ملتان، محرم الحرام سے قبل مرکزی امام بارگا ہ کے سامنے کرائون فیلیئر، حادثات کا خدشہ
اشاعت کی تاریخ: 20th, May 2025 GMT
امام بارگاہ حسین آباد دولت گیٹ کے متولی ملک شجر عباس کھوکھر اور عوامی وسماجی حلقوں نے ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس سلسلے میں فی الفور سنجیدگی سے نوٹس لیتے ہوئے کراون فیلیئر کی طرف توجہ دی جائے۔ اسلام ٹائمز۔ ملتان کے مرکزی علاقے دولت گیٹ پر قدیمی اور مرکزی امام بارگاہ حسین آباد دولت گیٹ کے مین گیٹ کے سامنے کئی روز سے تباہ حالی کا شکار کراو ن فیلیئر کی وجہ سے آئے روز حادثات معمول بن گئے ہیں، جبکہ امام بارگاہ سے ملحقہ مسجد میں نماز پڑھنے کے لئے آنے والے نمازی بھی شدید پریشانی سے دوچار ہیں جبکہ شہریوں کو بھی آمد و رفت میں شدید پریشانی اٹھانا پڑ رہی ہے۔ اس سلسلے میں امام بارگاہ حسین آباد دولت گیٹ کے متولی ملک شجر عباس کھوکھر اور عوامی وسماجی حلقوں نے ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس سلسلے میں فی الفور سنجیدگی سے نوٹس لیتے ہوئے کراون فیلیئر کی طرف توجہ دی جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
اسلام آباد(رضوان عباسی ): توشہ خانہ ریکارڈ میں وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو اپریل سے جون 2026 کے دوران مختلف غیر ملکی شخصیات اور وفود کی جانب سے ملنے والے سرکاری تحائف کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔
کابینہ ڈویژن کی دستاویزات کے مطابق اس عرصے میں موصول ہونے والے تمام سرکاری تحائف توشہ خانہ قواعد کے تحت کابینہ ڈویژن میں جمع کرا دیے گئے ہیں، جبکہ ان کی مالیت کے تعین (ویلیوایشن) کا عمل تاحال جاری ہے۔
دستاویزات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کو مختلف ممالک کے سربراہان، اعلیٰ حکام اور سرکاری وفود کی جانب سے متعدد یادگاری تحائف پیش کیے گئے۔ ان میں شوگر باؤل، گاڑی کا فریم شدہ ماڈل، شیلڈز، قیمتی قلم، کف لنکس، ٹائی، کافی کپ اور واٹر گلاس سیٹ، چائے کے کپ اور ساسرز، آرائشی واز، ایرانی فیروزہ اِنلے دستکاری پر مشتمل پانچ پیس سیٹ، روایتی چینی اسکرول پینٹنگ، چائنا اسپیس اسٹیشن کا ماڈل اور دیگر سووینئرز شامل ہیں۔
اسی طرح نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو بھی مختلف ممالک کی جانب سے متعدد سرکاری تحائف دیے گئے، جن میں مصری طرز کا مجسمہ، مسجد نبوی ﷺ کا ماڈل، کف لنکس اور دیگر یادگاری اشیا شامل ہیں۔
دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈپٹی چیف آف پروٹوکول محمد ارسلان میر کو ایک قیمتی ڈائمنڈ کلیکشن رسٹ واچ بطور سرکاری تحفہ موصول ہوئی، جس کی مالیت کا تعین بھی جاری ہے۔
کابینہ ڈویژن کے مطابق توشہ خانہ ریکارڈ میں شامل تمام تحائف متعلقہ قوانین اور قواعد کے مطابق وصول کیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ویلیوایشن مکمل ہونے کے بعد توشہ خانہ رولز کے مطابق آئندہ کارروائی کی جائے گی۔
سرکاری ذرائع کے مطابق تحائف کی مالیت کا تعین مکمل ہونے کے بعد قواعد کے مطابق یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ متعلقہ حکام ان تحائف کو اپنے پاس رکھ سکتے ہیں یا انہیں سرکاری تحویل میں برقرار رکھا جائے گا۔