ہزاروں افغان شہریوں کو ویزا منسوخی اور ملک بدری کا سامنا ہے،ذرائع
اشاعت کی تاریخ: 18th, May 2025 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک) پاکستان میں مقیم قانونی اور غیر قانونی افغان شہریوں کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے۔ ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ ایک قانون نافذ کرنے والے ادارے نے ہزاروں افغان افراد کی سکیورٹی کلیئرنس منسوخ کر دی ہے، جس کے نتیجے میں ان کے ویزے منسوخ کر دیے گئے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق کئی سالوں سے پاکستان میں مقیم افغان شہری مختلف کیٹیگریز کے تحت ویزے میں توسیع حاصل کر رہے تھے۔ تاہم، ایک سیکورٹی ایجنسی نے اب ویزہ کی توسیع کے تمام زمروں کے لیے سیکورٹی کلیئرنس منسوخ کر دی ہے۔ اس کارروائی نے ہزاروں افغان شہریوں کو شدید مشکلات میں ڈال دیا ہے، کیونکہ وہ اب اپنے ویزوں سے محروم ہو گئے ہیں۔
ذرائع نے مزید انکشاف کیا ہے کہ متعدد افراد جن کے ویزے کینسل ہو چکے ہیں انہیں گرفتار کر کے ڈی پورٹ کیا جا رہا ہے۔ یہ پیش رفت کابل میں پاکستانی سفارت خانے کی جانب سے افغان شہریوں کو چھ ماہ اور ایک سال کے ویزے جاری کرنے کے باوجود سامنے آئی ہے۔
گزشتہ تین سالوں میں جاری کیے گئے ویزوں کی تعداد 700,000 سے تجاوز کر گئی ہے۔تاہم، ایک متعلقہ اعداد و شمار یہ ہے کہ ان 700,000 سے زیادہ افراد میں سے صرف 50,000 نے پاکستان پہنچنے پر قانونی ویزا میں توسیع کے لیے درخواستیں دیں۔ ان درخواست دہندگان میں سے ہزاروں کی سیکیورٹی کلیئرنس بھی منسوخ کردی گئی ہیں۔
مزید برآں، 650,000 سے زیادہ افغان شہریوں نے ابھی تک ویزے میں توسیع کے لیے حکومت سے رابطہ نہیں کیا ہے، اور یہ افراد مبینہ طور پر پاکستان کے مختلف حصوں میں روپوش ہو چکے ہیں۔ اس صورتحال نے اس وقت ملک میں موجود افغان شہریوں کے مستقبل کے بارے میں سنگین سوالات کو جنم دیا ہے۔
سیکورٹی خدشات ، جنوبی وزیرستان میں پھر کرفیو نافذ
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: افغان شہریوں
پڑھیں:
وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
افغانستان کے صوبے بدخشاں میں سونے کی کانوں، غیر قانونی دولت، مسلح گروہوں کے باہمی مفادات اور قدرتی وسائل پر کنٹرول کے تنازع نے طالبان حکومت کے اندر بڑھتے ہوئے اختلافات کو نمایاں کردیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق بدخشاں کی صورتحال طالبان کے سرکاری بیانیے سے مختلف تصویر پیش کرتی ہے، جہاں مختلف دھڑے عوامی فلاح یا حکمرانی کے بجائے سونے کے ذخائر، منشیات سے حاصل ہونے والی آمدنی، غیر قانونی مالی فوائد اور طاقت کے حصول کے لیے ایک دوسرے کے مدمقابل دکھائی دیتے ہیں۔
سونے کے ذخائر پر کشمکش، قندھاری قیادت پر الزاماتبدخشاں میں سونے کی کانوں پر جاری تنازع نے طالبان کے اندر موجود گہرے اختلافات کو نمایاں کر دیا ہے۔
مقامی سطح پر اس بات پر ناراضی پائی جاتی ہے کہ قندھاری طالبان قیادت مبینہ طور پر کانوں، آمدنی کے ذرائع، ریاستی اختیارات اور معاشی فوائد پر اپنا کنٹرول مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ مقامی طالبان عناصر کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
10 ہزار جنگجوؤں کا دعویٰ، انتظامی بیان یا طاقت کا مظاہرہ؟صوبہ زابل کے طالبان نائب گورنر ملا جمعہ خان فتح کی جانب سے 10 ہزار جنگجوؤں پر کمانڈ رکھنے کا دعویٰ بھی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ بیان ایک فعال انتظامیہ کے نمائندے کے بجائے ایسے مسلح دھڑے کے رہنما کا تاثر دیتا ہے جو دولت، اثر و رسوخ اور اختیار کی اندرونی کشمکش میں اپنی طاقت دکھانے کے لیے تیار ہے۔
تحقیقات کا حکم، بدعنوانی کے اعتراف کے مترادف قرارطالبان رہنما کی جانب سے غیر قانونی کان کنی، منشیات کی تجارت اور شہریوں پر مظالم کے الزامات کی تحقیقات کا حکم اس بات کا اعتراف سمجھا جا رہا ہے کہ طالبان نظامِ حکومت کے اندر مجرمانہ مالی مفادات، وسائل کے استحصالی استعمال اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے مسائل موجود ہیں۔
اسلامی انصاف کا دعویٰ سوالات کی زد میںرپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان اقتدار سنبھالنے کے بعد بعض عہدیداروں کی اچانک بڑھتی ہوئی دولت، کانوں پر کنٹرول کے لیے دھڑوں کی کشمکش اور ہزاروں جنگجوؤں تک رسائی کے دعوے طالبان کے ’اسلامی انصاف‘ کے بیانیے کو کمزور کرتے ہیں۔ اس صورتحال کو وسائل کی لوٹ مار، عسکری بدعنوانی اور جنگجو سرداروں کی طرز کی سیاست سے تشبیہ دی گئی ہے۔
بدخشاں طالبان طرز حکمرانی کی عکاس تصویررپورٹ کے مطابق بدخشاں میں سونے کے مافیا، منشیات پر مبنی معیشت، مسلح سرپرستی کے نظام، شہریوں کو دباؤ میں رکھنے کے حربے اور مختلف جنگجو گروہوں کے درمیان مسابقت طالبان حکمرانی کی ایک واضح تصویر پیش کرتی ہے۔
اس صورتحال میں مقامی آبادی استحصال کا سامنا کررہی ہے جبکہ طالبان کے مختلف حلقے وسائل اور اثر و رسوخ کے حصول کی دوڑ میں مصروف ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق طالبان نے اقتدار میں آنے سے قبل نظم و ضبط، احتساب اور بدعنوانی کے خاتمے کے وعدے کیے تھے، تاہم بدخشاں کی صورتحال قندھاری قیادت کے مبینہ اختیارات پر قبضے، اندرونی اختلافات، معدنی وسائل کی لوٹ مار، منشیات سے جڑی بدعنوانی اور مسلح گروہی طرز عمل کو نمایاں کرتی ہے، جس سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ طالبان حکومت ایک مرکزی ریاستی نظام کے بجائے مختلف مسلح نیٹ ورکس کے اتحاد کی صورت اختیار کر چکی ہے جو اقتدار اور وسائل کی تقسیم پر باہمی کشمکش میں مبتلا ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews اختلافات افغان طالبان وسائل پر قبضے کی جنگ وی نیوز