اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 19 مئی2025ء) وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے کہا ہے کہ ملکی معیشت بہتری کی جانب گامزن ہے ، تجارت کے فروغ کے لئے نئی منڈیوں کو تلاش کر رہے ہیں ، ٹریڈ پالیسی فریم ورک پر کام جاری ہے جس سے تمام سٹیک ہولڈرز کو فائدہ ہوگا ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو یہاں مقامی ہوٹل میں فوڈ اینڈ ایگریکلچرآرگنائزیشن اور وزارت تجارت کے تعاون سے منعقدہ جغرافیائی مصنوعات کی شناخت سے متعلق قومی کانفرنس سے خطاب میں کیا۔

تقریب سے خطاب میں وفاقی وزیر تجارت نے کہا کہ جیوگرافیکل انڈیکیشن سسٹم کانفرنس تجربات کے تبادلے کا موقع فراہم کرتی ہے اور وزارت تجارت اس سسٹم پر عمل درآمد کے لئے پر عزم ہے ۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو جیوگرافیکل انڈیکیشن سسٹم سے متعلق معلومات فراہم کرنے کی ضرورت ہے ۔

(جاری ہے)

وفاقی وزیر نے کہا کہ جیوگرافیکل انڈیکیشن سسٹم سے مقامی ثقافت ، ہنر اور انسانی محنت کو تحفظ ملتا ہے ، جغرافیائی شناخت مقامی مصنوعات کو عالمی سطح پر منفرد پہچان دیتی ہے ۔

جام کمال نے کہاکہ پاکستان میں 200سے زائد مصنوعات ممکنہ جی آئی کے طور پر شناخت ہو چکی ہیں ، اب تک 20مصنوعات جی آئی کے تحت رجسٹر کی جاچکی ہیں جن میں باسمتی چاول ، چلغوزہ، سندھڑی آم ، پشاوری چپل ، چونسا آم ، سرگودھا کا کنو اور ملتان کی نیلی مٹی شامل ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر پاکستانی مصنوعات کے حقوق کے تحفظ کے اقدامات کئے گئے ہیں ، جی آئی سسٹم سے برآمدات میں اضافہ اور عالمی مارکیٹ میں بہتر مقام حاصل ہوگا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ ڈومیسٹک کامرس پالیسی کے تحت وسائل بروئے کار لانے کے لیے صوبوں کے ساتھ مل کر کام کریں گے، موجودہ دور میں ای کامرس اور ڈیجیٹل کنیکٹویٹی کی اہمیت بڑھ گئی ہےجس سے استفادہ کیا جائے گا۔ جام کمال نے کہا کہ جی آئی سسٹم صرف تجارت نہیں ہے یہ ماحولیات اور کمیونٹی کی پائیداری کا ذریعہ بھی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت علحیدہ جی آئی رجسٹری کے قیام کے لئے کام کر رہی ہے۔

جی آئی نظام کی بہتری کے لیے قومی حکمت عملی تیار کی جا رہی ہے ۔اس سسٹم کے استحکام سے پاکستان کی ثقافتی اور زرعی وراثت محفوظ رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ محدود آگاہی اور ادارہ جاتی روابط کا فقدان جی آئی نظام میں بڑی رکاوٹ ہے۔جام کمال نے کہا کہ جی آئی سسٹم پاکستان کی معیشت میں نئی روح پھونک سکتا ہے اور اس سسٹم سے چھوٹے کسانوں ، کاریگروں اور سپلائی چین میں شامل دیگر افراد کو فائدہ پہنچے گا۔.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے انہوں نے کہا کہ نے کہا کہ جی وفاقی وزیر جام کمال

پڑھیں:

حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟

حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔

صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔

حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔

ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔

پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔

حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟

مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف

ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔

متعلقہ مضامین

  • بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے: سہیل آفریدی
  • پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 23 فیصد کمی
  • حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • گورنرخیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال سے ملاقات، دینار ہسپتال ڈی آئی خان کیلئے ریڈیالوجی مشینری اور طبی آلات کی فراہمی پر تبادلہ خیال
  •  یکم جون سے فیس لیس چالان سسٹم کا آغاز،پہلے دن کتنے چالان جاری ہوئے؟ تفصیلات سامنے آگئی
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  • وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
  • وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
  • وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی