ملک کے میدانی علاقے شدید گرمی کے زد میں، ہیٹ ویو کب تک برقرار رہے گا؟
اشاعت کی تاریخ: 18th, May 2025 GMT
ملک کے میدانی علاقے شدید ہیٹ ویو کے زد میں ہیں جبکہ محکمہ موسمیات نے شمالی علاقوں میں بارش کی پیش گوئی کردی ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق لاہور، اسلام آباد، پشاور اور کراچی میں آج بھی ہیٹ ویو برقرار رہے گا، لاہور میں درجہ حرارت 42 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ اسلام آباد اور پشاور میں 41 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے کا امکان ہے۔
کراچی کے چند علاقوں میں درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے کا امکان ہے جبکہ بیشتر علاقوں میں 36 ڈگری سینٹی گریڈ تک برقرار رہے گا۔
یہ بھی پڑھیے: ہیٹ ویو سے کس طرح بچا جائے؟
اس کے علاوہ کوئٹہ میں بھی درجہ حرارت 36 ڈگری سینٹی گریڈ رہنے کا امکان ہے۔
محمکہ موسمیات کے مطابق پنجاب کے اکثر شہروں اور علاقوں میں درجہ حرارت 19 مئی تک غیرمعمولی طور پر بڑھ جائے گی جبکہ ملک میں ہیٹ ویو کا راج اگلے 2 یا 3 دنوں تک جاری رہے گا۔
تاہم محمکہ موسمیات نے ملک کے شمالی علاقہ جات، گلگت بلتستان، آزاد کشمیر، خیبر پختونخوا کے بالائی اضلاع اور متصل علاقوں میں آج شام اور رات کو بارشوں کا امکان ظاہر کیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بارش پاکستان گرمی گلوبل وارمنگ موسمیاتی تبدیلی ہیٹ ویو.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستان گلوبل وارمنگ موسمیاتی تبدیلی ہیٹ ویو ڈگری سینٹی گریڈ علاقوں میں کا امکان ہیٹ ویو رہے گا
پڑھیں:
مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
مردان: خیبرپختونخوا کے ضلع مردان کے علاقے شیخ ملتون سیکٹر بی میں ایک گھر سے خاتون سمیت تین افراد کی لاشیں برآمد ہونے کا واقعہ سامنے آیا ہے۔
ریسکیو 1122 کے مطابق اطلاع موصول ہوتے ہی میڈیکل ٹیم فوری طور پر موقع پر پہنچ گئی اور پولیس کی موجودگی میں کارروائی کا آغاز کیا گیا۔
ریسکیو حکام کے مطابق تینوں لاشوں کو قانونی کارروائی اور ضروری معائنے کے لیے مردان میڈیکل کمپلیکس (ایم ایم سی) اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق جاں بحق افراد کی شناخت جلال، زوجہ جلال اور مصطفیٰ کے ناموں سے ہوئی ہے۔
واقعے کی وجوہات فوری طور پر سامنے نہیں آسکیں، جبکہ پولیس نے معاملے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم اور تفتیشی عمل مکمل ہونے کے بعد واقعے کی اصل نوعیت واضح ہو سکے گی۔
پولیس اور متعلقہ ادارے مختلف پہلوؤں سے واقعے کا جائزہ لے رہے ہیں، جبکہ اہلِ علاقہ میں واقعے کے بعد تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔