چین کا جدید ترین ڈرون اپنی پہلی پرواز کے لیے تیار
اشاعت کی تاریخ: 19th, May 2025 GMT
سات ہزار کلومیٹر تک مسلسل سفر کرنے والا لڑاکا صلاحیت کا حامل چین کا جدید ڈرون ’جیوتیان‘ جون میں اپنی پہلی پرواز کے لیے تیار ہے۔
چینی سرکاری نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی نے اس مشن کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ پرواز پیپلز لبریشن آرمی (PLA) کی UAV آپریشنل رینج کو وسعت دینے کی طرف پہلا قدم ہے۔
آسمانوں کی وسعت کا طاقتور جنگی پلیٹ فارم قرار دیئے جانے والے ’جیو تیان‘ کا مطلب "بلند آسمان" ہے جو 50 ہزار فٹ کی بلندی تک طویل فاصلے (7 ہزار کلومیٹر) تک پرواز کرنے والا ڈرون ہے۔
جیوتیان کا وزن 16 ٹن ہے جس میں 6 ٹن تک اسلحہ اور چھوٹے ڈرونز شامل کیے جا سکتے ہیں اور یہ ایک ساتھ 100 چھوٹے ڈرونز چھوڑ سکتا ہے۔
کئی ڈرونز ایک ساتھ حملہ آور ہوکر دشمن کے فضائی دفاع کو مفلوج کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔
جیو تیان کی خاص بات یہ بھی ہے یہ نہ صرف لڑاکا مشن بلکہ انٹیلیجنس، نگرانی، الیکٹرانک وار فیئر، بارڈر سیکیورٹی، سمندری نگرانی، ایمرجنسی ریسکیو اور دیگر سیکیورٹی ذمہ داریوں کے لیے بھی استعمال ہو سکتا ہے۔
جیوتیان کو پہلی بار گزشتہ سال چین کے معروف ژوہائی ایئر شو میں نمائش کے لیے پیش کیا گیا تھا جسے بغیر پائلٹ کے فضائی جنگی صلاحیتوں میں انقلابی قدم مانا جا رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔