بھارت کو تاریخی شکست‘ قوم کو اپنی بہادر افواج پر فخر‘ چیئرمین پی آئی ٹی بی فیصل یوسف
اشاعت کی تاریخ: 17th, May 2025 GMT
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 17 مئی2025ء) پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ (PITB) کے زیر اہتمام یومِ تشکر کی پروقار تقریب ارفع کریم ٹاور میں منعقد ہوئی۔ تقریب کی صدارت چیئرمین پی آئی ٹی بی فیصل یوسف نے کی، جس میں بورڈ کے سینئر افسران اور عملے کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔
(جاری ہے)
تقریب میں ڈی جی ساجد لطیف، وقار قریشی، اے ڈی جی قاسم افضال، نثار احمد، کاشف فاروق‘خرم مشتاق‘ عمرسلمان‘حماد احمدانی‘سی ایف او نادیہ ریاض‘سی ٹی او عادل اقبال‘سی آئی ایس او سجاد غنی‘ ڈائریکٹر ارتضیٰ حشمت‘ عدیل سرور‘حسنین اقبال‘ عطاالرحمن سمیت دیگر افسران بھی شریک ہوئے۔
اس موقع پر چیئرمین فیصل یوسف نے کہا کہ پاک افواج نے بھرپور جذبے کیساتھ دشمن کی سازشوں کو ناکام بنایا‘بھارت کو عبرتناک شکست ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ قوم اپنی بہادر افواج پر فخر کرتی ہے جس نے دشمن کی کمر توڑ دی اور ملک پر آنچ نہ آنے دی۔تقریب میں وطن عزیز کے شہداء کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی اور ملک و قوم کے استحکام و سلامتی کیلئے خصوصی دعائیں کی گئیں۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔