دریاؤں اور آبی ذخیروں میں پانی کی صورتحال کیا ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 19th, May 2025 GMT
---فائل فوٹو
واٹر اینڈ پاور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (واپڈا) نے دریاؤں اور آبی ذخیروں میں پانی کی صورتِ حال بتادی۔
واپڈا کے اعداد و شمار کے مطابق دریائے سندھ میں تربیلا کے مقام پر پانی کی آمد ایک لاکھ 28 ہزار 900 کیوسک ہے جبکہ اخراج ایک لاکھ 16 ہزار 900 کیوسک ہے۔
منگلا پر دریائے جہلم میں پانی کی آمد 43 ہزار 800 کیوسک اور اخراج 28 ہزار کیوسک ہے جبکہ چشمہ بیراج میں پانی کی آمد ایک لاکھ 45 ہزار 100 کیوسک اور اخراج ایک لاکھ 40 ہزار کیوسک ہے۔
واٹر اینڈ پاور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (واپڈا) نے دریاؤں اور آبی ذخیروں میں پانی کی صورتِ حال بتا دی۔
ترجمان واپڈا کے مطابق ہیڈ مرالہ پر چناب میں پانی کی آمد 30 ہزار 700 کیوسک اور اخراج 13 ہزار 300 کیوسک ہے، نوشہرہ کے مقام پر دریائے کابل میں پانی کی آمد 40 ہزار 200 کیوسک اور اخراج 40 ہزار 200 کیوسک ہے۔
تربیلا ریزر وائر میں آج پانی کی سطح 1467.
ترجمان کا کہنا ہے کہ چشمہ ریزر وائر میں پانی کی سطح 644.90 فٹ، پانی کا ذخیرہ ایک لاکھ 38 ہزار ایکڑ فٹ ہے۔ تربیلا، منگلا اور چشمہ ریزر وائر میں قابل استعمال پانی کا مجموعی ذخیرہ 34 لاکھ 49 ہزار ایکڑ فٹ ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: کیوسک اور اخراج میں پانی کی آمد ریزر وائر میں ہزار ایکڑ ایک لاکھ کیوسک ہے
پڑھیں:
مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
نیویارک:اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال تیزی سے قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے اور پورا خطہ ایک ایسے خطرناک موڑ پر پہنچ چکا ہے جس کے نتائج ناقابلِ تصور ہو سکتے ہیں۔
سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انتونیو گوتریس نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ ناقابلِ تصور تباہی کے کنارے پر کھڑا ہے اور خطہ مسلسل وسیع ہوتے ہوئے تصادم کے دائرے میں کھنچتا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہو رہی ہے ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے جبکہ ہر روز نئی کشیدگی مزید خطرناک حالات پیدا کر رہی ہے۔
اقوامِ متحدہ کے سربراہ کے مطابق جیسے جیسے تنازع پھیل رہا ہے ویسے ویسے سیاسی مقاصد پس منظر میں چلے جا رہے ہیں اور تصادم خود ہی ایک مستقل بحران کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔
انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ مزید کشیدگی کو روکنے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں کیونکہ موجودہ حالات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی امن کے لیے بھی سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔