سکھوں کو کرتارپور آنے سے روکنا مودی کے فرقہ وارانہ ایجنڈے کو بےنقاب کرتا ہے، محسن نقوی
اشاعت کی تاریخ: 18th, May 2025 GMT
اسلام آباد:
وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا ہے کہ سکھوں کو کرتارپور آنے سے روکنا مودی اور بی جے پی کے فاشسٹ، فرقہ وارانہ ایجنڈے اور مذہبی عدم برداشت کو بے نقاب کرتا ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’’ایکس‘‘ پر محسن نقوی نے لکھا کہ کرتارپور منصوبہ کثرتِ رائے، تنوع اور رواداری کی ایک روشن مثال ہے۔
The Kartarpur initiative is a shining example of pluralism, diversity and tolerance; a symbol of Pakistan’s solidarity with our Sikh brothers and sisters.
وزیر داخلہ نے لکھا کہ یہ ہمارے سکھ بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ پاکستان کے اظہارِ یکجہتی کی علامت ہے، مذہب پر عمل کی آزادی ایک بنیادی انسانی حق ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
عالمی ادارہ ایمنسٹی انٹرنیشنل بھارت میں غیر سرکاری تنظیموں اور تنقیدی آوازوں کو دبانےکا مذموم منصوبہ سامنے لے آیا۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت8انسانی حقوق کی تنظیموں نے فارن کنٹری بیوشن ریگولیشن ایکٹ کے قواعد میں کی جانے والی ترمیم واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کےمطابق بھارت کے نئےغیرملکی فنڈنگ قوانین، سول سوسائٹی پر سخت نگرانی اورتنظیم سازی کی آزادی کے حق کو دبا رہے ہیں۔
انسانی حقوق،پالیسی تحقیق،عوامی شعور،قانونی اصلاحات اورحکومتی احتساب پرکام کرنے والی ہزاروں تنظیمیں زد میں آئیں گی ، بھارت کے قوانین عالمی اصولوں کیخلاف ہیں جن کے ذریعے این جی اوز پرغیر ضروری اور حد سے زیادہ پابندیاں عائد کی گئیں۔
بھارتی حکومت گزشتہ ایک دہائی میں انسانی حقوق کی 22 ہزار 498تنظیموں کی رجسٹریشن منسوخ کر کےانہیں کام سے روک چکی ، اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے بھی 2016میں این جی اوز پر پابندیوں کے کالے قوانین کو ختم کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔
اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں کے مطابق بھارتی حکومت یہ قوانین تنقید کرنے والی این جی اوزکو دبانے کیلئے استعمال کر رہی ہے۔ مالیاتی شفافیت کے نام پر بنائے گئے یہ قوانین دراصل سول سوسائٹی کو کنٹرول کرنے کا ہتھکنڈہ بن چکے ہیں۔