قصر الوطن میں اماراتی صدر کا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعزاز میں پرتپاک استقبال
اشاعت کی تاریخ: 18th, May 2025 GMT
ابوظہبی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 مئی 2025ء)متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان نے قصر الوطن، ابوظبی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا شاندار استقبال کیا۔ صدر ٹرمپ متحدہ عرب امارات کے سرکاری دورے پر ہیں، اور ان کے اعزاز میں ایک رسمی استقبالیہ تقریب منعقد کی گئی۔ قصر الوطن پہنچنے پر صدر ٹرمپ کے قافلے کا استقبال گھڑ سوار اعزازی گارڈ اور اونٹوں پر سوار روایتی جلوس سے کیا گیا، جبکہ اماراتی لوک فنکاروں نے خصوصی پرفارمنس پیش کر کے مہمان صدر کو خوش آمدید کہا۔
تقریب میں خلائی کیمپوں سے تعلق رکھنے والے نمایاں طلبہ، خلاباز اور خلائی مشن کے انجینئرز بھی شریک تھے، جو یو اے ای کی ترقی کے سفر میں مختلف طبقات کی شرکت کا مظہر ہے۔ صدر شیخ محمد بن زاید نے امریکی صدر کو اعزازی اسٹیج پر لے جا کر دونوں ممالک کے قومی ترانے بجوائے، اس موقع پر 21 توپوں کی سلامی بھی دی گئی۔(جاری ہے)
بچوں کے گروپ دونوں ممالک کے جھنڈے تھامے موجود تھے اور انہوں نے مہمان صدر کے اعزاز میں خوشی کا اظہار کیا۔
صدر ٹرمپ نے "گائیڈیڈ بائے دی اسٹارز" نامی نمائش کا دورہ بھی کیا، جو یو اے ای کے خلائی سفر اور بانی قائد شیخ زاید بن سلطان النہیان کی خلائی تحقیق میں دلچسپی کو اُجاگر کرتی ہے۔ ابوظبی شہر کو اس موقع پر امریکی پرچموں اور خیر مقدمی بینرز سے سجایا گیا، خاص طور پر صدارتی ہوائی اڈے سے قصر الوطن تک کے راستے پر خصوصی تزئین و آرائش کی گئی تھی۔ استقبالیہ تقریب میں نائب صدر اور صدارتی عدالت کے چیئرمین شیخ منصور بن زاید، ولی عہد ابوظبی شیخ خالد بن محمد، ولی عہد دبئی شیخ حمدان بن محمد، قومی سلامتی کے مشیر شیخ طحنون بن زاید، وزیر خارجہ شیخ عبداللہ بن زاید، اور دیگر اعلیٰ حکام بھی شریک تھے۔ صدر ٹرمپ کے ہمراہ امریکہ کے وزرا اور اعلیٰ سطحی حکومتی وفد کے اراکین موجود تھے۔ یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے سفارتی، اقتصادی اور سائنسی تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے قصر الوطن بن زاید
پڑھیں:
ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات انتہائی ٹیکنیکل اور کئی مہینے لگ سکتے ہیں جبکہ آبنائے ہرمز کی بحالی کی صورت میں امریکا کی جانب سے پابندیوں میں نرمی کی کوئی پیش کش نہیں کی گئی ہے۔
امریکی سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو مارکو روبیو نے بتایا کہ دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ ایران اس بات پر تفصیلی اور واضح مذاکرات کے لیے آمادہ ہو کہ گہرے پہاڑی مقام میں محفوظ انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے کا مستقبل میں کیا تصرف کیا جائے گا۔
ایران کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ انہیں اپنے ملک میں افزودگی کی سرگرمیوں کو طویل مدت تک محدود یا ختم کرنے کے حوالے سے مذاکرات پر اتفاق کرنا ہوگا۔
مارکو روبیو نے کہا کہ یہ انتہائی ٹیکنیکل معاملات ہیں اس لیے میں نہیں سمجھتا کہ اس کو 5 دنوں کے اندر حل کرسکتے ہیں، اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو 30، 60 یا 90 روز کی مدت میں کام کرے اور تفصیلات اخذ کرے لیکن انہیں ایسا کرنے کے لیے سنجیدہ ہونا پڑے گا۔
انہوں نے اشارہ دیا کہ تہران نے اپنے جوہری پروگرام کے پہلوؤں پر مذاکرات کے لیے اتفاق کیا ہے لیکن اس حوالے سے تفصیلات فراہم نہیں کی کہ کون سے امور ہیں اور واضح کیا کہ مذاکرات اس بات کی ضمانت نہیں ہیں کہ حتمی طور پر ایسے معاہدے کا باعث ہوں گے جو سینیٹ یا امریکی عوام کے لیے قابل قبول ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران کو پہلے بغیر کسی ٹول کے آبنائے ہرمز کی بحالی کا اعلان کرنا ہوگا، وہ مائنز ہٹائیں گے اور جہازوں پر فائرنگ نہیں کریں گے۔
مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا نے ایران کو آبنائے ہرمز کی بحالی پر پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے اور پابندیوں کا خاتمہ شرائط کی بنیاد پر ہوگا۔
ایرانی سپریم لیڈر زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں، روبیو
امریکی وزیر خارجہ نے سینیٹ کمیٹی کو بتایا کہ میرے خیال میں ایران کے نئے سپریم لیڈڑ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں زیادہ حصہ لے رہے ہیں اور اس کے اشارے مل رہے ہیں۔
خیال رہے کہ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نیا منصب سنبھالنے کے بعد عوامی سطح پر نظر نہیں آئے ہیں تاہم وہ ایرانی حکام کو بدستور ہدایات دے رہے ہیں اور رپورٹ بھی کیا گیا تھا کہ ایرانی اعلیٰ حکام ان سے ملاقات اور مشاورت کرچکے ہیں۔
امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ حملے میں زخمی ہیں جبکہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ امریکی انٹیلی جینس کا تجزیہ ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای جنگی حکمت عملی میں ایران کے سینئر عہدیداروں کے ساتھ انتہائی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔