راولپنڈی (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاک فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری  نے خبردار کیا ہے کہ اگر انڈیا نے پانی میں پاکستان کا حصہ کم  کرنے کی حالیہ دھمکیوں  پر عمل کی کوشش کی تو اس کے ایسے نتائج سامنے آئیں گے جو نسلوں تک محیط ہوں گے۔ انہوں نے یہ بھی تصدیق  کی کہ پاکستان نے انڈیا کے پانچ نہیں بلکہ چھ طیارے گرائے ہیں اور چھٹا طیارہ میراج ہے۔ اس سے قبل وزیر اعظم شہباز شریف نے یہ  دعویٰ کیا تھا  لیکن اب ڈی جی آئی ایس پی آر نے بھی یہی بات دہرائی ہے۔

 لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے  انڈپینڈنٹ اردو کو دیے گئے انٹرویو میں کہا ’امید کرتا ہوں ایسا وقت کبھی نہ آئے لیکن اگر ایسے اقدامات کیے گئے تو دنیا دیکھے گی اور ان کے ایسے نتائج برآمد ہوں گے جن کے لیے ہمیں برسوں اور دہائیوں تک لڑنا پڑے گا۔ کوئی بھی پاکستان کا پانی روکنے کی ہمت نہ کرے۔ صرف کوئی پاگل شخص ہی یہ سوچ سکتا ہے کہ وہ اس ملک کے 24 کروڑ سے زائد لوگوں کا پانی روک سکتا ہے۔‘

پاک بحریہ کو خراج تحسین پیش کرنے وزیراعظم کل کراچی کا دورہ کریں گے

انہوں نے تصدیق کرتے ہوئے کہا ’میں تصدیق کر سکتا ہوں کہ چھٹا گرنے والا طیارہ میراج 2000 ہے۔ ہم نے صرف طیاروں کو نشانہ بنایا۔ ہم مزید کارروائی سکتے تھے مگر ہم نے ضبط کا مظاہرہ کیا۔‘ خیال رہے کہ اس سے پہلے پاکستان نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے 7 مئی کی رات کو بھارت کے پانچ طیارے گرائے تھے جن میں تین رافیل ، ایک مگ 29 اور ایک ایس یو 30 شامل تھا۔ 

 لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ بھارتی حملے کے باوجود  پاکستان کی تمام ایئر بیسز  مکمل طور پر فعال ہیں۔ "پاکستانی فضائیہ کے پاس وہ ذرائع موجود ہیں جن کی مدد سے وہ فوری طور پر اڈوں کو فعال کر سکتی ہے اور وہ سب فعال ہیں۔"

گواجرانوالہ میں پراپرٹی کے تنازع پر ملزمان نے 2 نوجوانوں کوگرم تیل کی کڑاہی میں پھینک دیا

انہوں نے کہا کہ بھارت کے ساتھ جنگ بندی جاری ہے ۔ پاکستان اسے جاری رکھے گا لیکن اگر دوسری طرف سے اس کی خلاف ورزی ہوئی تو اس کا جواب دیا جائے گا ، لیکن جواب میں صرف انہی چوکیوں کو نشانہ بنایا جائے گا جہاں سے خلاف ورزی ہوئی ہوگی۔’پاکستان کی مسلح افواج پیشہ ور افواج ہیں اور ہم اپنے کیے گئے وعدوں کی مکمل پاسداری کرتے ہیں اور  ہم سیاسی حکومت کی ہدایات کو مکمل طور پر حرف بہ حرف مانتے ہیں اور ان کے عزم کا پاس رکھتے ہیں۔‘

میجر جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ’انڈیا کی کشمیر پالیسی اور اسے اندرونی معاملہ بنانے کی کوشش  ناکام ہو چکی ہے۔جب تک انڈیا کشمیر پر بات چیت نہیں کرتا، جب تک ہم دونوں ممالک بیٹھ کر اس مسئلے کا حل تلاش نہیں کرتے، تب تک تنازع کی آگ بھڑکنے کا خطرہ موجود رہے گا۔‘

اسلام آباد میں ژالہ باری اور طوفانی بارشوں کا الرٹ جاری

مزید :.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

کلیدی لفظ: جنرل احمد شریف چوہدری ہیں اور

پڑھیں:

فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان

12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں اضافی پانی کا منصوبہ ’کے فور‘ کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے، جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا، جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی، حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1 ارب 20 کروڑ گیلن ہے، جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کرنے کیلئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا، لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔ 2014ء میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بنانا تھا، جس کی لاگت 25 ارب روپے بتائی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا، تاہم پھر اس کو واپڈا کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہو سکا۔ کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا، تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026ء کی ڈیڈ لائن دی ہے۔

کے فور منصوبہ 2026ء میں بھی مکمل نہیں ہو سکے گا، اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029ء کی جنوری تک ہے۔ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جانے ہیں، جن میں ٹراسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنانے کے کام کی ذمہ داری ہے، جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے، اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی، جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے، آگمیٹیشن کا نیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025ء سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا، بلکہ بین الاقومی مالیاتی ادارے نے اس کو غیر معیاری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی ہے، جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جائیں گی اس وقت شہریوں کو آمدورفت میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا۔

متعلقہ مضامین

  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • جنوبی پنجاب میں منکی پاکس کا پھیلاؤ، 4 مریض اسپتال داخل، الرٹ جاری
  • سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
  • پاکستان اور کویت جاری سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج کیلئے پرامید
  • نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود