مسلم پرسنل لاء بورڈ کی طرف سے وقف قانون کے خلاف احتجاج دوبارہ شروع
اشاعت کی تاریخ: 19th, May 2025 GMT
ذرائع کے مطابق احتجاج کو نام نہاد آپریشن سندھور کی وجہ سے عارضی طور پر روک دیا گیا تھا لیکن مسلم پرسنل لاء بورڈ اب اپنی تحریک کو دوبارہ شروع کر رہا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے ایک بار پھر وقف قانون کے خلاف احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع کر دیا ہے جو وقف ترمیمی قانون کے خلاف ملک گیر مہم کا حصہ ہے۔ ذرائع کے مطابق احتجاج کو نام نہاد آپریشن سندھور کی وجہ سے عارضی طور پر روک دیا گیا تھا لیکن مسلم پرسنل لاء بورڈ اب اپنی تحریک کو دوبارہ شروع کر رہا ہے، اس کا کہنا ہے کہ نیا قانون مسلمانوں پر ایک اور ٹارگٹڈ حملہ ہے۔ احتجاجی مظاہرے ”وقف بچائو، دستور بچائو” مہم کے تحت منعقد کیے جا رہے ہیں۔ تحریک کا دوبارہ آغاز ریاست تلنگانہ کے علاقے سولن سے ہو گا اور توقع ہے آنے والے دنوں میں اس میں تیزی آئے گی۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے ریاست تلنگانہ کے کنوینر غیاث الدین نے کہا ہے کہ حکومت قانون سازی کی آڑ میں ہمارے مذہبی اور آئینی حقوق پر حملہ کر رہی ہے۔ انہوں نے ایک پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ حکومت تین طلاق سے لے کر اذان اور پھر اس ترمیم شدہ وقف قانون تک منظم طریقے سے مسلم کمیونٹی کو نشانہ بنا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین بھی ہمارے ساتھ سڑکوں پر آئیں گی جب تک کہ یہ اقلیت دشمن قانون واپس نہیں لیا جاتا۔ انہوں نے کہا کہ احتجاج ہمارا آئینی حق اور جمہوری فریضہ ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: مسلم پرسنل لاء بورڈ
پڑھیں:
تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔
بڑی احتجاجی کال پر تحفظات
پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔
ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔
پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔
9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا
پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔
26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔
مزیدپڑھیں:بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی
اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔
عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل
عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔
پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔
5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟
گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔