چین کا ڈرون بردارڈرون طیارہ پہلے مشن پر جانے کیلئے تیار
اشاعت کی تاریخ: 19th, May 2025 GMT
بیجنگ: چین نے ڈرون بردارڈرون طیارہ جیو تیان جون کے آخر میں اپنے پہلے مشن پر جانے کے لئے تیار ہے۔
چینی میڈیا کے مطابق ’جیو تیان‘ ڈرون نومبر 2024 میں ژوہائی ائیر شو کے دوران پہلی بار منظر عام پر آیا تھا۔ یہ جیٹ انجن سے چلنے والا اور طویل فاصلے تک پرواز کرنے والا بغیر پائلٹ طیارہ ہے جو 15 ہزار میٹر (50 ہزار فٹ) کی بلندی پر اڑنے اور 7 ہزار کلومیٹر تک فاصلہ طے کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
یہ ڈرون 16 ٹن تک وزن کے ساتھ پرواز کر سکتا ہے اور 6 ٹن تک ہتھیار، لوئٹرنگ ایمونیشن یا چھوٹے خودکش ڈرونز لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
جیو تیان سے اس کے اندر موجود 100 چھوٹے ڈرونز یا ہتھیار لانچ کیے جاسکتے ہیں جو دشمن کے دفاعی نظام کو متاثر کرنے کے لیے استعمال کیے جاسکتے ہیں۔ یہ نظام ’سوارمنگ‘ کے تحت کام کرتا ہے جس میں بڑی تعداد میں ڈرونز بیک وقت دشمن کے خلاف کارروائی کرتے ہیں۔
جیو تیان میں 8 ہارڈ پوائنٹس موجود ہیں جن پر مختلف قسم کے ہتھیار اور سینسر نصب کیے جا سکتے ہیں۔ یہ ڈرون انٹیلیجنس، نگرانی، جاسوسی، الیکٹرانک وار فیئر، ہنگامی امداد، سرحدی و ساحلی دفاع، سمندری نگرانی، اور قیمتی زمینی وسائل کے تحفظ جیسے مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
اس ڈرون کو چین کی سرکاری ایرو اسپیس کمپنی ’ایوی ایشن انڈسٹری کارپوریشن آف چائنا‘ (AVIC) نے ڈیزائن کیا ۔
جیو تیان کے کارگو حصے کا ماڈیولر ڈیزائن اس ڈورن کو مختلف قسم کے مشنز کے لئے موزوں بناتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: جیو تیان
پڑھیں:
نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
بھارت میں نیٹ (NEET) امتحان کے مبینہ پیپر لیک کے خلاف دہلی سے شروع ہونے والا احتجاج اب ملک کے مختلف شہروں تک پھیل گیا ہے۔ طلبہ کی جانب سے امتحانی نظام میں شفافیت، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی اور اصلاحات کے مطالبات زور پکڑتے جا رہے ہیں، جبکہ دہلی یونیورسٹی نے اپنے طلبہ اور اساتذہ کو جنتر منتر پر جاری احتجاج میں شرکت سے گریز کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
پیپر لیک کے خلاف احتجاج اب صرف دارالحکومت دہلی تک محدود نہیں رہا۔ ممبئی، کولکاتا، بنگلورو، حیدرآباد، پٹنہ، لکھنؤ، چندی گڑھ اور دیگر شہروں میں بھی طلبہ تنظیموں نے ریلیاں، دھرنے اور احتجاجی مظاہرے شروع کر دیے ہیں۔ متعدد مقامات پر طلبہ نے امتحانی نظام میں اصلاحات، پیپر لیک میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی اور شفاف امتحانی عمل کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔
Huge crowd of students floods roads of Nashik.
Student protest is now getting pan India surge. pic.twitter.com/tW5HlH2LuY
— VIZHPUNEET (@vizhpuneet) July 23, 2026
ادھر اپوزیشن جماعتیں بھی طلبہ کی حمایت میں میدان میں آ گئی ہیں۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہول گاندھی اور ’انڈیا اتحاد‘ کے دیگر رہنماؤں نے احتجاجی طلبہ سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے وفاقی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ دہرایا ہے۔
دوسری جانب نیٹ دہلی یونیورسٹی نے اپنے سرکاری بیان میں کہا ہے کہ جنتر منتر پر ہونے والے اجتماعات سپریم کورٹ کی ہدایات کے تحت منظم کیے جاتے ہیں اور کسی بھی غیرقانونی مظاہرے میں شرکت کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ انتظامیہ کے مطابق ایسے اقدامات طلبہ کی سلامتی، تعلیمی مستقبل اور پیشہ ورانہ مواقع کو متاثر کر سکتے ہیں، اس لیے انہیں احتجاجی سرگرمیوں سے دور رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:وزیرِ تعلیم کے استعفے کا مطالبہ، نئی دہلی میں طلبہ کے احتجاج پر لاٹھی چارج
یونیورسٹی نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی جعلی اور گمراہ کن خبروں سے بھی خبردار کرتے ہوئے طلبہ کو غیر مصدقہ معلومات شیئر نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ پیپر لیک معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی، تاہم طلبہ تنظیموں نے واضح کیا ہے کہ مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رہے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارت احتجاج دہلی احتجاج نیٹ پیپر لیک