امریکی دفاعی تجزیہ کار نے ایک بار پھر بھارتیوں کو آئینہ دکھا دیا، پاکستان کے موقف کی حمایت
اشاعت کی تاریخ: 17th, May 2025 GMT
بین الاقوامی سطح پر سیکیورٹی امور کی جانی پہچانی ماہر اور امریکی دفاعی تجزیہ کار کرسٹین فیئر ایک بار پھر پاکستان کے مؤقف کی حمایت میں سامنے آگئی ہیں۔
ایک حالیہ پروگرام کے دوران انہوں نے بھارتی بیانیے پر نہ صرف کھل کر تنقید کی بلکہ بھارت کے کردار کو بھی بے نقاب کردیا۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق، کرسٹین فیئر نے گفتگو کے دوران کہا کہ جس طرح بھارتی عوام یہ ماننے پر تُلے ہوتے ہیں کہ کشمیر میں پیش آنے والے ہر واقعے کے پیچھے پاکستان کا ہاتھ ہے، بالکل اسی طرح پاکستانیوں کو بھی یہ پختہ یقین ہے کہ بلوچستان میں ہونے والے بیشتر دہشتگرد حملے بھارت کی کارستانی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ افسوس کی بات یہ ہے کہ بھارتی ناظرین اس حقیقت کو سننے یا تسلیم کرنے کو تیار ہی نہیں۔ ان کے مطابق، بھارتی بیانیہ صرف یکطرفہ ہے اور اکثر اوقات حقائق کو نظرانداز کرتا ہے، حالانکہ سچ یہ ہے کہ بعض اوقات بھارت اپنی حدود سے تجاوز کر جاتا ہے۔
کرسٹین فیئر نے اپنے موقف کو تقویت دیتے ہوئے بھارتی مصنف اور تجزیہ کار اویناش پالیوال کی کتاب My Enemy's Enemy کا حوالہ بھی دیا، جس میں بلوچستان میں بھارتی مداخلت کے شواہد پیش کیے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس قسم کی تحریریں اس بات کا ثبوت ہیں کہ الزام تراشی کا کھیل صرف ایک جانب نہیں چل رہا، بلکہ دوسری طرف بھی بہت کچھ ایسا ہے جس پر سوال اٹھائے جانے چاہئیں۔
یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ کرسٹین فیئر نے پاکستان کے مؤقف کی تائید کی ہو۔ اس سے قبل بھی وہ بھارتی فضائیہ کے ان دعوؤں کو کھلے عام مسترد کر چکی ہیں جن میں کہا گیا تھا کہ بھارتی ایئرفورس نے پاکستان کے کئی طیارے مار گرائے تھے۔ ایک پروگرام میں بھارتی صحافی کے سوال پر کہ بھارتی ڈی جی ملٹری آپریشنز نے پاکستان کے طیارے مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے مگر اس کی تفصیلات فراہم نہیں کیں، کرسٹین فیئر کا برجستہ جواب تھا: ’’میں اسے بکواس سمجھتی ہوں، کیونکہ اس دعوے کی کوئی تصدیق موجود نہیں۔‘‘
کرسٹین فیئر کا یہ بے باک انداز اور حق گوئی کا جذبہ ایک بار پھر بھارت کے ان حلقوں کے لیے پریشان کن بن گیا ہے جو صرف اپنی مرضی کی کہانیاں سننا چاہتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کرسٹین فیئر پاکستان کے
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔