امریکا: سپریم کورٹ نے ٹرمپ کو پناہ گزینوں کی ملک بدری سے روک دیا
اشاعت کی تاریخ: 17th, May 2025 GMT
امریکی سپریم کورٹ نے ٹرمپ انتظامیہ کو پناہ گزینوں کی ملک بدری دوبارہ شروع کرنے سے روک دیا ہے۔
عدالت نےٹرمپ کو ’ایلین اینیمیز ایکٹ‘ کے تحت تارکین وطن کی ملک بدری کو روکا ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی عدالت نے وینیزویلا سے تعلق رکھنے والے تارکین وطن کے حق میں فیصلہ دیا، جو اس قانون کے تحت فوری ملک بدری کے خدشے سے دوچار تھے۔
امریکی سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ قیدیوں کے حقوق مقدم ہیں، ملک بدری سے پہلے نوٹس ضروری ہے۔
امریکی سپریم کورٹ نے اس مقدمے کو اپیل کورٹ واپس بھیج دیا ہے اب اپیل کورٹ فیصلہ کرے کہ آیا صدر کا اقدام قانونی ہے یا نہیں۔
دوسری جانب امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ صدر ٹرمپ کے لیے ایک اہم قانونی شکست ہے، ٹرمپ کےاس اقدام کے خلاف قانونی جنگ ملک بھر کی مختلف وفاقی عدالتوں میں جاری ہے۔
بوسٹن میں ببھی امریکی اپیل کورٹ نےتارکین وطن کو تیسرے ملک بھیجنےکی ٹرمپ کی اپیل مسترد کی ہے۔
عدالت نے تارکین وطن کو کسی تیسرے ملک نہ بھیجنے حکم دیا تھا، جبکہ ٹرمپ انتظامیہ نے عدالتی فیصلے کے خلاف امریکی اپیل کورٹ میں درخواست کی تھی۔
ٹرمپ کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ جج مجھے وہ کرنے کی اجازت نہیں دے رہے جس کیلئے عوام نے مجھے منتخب کیا، یہ امریکا کے لیے ایک برا اور خطر ناک دن ہے۔
واضح رہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے 5 لاکھ سے زائد تارکین وطن کی قانونی حیثیت ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے انہیں ملک چھوڑنے کے لیے 24 اپریل تک کا وقت دیا تھا۔
صدر ٹرمپ نے ملکی تاریخ کی ملک بدری کی سب سے بڑی مہم چلانے اور خاص طور پر لاطینی امریکی ممالک سے آنے والے تارکین وطن پر قابو پانے کاعزم ظاہر کیا تھا۔
Post Views: 4.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کی ملک بدری تارکین وطن سپریم کورٹ اپیل کورٹ کورٹ نے
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔