علیمہ خان کی بیرون ملک جانے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
اشاعت کی تاریخ: 17th, May 2025 GMT
—فائل فوٹو
راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان کی بیرون ملک جانے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔
علیمہ خان کی بیرون ملک جانے کی دائر درخواست پر سماعت ہوئی، جس میں علیمہ خان اپنے وکلاء علی بخاری اور فیصل ملک کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئیں۔
دورانِ سماعت وکیل صفائی نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے درخواست گزار کا نام پرووژنل نیشنل آئیڈینٹیفکیشن لسٹ سے نکالنے کا حکم جاری کیا ہے، درخواست گزار صرف 3 ہفتوں کے لیے حاضری سے استثنیٰ چاہتی ہیں، انڈر ٹیکنگ دینے کے لیے تیار ہیں، درخواست گزار مقررہ وقت میں عدالت سے رجوع کریں گی، ٹرائل شروع ہی نہیں ہوا درخواست گزار کی ذاتی پیشی ضروری نہیں۔
علیمہ خان اور عظمیٰ خان کی ضمانت کی درخواستوں پر انسداد دہشت گردی کی عدالت میں سماعت ہوئی۔
علیمہ خان کی بیرون ملک جانے کی درخواست پر پراسیکیوٹر ظہیر شاہ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ نوبل کاز پر پراسیکیوشن کا کوئی اعتراض نہیں، ملزمہ جس مقدمے میں ریلیف چاہتی ہیں اسی مقدمے میں ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست دائر کر رکھی ہے، ملزمہ کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست 21 مئی کےلیے مقرر ہے۔ راولپنڈی میں ملزمہ کے خلاف 11 اور مقدمات درج ہیں، ملزمہ کے خلاف راولپنڈی میں درج کسی مقدمے میں ضمانت نہیں ہوئی ہے، ٹرائل اور ضمانت کی کارروائی میں استثنیٰ دو مختلف باتیں ہیں۔
پراسیکیوٹر نے کہا کہ ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست میں استثنیٰ بنتا ہی نہیں، ضمانت قبل از گرفتاری کے کیس میں ملزمہ کی ذاتی پیشی ضروری ہے، سوائے میڈیکل گراؤنڈ کے ملزم کو استثنیٰ کسی صورت نہیں مل سکتا، درخواست گزار کا فنڈ ریزنگ میں اضافی کردار ہے، بنیادی کردار نہیں۔
عدالت نے علیمہ خان کی دائر درخواست پر فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: علیمہ خان کی بیرون ملک جانے کی ضمانت قبل از گرفتاری درخواست گزار درخواست پر کی درخواست
پڑھیں:
اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
سپریم کورٹ آف پاکستان نے سانحہ آرمی پبلک سکول (اے پی ایس) کے شہدا کے لواحقین کو اعلان کردہ معاوضہ پیکج نہ ملنے کے معاملے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا ہے۔
کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی۔ دوران سماعت جسٹس عرفان سعادت نے ریمارکس دیے کہ درخواست 25 دن کی تاخیر سے دائر کی گئی ہے۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ شہدا کے لواحقین کو حکومت کی جانب سے اعلان کردہ پیکج تاحال نہیں ملا۔
اس پر جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ اگر کوئی پیکج دیا گیا ہے تو وہ تمام متاثرہ لواحقین کو ملنا چاہیے۔
انہوں نے وفاقی حکومت کو ہدایت کی کہ وہ عدالت کو آگاہ کرے کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد ہوا ہے یا نہیں۔
سماعت کے دوران یہ بھی بتایا گیا کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے کے خلاف شہدا کے لواحقین کی جانب سے توہین عدالت کی درخواست دائر کی گئی تھی، تاہم پشاور ہائیکورٹ نے مذکورہ درخواست کو خارج کر دیا تھا۔
بعد ازاں سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews جواب طلب سپریم کورٹ عدم ادائیگی معاوضہ پیکج وفاقی حکومت وی نیوز