مودی نئی مشکل میں پھنس گئے؛ ترک کمپنی نے بھارت کیخلاف مقدمہ کردیا
اشاعت کی تاریخ: 17th, May 2025 GMT
ترک کمپنی چیلےبی نے سیکیورٹی کلیئرنس منسوخ کرنے پر مودی حکومت کے خلاف مقدمہ دائر کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق بھارت میں ایئرپورٹ ’گراؤنڈ ہینڈلنگ‘ کی خدمات فراہم کرنے والی ترک کمپنی چیلےبی (Çelebi) دہلی ہائی کورٹ پہنچ گئی۔
کمپنی نے مؤقف اختیار کیا کہ بھارتی حکومت نے سیکیورٹی کلیئرنس قومی سلامتی کے مبہم خدشات کی بنا پر منسوخ کی گئی لیکن اس کی کوئی وضاحت نہیں کی گئی۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ ہمیں بتایا جائے کہ کس طرح ہماری کمپنی قومی سلامتی کے لیے اچانک ایک خطرہ بن گئی یہ قانونی طور پر ناقابل قبول ہے۔
Revocation of Security Clearance of Celebi, Turkish company operating ground handling services at Indian Airports.
We have received requests from across India to ban Celebi NAS Airport Services India Ltd, a Turkish company operating ground handling services at Indian airports.… pic.twitter.com/FGpuLuHBbh — Murlidhar Mohol (@mohol_murlidhar) May 15, 2025
کمپنی چیلےبی کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگرچہ ہمارے شیئرہولڈرز ترکیہ میں رجسٹرڈ ہیں لیکن کمپنی کی کنٹرولنگ ملکیت ترکیہ سے باہر کے اداروں کے پاس ہے۔
عدالت میں جمع کرائی گئی درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ اچانک اور بغیر کسی پیشگی اطلاع کے کیا گیا جس سے 3 ہزار 791 ملازمین کے بیروزگار ہونے اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد متزلزل ہونے کا امکان ہے۔
چیلےبی کمپنی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ہم نئی دہلی، کیرالا، بینگلور، حیدرآباد اور گوا میں گراؤنڈ ہینڈلنگ کی خدمات فراہم کر رہے اور اس کے لیے بھارتی انٹیلیجنس اور سیکیورٹی اداروں سے جانچ اور تمام ضروری منظوری کے بعد کام شروع کیا تھا۔
خیال رہے کہ مودی سرکار کا چیلے بی کمپنی کی سیکیورٹی کلیئرنس یہ اقدام ایسے وقت سامنے آیا ہے جب بھارت سے جنگ میں ترکیہ نے پاکستان کی حمایت کی جس پر بھارتی عوام میں غصہ پایا جاتا ہے۔
اس مقدمے کی سماعت ممکنہ طور پر پیر کے روز ہوسکتی ہے۔ تاحال بھارتی حکومت نے کمپنی کی جانب سے دائر مقدمے پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا۔
تاہم بھارت کے نائب وزیر ہوا بازی مرلی دھر موہول نے ایکس (سابق ٹوئٹر) پر کہا کہ ملک بھر سے چیلےبی پر پابندی لگانے کے مطالبے موصول ہوئے اور حکومت نے قومی مفاد میں ان مطالبات کو سنجیدگی سے لیا۔
اسی ہفتے ممبئی میں شیو سینا پارٹی، جو وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت کی اتحادی ہے، نے چیلےبی کے خلاف احتجاج کیا اور ممبئی ایئرپورٹ سے اس کا معاہدہ ختم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔
جمعرات کی رات دہلی ایئرپورٹ نے بھی اعلان کیا کہ اس نے چیلےبی کے ساتھ گراؤنڈ ہینڈلنگ اور کارگو آپریشنز میں شراکت داری کو باضابطہ طور پر ختم کر دیا ہے۔
رائٹرز کے مطابق ایئر انڈیا نے بھی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ترک ایئرلائن سے انڈیگو کے معاہدے کو روکا جائے کیونکہ ترکیہ کی پاکستان کے لیے حمایت نے سیکیورٹی خدشات پیدا کر دیے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
اسلام آباد:قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔
ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔
جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔
اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔
قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔
سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔
چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔
سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔
اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔