روسکوسموس کے مطابق یہ قمری تحقیقاتی اسٹیشن چاند کے جنوبی قطب پر تعمیر کیا جائے گا اور اس میں اب تک 17 ممالک شراکت دار بن چکے ہیں جن میں مصر، پاکستان، وینزویلا، تھائی لینڈ اور جنوبی افریقہ شامل ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ دو ایشائی عالمی طاقتوں روس اور چین نے چاند پر مشترکہ نیوکلئیر پاور پلانٹ بنانے اور اسے چلانے کا معاہدہ کر لیا ہے۔ یہ پلانٹ 2036 تک مکمل ہونے کی توقع ہے اور یہ بیجنگ اور ماسکو کی قیادت میں قائم کیے جانے والے مستقل قمری بیس انٹرنیشنل لونر ریسرچ اسٹیشن (ILRS) کو توانائی فراہم کرے گا۔ یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند دن قبل ناسا نے اپنے مجوزہ 2026 کے بجٹ کا اعلان کیا جس میں گیٹ وے مشن کے نام سے چاند کے گرد ایک خلائی اسٹیشن بنانے کا منصوبہ منسوخ کر دیا گیا ہے۔ اس کے برعکس چین اور روس کا مشترکہ خلائی منصوبہ تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔

روس کے خلائی ادارے روسکوسموس کے سربراہ یوری بوریسوف کے مطابق چاند پر یہ ری ایکٹر مکمل طور پر خودکار طریقے سے نصب کیا جا سکے گا اور انسانی عمل دخل کی ضرورت نہیں ہوگی۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے بتایا کہ پلانٹ کی تعمیر کے لیے درکار ٹیکنالوجی تقریباً تیار ہے۔ روسکوسموس کے مطابق یہ اسٹیشن بنیادی خلائی تحقیق کرے گا اور طویل غیر انسانی مشنز کی ٹیکنالوجی کو آزمایا جائے گا جو مستقبل میں انسانی مشنز کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔ یہ قمری تحقیقاتی اسٹیشن چاند کے جنوبی قطب پر تعمیر کیا جائے گا اور اس میں اب تک 17 ممالک شراکت دار بن چکے ہیں جن میں مصر، پاکستان، وینزویلا، تھائی لینڈ اور جنوبی افریقہ شامل ہیں۔

اس منصوبے کی ابتدائی تعمیر چین کے مشن چانگ ای-8 کے ساتھ 2028 میں ہوگی جو کہ چاند پر چینی خلابازوں کی پہلی لینڈنگ کی کوشش ہوگی۔ 2021 میں سامنے آنے والے منصوبے کے مطابق 2030 سے 2035 کے درمیان پانچ راکٹ لانچز کے ذریعے بیس کے مختلف حصے چاند تک پہنچائے جائیں گے۔ چینی خلائی حکام کا کہنا ہے کہ مکمل اسٹیشن مستقبل میں مریخ مشنز کے لیے بھی معاون ہو سکتا ہے اور اسے شمسی اور نیوکلئیر توانائی سے چلایا جائے گا۔ اس میں چاند اور زمین کے درمیان تیز رفتار مواصلاتی نظام، خودکار گاڑیاں اور انسانی روورز بھی شامل ہوں گے۔

یہ معاہدہ عالمی خلائی قیادت میں تبدیلی کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔ چین جس نے 2013 میں اپنا پہلا روور چاند پر اتارا تھا اب تک چاند اور مریخ دونوں پر کافی تحقیق کر چکا ہے۔ دوسری جانب ناسا کا آرٹیمس پروگرام جسے خلائی تحقیق میں اگلا بڑا قدم قرار دیا گیا تھا بار بار تاخیر کا شکار ہو رہا ہے۔ آرٹیمس III جو امریکی خلابازوں کی چاند پر 50 سال بعد پہلی لینڈنگ ہوگی اب کم از کم 2027 سے پہلے متوقع نہیں۔ جبکہ امریکہ کی گیٹ وے لونر اسٹیشن کی منسوخی کی تجویز طویل المدتی امریکی قمری منصوبوں پر سوالیہ نشان لگا رہی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: کے مطابق جائے گا چاند پر گا اور اور اس

پڑھیں:

ماہرینِ صحت کی دوپہر کے کھانے میں غذائیت سے بھرپور سلاد کو معمول کا حصہ بنانے کی سفارش

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 24 جولائی2026ء) ماہرینِ صحت نے دوپہر کے کھانے میں غذائیت سے بھرپور سلاد کو معمول کا حصہ بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ عادت نہ صرف متوازن غذا کی جانب اہم قدم ہے بلکہ بھوک پر قابو پانے، توانائی برقرار رکھنے اور مجموعی صحت کو بہتر بنانے میں بھی مؤثر کردار ادا کر سکتی ہے۔ماہرین کے مطابق صحت مند طرزِ زندگی کا مقصد صرف تیزی سے وزن کم کرنا نہیں بلکہ ایسی پائیدار غذائی عادات اپنانا ہے جن پر طویل عرصے تک آسانی سے عمل کیا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ دوپہر کے کھانے میں متوازن سلاد شامل کرنے سے جسم کو فائبر، وٹامنز، منرلز اور دیگر ضروری غذائی اجزا بیک وقت حاصل ہوتے ہیں، جو بہتر صحت کے لیے نہایت اہم ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ایک مکمل اور متوازن سلاد صرف سبز پتوں تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس میں ثابت مونگ دال، چنے، کھیرا، ٹماٹر، پیاز، گاجر، شملہ مرچ، کینوا، ایووکاڈو، مالٹے کے قتلے، انار کے دانے اور کچے آم جیسے غذائیت سے بھرپور اجزا بھی شامل کیے جا سکتے ہیں۔

(جاری ہے)

ذائقے کے لیے نمک، کالی مرچ، لیموں کا رس یا سرکہ استعمال کیا جا سکتا ہے، جبکہ پروٹین کی ضرورت پوری کرنے کے لیے گرل کیا ہوا پنیر، سویا یا دیگر صحت بخش پروٹین ذرائع شامل کرنے کی بھی تجویز دی گئی ہے۔ماہرین نے کہا کہ اگر ایک ہی قسم کا سلاد روزانہ کھایا جائے تو وقت کے ساتھ اکتاہٹ پیدا ہو سکتی ہے، اس لیے مختلف سبزیوں، پھلوں اور دیگر اجزا میں تبدیلی کرتے رہنا چاہیے تاکہ ذائقے کے ساتھ غذائی تنوع بھی برقرار رہے۔

طبی ماہرین کے مطابق دوپہر کے کھانے میں سلاد شامل کرنے سے زیادہ دیر تک پیٹ بھرنے کا احساس رہتا ہے، غیر ضروری اسنیکس اور بار بار کھانے کی خواہش میں کمی آتی ہے، جبکہ دوپہر کے کھانے کے بعد محسوس ہونے والی سستی بھی کم ہو سکتی ہے۔ اس کے نتیجے میں روزمرہ سرگرمیوں کے لیے جسمانی توانائی اور چستی برقرار رکھنے میں مدد ملتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ وزن میں کمی کا عمل ہر فرد میں مختلف ہو سکتا ہے، تاہم متوازن غذا کو مستقل معمول بنانے سے جسمانی ساخت میں مثبت تبدیلیاں آ سکتی ہیں، کپڑوں کی فٹنگ بہتر محسوس ہو سکتی ہے اور مجموعی صحت میں بتدریج بہتری آتی ہے۔

ماہرین نے کہا کہ صحت بخش غذائی عادات نہ صرف جسمانی بلکہ ذہنی صحت پر بھی مثبت اثرات مرتب کرتی ہیں اور انسان کے اعتماد میں اضافہ کرتی ہیں۔ ان کے مطابق صحت مند طرزِ زندگی کا مطلب پسندیدہ کھانوں سے مکمل پرہیز نہیں بلکہ اعتدال، توازن اور مستقل مزاجی کے ساتھ غذائیت سے بھرپور خوراک کو روزمرہ معمول کا حصہ بنانا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ماہرینِ صحت کی دوپہر کے کھانے میں غذائیت سے بھرپور سلاد کو معمول کا حصہ بنانے کی سفارش
  • جوز بٹلر نے یونیورس باس کو بھی پیچھے چھوڑ دیا
  • چین کا ایک اور کامیاب خلائی مشن، 5 سیٹلائٹس مقررہ مدار میں داخل
  • میٹھے پر سجاوٹ کیلئے چیونٹیوں کا استعمال ریسٹورنٹ مالک کو مہنگا پڑگیا
  • دفتری نظم و ضبط کی پابندی کی ہدایت ،نیاسرکلرجاری
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی