سعودی عرب، کورین کمپنی ہنڈائی کے پہلے کار پلانٹ کا سنگ بنیاد رکھ دیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 17th, May 2025 GMT
ریاض (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 17 مئی2025ء) سعودی پبلک انویسٹمنٹ فنڈ نے کورین کمپنی ہنڈائی موٹرز کے ساتھ کنگ سلمان آٹو موٹرکمپلیکس میں پہلے کار پلانٹ کا سنگ بنیاد رکھ دیا۔ اردو نیوز کے مطابق وژن 2030کے اہداف کے تحت مملکت میں مختلف صنعتوں کو فروغ دینے کے لیے تیزی سے ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری ہے۔توقع ہے ہنڈائی موٹرز کے اشتراک سے قائم کی جانے والا مینوفیکچرنگ پلانٹ 2026 کی چوتھی سہ ماہی تک کام شروع کردے گا۔
(جاری ہے)
ایک اندازے کے مطابق کار پلانٹ میں سالانہ 50 ہزار گاڑیاں بنائی جاسکیں گی جن میں بجلی سے چلنے والی گاڑیاں بھی شامل ہیں۔مملکت میں کار کی صنعت کے قیام کے لیے دسمبر 2020 میں منصوبہ پیش کیا گیا تھا۔وزیر صنعت و معدنی وسائل بندر الخریف نے 2023 میں کوریا کا دورہ کیا تاکہ مملکت میں کارسازی کے منصوبے کے بارے میں پیش رفت کی جائے۔ کنگ عبداللہ اکنامک سٹی میں قائم شاہ سلمان آٹو موبیل کمپلیکس میں کاروں کی صنعت کے معروف 3 سے چار برانڈز کو متعارف کرایا جائے گا جس کے بعد سالانہ 3 لاکھ گاڑیاں ایک ہی مقام پر تیار ہو سکیں گی۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے
پڑھیں:
کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔
7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔
نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاریترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔
شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔
متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔