چینی کمپنی کراچی میں سپر منی ٹرک تیار کرنے کیلیے رضامند، جلد پلانٹ لگے گا
اشاعت کی تاریخ: 18th, May 2025 GMT
کراچی:
حکومت سندھ اور چین کے تعاون سے کراچی میں جلد منی ٹرک کی اسمبلنگ لائن قائم کی جائے گی جس سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق چین میں سپر منی ٹرک کی رونمائی تقریب، سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن،صوبائی وزیر سید ناصر حسین شاہ آور دیگر شریک ہوئے۔
سندھ کے سینئر صوبائی وزیر برائے اطلاعات و نشریات، ٹرانسپورٹ اور ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے یہ خوش خبری سنائی اور بتایا کہ چینی سرمایہ کار کراچی میں پلانٹ لگانے پر رضامند، مختلف کاروباری گروپس و افراد کو فائدہ ہوگا۔
انہوں نے سندھ بھر میں الیکٹرک گاڑیوں کے لئے جلد چارجنگ اسٹیشنز قائم کرنے کا بھی اعلان کیا۔
شرجیل انعام میمن کا کہنا تھا کہ سپر منی ٹرک منصوبہ پاک چین صنعتی اشتراک اور تکنیکی تعاون کی شاندار مثال ہے، جو دونوں ممالک کے لیے ترقی اور خوشحالی کے نئے دروازے کھولے گا، چینی کمپنی چیری ہولڈنگ اور پیڈی ٹیکنالوجی کمپنی لمیٹڈ کے اشتراک سے تیار کردہ سپر منی ٹرک ایک انقلابی ایجاد ہے۔
انہوں نے کہا کہ سپر منی ٹرک گاڑی شہری و دیہی علاقوں میں لاجسٹکس کے مسائل کا حل ہے، یہ پائیدار، سستی اور قابلِ رسائی ٹرانسپورٹ کا نمونہ بھی پیش کرتی ہے۔
وزیر ٹرانسپورٹ کا کہنا تھا کہ سپر منی ٹرک جدید انجینئرنگ، ذہین ڈیزائن، اور ماحولیاتی موافقت کا حسین امتزاج ہے، جو پاکستان میں ہلکی کمرشل گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔ سپر منی ٹرک کی اسمبلنگ لائن جلد ہی کراچی میں قائم کی جائے گی، جو پاکستان میں صنعتی ترقی، مقامی پرزہ سازی، روزگار کے مواقع اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کے عمل کو تیز کرے گی۔
انہوں نے بتایا کہ یہ منصوبہ کراچی کو گاڑی سازی کے میدان میں ایک علاقائی مرکز میں تبدیل کرنے کی جانب پہلا عملی قدم ہے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ حکومت کی جانب سے ضوابطی معاونت، بنیادی ڈھانچے کی تیاری، مقامی افرادی قوت کی تربیت سمیت ہر ممکن تعاون فراہم کی جائے گی۔
تقریب سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ سپر منی ٹرک کی بنیادی خصوصیت اس کی وہ استعداد ہے جس کے تحت اسے آسانی سے ایک سپر منی کار میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
سینئر وزیر شرجیل انعام میمن کی جانب سےِ چیری ہولڈنگ کے چیئرمین ین تونگیو کی وژنری قیادت کی تعریف کی۔ تقریب میں وزیرِ توانائی سندھ، سید ناصر حسین شاہ اور بجٹ پیٹرولیم انویسٹمنٹ ہولڈنگز کمپنی، ہانگ کانگ کے گروپ سی ای او زاہد بشیر بھی شریک ہوئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: شرجیل انعام میمن منی ٹرک کی کراچی میں انہوں نے
پڑھیں:
دنیا شدید گرمی اور تباہ کن موسم کے لیے تیار ہوجائے، اقوام متحدہ نے بڑی وارننگ جاری کردی
اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے اور عالمی موسمیاتی تنظیم نے خبردار کیا ہے کہ جون سے اگست 2026 کے دوران ال نینو کے پیدا ہونے کا امکان 80 فیصد تک پہنچ گیا ہے، جس کے باعث دنیا بھر میں شدید گرمی، خشک سالی، غیر معمولی بارشوں اور دیگر موسمی شدت کے واقعات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
عالمی موسمیاتی تنظیم کے مطابق بحرالکاہل کے وسطی اور مشرقی استوائی علاقوں میں سمندر کے پانی کا درجہ حرارت معمول سے غیر معمولی حد تک بڑھ رہا ہے، جس کے نتیجے میں ال نینو کی صورتحال تیزی سے تشکیل پا رہی ہے۔
ادارے نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں کہا ہے کہ عالمی پیش گوئیوں کے مطابق جون تا اگست کے دوران ال نینو کے بننے کا امکان 80 فیصد جبکہ نومبر تک یہ امکان 90 فیصد یا اس سے بھی زیادہ ہوسکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ال نینو کم از کم درمیانی شدت کا اور ممکنہ طور پر طاقتور بھی ثابت ہوسکتا ہے۔
ال نینو ایک قدرتی موسمیاتی عمل ہے جو ہر دو سے سات سال بعد رونما ہوتا ہے اور عموماً 9 سے 12 ماہ تک برقرار رہتا ہے۔ اس دوران بحرالکاہل کے پانی گرم ہوجاتے ہیں، جس کے نتیجے میں دنیا بھر میں ہواؤں، بارشوں اور درجہ حرارت کے نظام میں نمایاں تبدیلیاں آتی ہیں۔
عالمی موسمیاتی تنظیم کی سربراہ نے کہا کہ دنیا کو ال نینو کے اثرات کے لیے ابھی سے تیاری شروع کر دینی چاہیے کیونکہ یہ خشک سالی، موسلا دھار بارشوں، زمینی اور سمندری ہیٹ ویوز کے خطرات کو مزید بڑھا سکتا ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ال نینو ہمارے دروازے پر دستک دے رہا ہے اور اسے ایک ہنگامی موسمیاتی انتباہ کے طور پر لینا چاہیے۔ ان کے مطابق بڑھتی ہوئی عالمی حدت کے ساتھ ال نینو کے اثرات مزید شدید ہوسکتے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جون سے اگست کے دوران دنیا کے بیشتر حصوں میں معمول سے زیادہ درجہ حرارت ریکارڈ کیے جانے کا امکان ہے۔ مشرقی افریقہ کے بعض علاقوں میں بارشیں کم ہوسکتی ہیں، جنوبی ایشیا میں مون سون معمول سے کم رہنے کا خدشہ ہے جبکہ وسطی امریکہ میں بھی خشک اور گرم موسم متوقع ہے۔
ماہرین کے مطابق ال نینو کے باعث زراعت، پانی کے ذخائر، توانائی کے شعبے اور صحت عامہ پر گہرے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں، اسی لیے حکومتوں اور متعلقہ اداروں کو پیشگی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔