پیٹرول سستا کیوں نہ ہوسکا؟ بڑی وجہ سامنے آگئی
اشاعت کی تاریخ: 17th, May 2025 GMT
ویب ڈیسک: 16 مئی سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کردی گئی مگر پیٹرول سستا نہ ہوسکا، حکومت نے پیٹرول کی قیمت کم کیوں نہیں کی اہم وجہ سامنے آگئی۔
حکومت نے قیمت میں کمی نہ کرنے کا فیصلہ اس وقت کیا جب آئندہ مالی سال کے بجٹ 2024 سے 25 میں ایک قانونی خلا کے باعث آئل انڈسٹری کو تقریباً 34 ارب روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔
اس خسارے کو پورا کرنے کے لیے حکومت نے ان لینڈ فریٹ ایکو لائزیشن مارجن (IFEM) میں اضافہ کردیا ہے، پیٹرولیم ڈویژن کی تجویز پر IFEM میں 1.
آج کے گوشت اور انڈوں کے ریٹس -جمعہ16 مئی , 2025
وفاقی حکومت نے پیٹرول کی قیمت برقرار رکھی جب کہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں معمولی کمی کی ہے، صارفین کو پیٹرول کی قیمت میں 7 روپے فی لیٹر کمی کی جو امید تھی اور وہ پوری نہ ہو سکی۔
پیٹرول کی کی قیمت 252.73 پیسے برقرار رکھی گئی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: پیٹرول کی حکومت نے کی قیمت
پڑھیں:
ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ؛ بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان
اسلام آباد: ملک میں ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان ہے۔بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے. جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے .تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔