل کے ذریعے بچوں کے دودھ کے پاؤڈر پر ٹیکسز کو کم کرنے کے لیے عملی تجاویز پر تفصیلی بحث کی جائے گی۔

Post Views: 4.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: بچوں کے دودھ کے پاؤڈر پر کے لیے

پڑھیں:

متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن

امیر جماعت اسلامی پاکستان نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔ اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ بجٹ میں تنخواہ دار اور مڈل کلاس طبقے کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے اور ان پر عائد بھاری ٹیکسوں میں نمایاں کمی کی جائے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومت نے متوسط اور تنخواہ دار طبقے سے 605 ارب روپے انکم ٹیکس وصول کیا ہے، جبکہ یہی طبقہ اس وقت شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی تعلیم، بجلی اور گیس کے بھاری بل، مہنگا پٹرول، ناجائز لیوی، اشیائے خورونوش پر ٹیکس، صحت و علاج کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور مہنگائی کے طوفان نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومتی اقدامات اور معاشی پالیسیوں نے عوام کا جینا محال کر دیا ہے، اس لیے حکومت کو بجٹ میں فوری ریلیف کے اقدامات کرنے چاہیئے۔

امیر جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا کہ ماہانہ ایک لاکھ 25 ہزار روپے تنخواہ پر عائد انکم ٹیکس مکمل طور پر ختم کیا جائے، جبکہ اس سے زیادہ تنخواہ حاصل کرنے والے افراد کے لیے انکم ٹیکس کی شرح کم از کم آدھی کی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ زیادہ سے زیادہ ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کرکے 15 فیصد مقرر کی جائے تاکہ تنخواہ دار اور پیشہ ور طبقے کو ریلیف مل سکے۔ حافظ نعیم الرحمن نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔
 

متعلقہ مضامین

  • سمرکیمپ سے متعلق احکامات پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا، وزیر تعلیم پنجاب
  • رئیل اسٹیٹ سیکٹر کے لیے ٹیکسوں میں بڑی کمی اور فائلر کیلیےبڑے ریلیف  کی تجاویز
  • پنجاب حکومت کے دو پراجیکٹ ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی کی ٹاپ لسٹ میں شامل، دنیا میں پاکستان کا تشخص نمایاں ہوا: مریم نواز
  • سپریم کورٹ نے نشے کی حالت کو بنیاد بناکر مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کر دی
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت