اداکارہ سکینہ خان اپنی ناکام محبت کے بارے میں بات کرتے ہوئے آبدیدہ ہوگئیں
اشاعت کی تاریخ: 16th, May 2025 GMT
پاکستانی شوبز انڈسٹری کی اُبھرتی ہوئی اداکارہ سکینہ خان نے حال ہی میں ایک نجی ٹی وی پروگرام میں شرکت کے دوران اپنی ذاتی زندگی سے متعلق گفتگو کی، جس میں وہ ناکام محبت کے بارے میں بات کرتے ہوئے جذباتی ہوگئیں۔
پروگرام کے دوران میزبان عمران اشرف نے سکینہ خان سے سوال کیا کہ کیا کبھی اُن کا دل ٹوٹا ہے؟ سکینہ خان نے اعتراف کیا کہ حال ہی میں اُن کی محبت ناکام ہوئی ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ انہیں اپنی محبت سے بہت سی امیدیں تھیں، جو پوری نہ ہو سکیں اور یہی ٹوٹنے والی امیدیں سب سے زیادہ تکلیف دہ ثابت ہوئیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ جب انسان کسی پر یقین کرتا ہے اور وہ یقین ٹوٹتا ہے تو ایک گہرا دکھ ہوتا ہے، لیکن اس تکلیف میں بھی ایک عجیب سا سکون محسوس ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب دو لوگ وقت گزارتے ہیں تو ان دونوں کو اس کی قدر کرنی چاہیے۔
https://www.instagram.com/reel/DJqswRFIPAp/
سکینہ خان نے کہا کہ وہ اب بھی اس محبت کے واپس آنے کی امید رکھتی ہیں، اور یہ انتظار انہیں اندر سے توڑ رہا ہے۔ انہوں نے دُعا کی کہ انہیں کبھی صبر نہ آئے، کیونکہ اگر صبر آ گیا اور محبت واپس آئی، تو وہ اسے قبول نہیں کر سکیں گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سکینہ خان
پڑھیں:
نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائیگا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت میں برسراقتدار مخلوط حکومت کی اتحادی جماعت بی جے پی کے لیڈر اور راجیہ سبھا کے رکنِ پارلیمان انجینیئر غلام علی کھٹانہ نے الزام عائد کیا کہ جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت عوامی مسائل کے حل میں ہر محاذ پر ناکام ثابت ہوئی ہے، جس کے باعث عوام میں بے چینی اور ناراضگی بڑھ رہی ہے۔ ضلع رامبن کے سب ڈویژن بنیہال میں منعقدہ ایک عوامی دربار سے خطاب کرتے ہوئے جس میں مقامی باشندوں اور سرکاری افسران نے شرکت کی، غلام علی کھٹانہ نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی اور بجلی کے شعبوں کی حالت مزید خراب ہوئی ہے۔ انہوں نے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت پر عوام سے دور ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے زیادہ جوابدہی کا مطالبہ کیا۔
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے مرکز کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی انتظامیہ کی کارکردگی پر وائٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ بھی کیا اور گوجر-بکروال برادریوں اور بے گھر کشمیری پنڈتوں کے لئے مزید حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ عوامی ملاقات کے دوران مختلف عوامی مسائل اور ترقیاتی امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا، جس میں مقامی حکام، بی جے پی رہنماؤں اور علاقے کے باشندوں نے شرکت کی۔