اداکارہ سکینہ خان اپنی ناکام محبت کے بارے میں بات کرتے ہوئے آبدیدہ ہوگئیں
اشاعت کی تاریخ: 16th, May 2025 GMT
پاکستانی شوبز انڈسٹری کی اُبھرتی ہوئی اداکارہ سکینہ خان نے حال ہی میں ایک نجی ٹی وی پروگرام میں شرکت کے دوران اپنی ذاتی زندگی سے متعلق گفتگو کی، جس میں وہ ناکام محبت کے بارے میں بات کرتے ہوئے جذباتی ہوگئیں۔
پروگرام کے دوران میزبان عمران اشرف نے سکینہ خان سے سوال کیا کہ کیا کبھی اُن کا دل ٹوٹا ہے؟ سکینہ خان نے اعتراف کیا کہ حال ہی میں اُن کی محبت ناکام ہوئی ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ انہیں اپنی محبت سے بہت سی امیدیں تھیں، جو پوری نہ ہو سکیں اور یہی ٹوٹنے والی امیدیں سب سے زیادہ تکلیف دہ ثابت ہوئیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ جب انسان کسی پر یقین کرتا ہے اور وہ یقین ٹوٹتا ہے تو ایک گہرا دکھ ہوتا ہے، لیکن اس تکلیف میں بھی ایک عجیب سا سکون محسوس ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب دو لوگ وقت گزارتے ہیں تو ان دونوں کو اس کی قدر کرنی چاہیے۔
https://www.instagram.com/reel/DJqswRFIPAp/
سکینہ خان نے کہا کہ وہ اب بھی اس محبت کے واپس آنے کی امید رکھتی ہیں، اور یہ انتظار انہیں اندر سے توڑ رہا ہے۔ انہوں نے دُعا کی کہ انہیں کبھی صبر نہ آئے، کیونکہ اگر صبر آ گیا اور محبت واپس آئی، تو وہ اسے قبول نہیں کر سکیں گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سکینہ خان
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔