میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کی زیر صدارت کے ایم سی کونسل کا اجلاس ہوا ہے، جس میں سڑکوں اور گلیوں میں گاڑیاں دھونے کے لیے لائن کا پانی استعمال کرنے پر جرمانے کی قرارداد پیش کی گئی ہے۔

سٹی کونسل اجلاس میں سڑکوں اور گلیوں میں گاڑیاں دھونے کیلئے لائن کا ہانی استعمال کرنے پر جرمانے کی قرارداد سمیت 11 قرارداد پیش کی گئی ہیں۔

میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ پانی کے ضیاع پر میرے خیال میں جرمانہ 10ہزار روپے ٹھیک ہے، یوسی چیئرمین کی شکایات پر جرمانے ہوں گے، رقم یوسی میں ہی لگے گی۔

سٹی کونسل کراچی نے ریلوے کوارٹر کی زمین کے الیکٹرک کو فروخت کرنے کی قرارداد منظور کرلی

کراچی کی سڑکوں، گلیوں، تجارتی مرکز پر گاڑیاں دھونے اور لائنوں کا پانی استعمال کرنے پر جرمانے کی قرارداد پیش کردی گئی۔

پی پی پی رکن سٹی کونسل نے کہا کہ میئر صاحب ہماری سڑکیں ٹوٹ رہی ہیں، دو تلوار کلفٹن پر لائن سے گاڑیاں دھلتی ہیں، ایک خبر دیکھی کہ واٹر کارپوریشن نے 50سال کی پلاننگ کی ہے۔

اپوزیشن لیڈر سیف الدین ایڈووکیٹ نے کہا کہ  آج شہر میں پانی نہیں، میئر 2050ء کا پلان بنا رہے ہیں، کے فور منصوبہ 20 ارب روپے سے 200 ارب روپے تک پہنچ گیا، ایم ڈی واٹر کارپوریشن کہتے ہیں کے فور منصوبہ 2027 میں مکمل ہوگا۔

سیف الدین ایڈووکیٹ نے کہا کہ منصوبہ بندی کے تحت شہر میں پانی کی لائنیں توڑی جا رہی ہے، 84 انچ کی لائن 8 ماہ میں 6 بار ٹوٹ چکی ہے، ایس بی سی اے شہر میں غیر قانونی مافیا کی سرپرست ہے۔

اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ آج کے سٹی کونسل اجلاس میں ایک ایجنڈا شہر کے حق میں نہیں، شہر میں اب ہم احتجاج کریں گے، سڑکوں پر آئیں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: استعمال کرنے پر جرمانے کی قرارداد قرارداد پیش سٹی کونسل نے کہا کہ

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • میٹھے پر سجاوٹ کیلئے چیونٹیوں کا استعمال ریسٹورنٹ مالک کو مہنگا پڑگیا
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار