بنگلادیش کیخلاف ٹی20 سیریز، پاکستانی اسکواڈ کا اعلان، شاہین، بابر، رضوان آؤٹ
اشاعت کی تاریخ: 21st, May 2025 GMT
بنگلادیش کے خلاف تین ٹی ٹوئنٹی میچز کی سیریز کےلیے پاکستان کے 16 رکنی سکواڈ کا اعلان کر دیا گیا۔
سلمان علی آغا بنگلادیش کے خلاف سیریز میں قومی ٹیم کی قیادت کریں گے۔
سیریز کے تینوں میچز لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں کھیلے جائیں گے جبکہ میچز کے شیڈول کا اعلان مقررہ وقت پر کیا جائے گا۔
فاسٹ بولر حسن علی، فخر زمان اور صائم ایوب کی قومی ٹیم میں واپسی ہوئی ہے جبکہ حسین طلعت، صاحبزادہ فرحان اور فہیم اشرف کو بھی اسکواڈ میں شامل کیا گیا۔
فاسٹ بولر نسیم شاہ اور محمد وسیم جونیئر بھی اسکواڈ میں جگہ بنانے پر کامیاب ہوگئے۔
عبدالصمد، جہانداد خان، عباس آفریدی کو اسکواڈ سے ڈراپ کر دیا گیا جبکہ فاسٹ بولر شاہین آفریدی ٹی ٹوئنٹی اسکواڈ میں جگہ نہ بنا سکے۔
محمد علی، عمیر بن یوسف، سفیان مقیم اور عثمان خان کو بھی ڈراپ کر دیا گیا اور سابق کپتان بابر اعظم اور محمد رضوان بھی اسکواڈ کا حصہ نہیں ہیں۔
پاکستان اسکواڈ
سلمان علی آغا (کپتان)، شاداب خان (نائب کپتان)، ابرار احمد، فہیم اشرف، فخر زمان، حارث رؤف، حسن علی، حسن نواز، حسین طلعت، محمد عرفان خان، خوشدل شاہ، محمد حارث (وکٹ کیپر)، محمد وسیم جونیئر، نسیم شاہ، صاحبزادہ فرحان (وکٹ کیپر) اور صائم ایوب۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
اے این پی نے سوشل میڈیا پر مذہبی اشتعال انگیز مہم کیخلاف این سی سی آئی اے میں درخواست جمع کرادی
پشاور(ڈیلی پاکستان آن لائن)عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے خلاف سوشل میڈیا پر مذہبی اشتعال انگیز مہم کے معاملے پر اے این پی کے صوبائی صدر میاں افتخار حسین نے نیشنل سائبرکرائم انوسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) میں درخواست جمع کرادی۔
ایک شخص کےخلاف آئی جی اور سیکرٹری داخلہ کو بھی درخواست دی گئی ہے۔
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق میاں افتخار کا کہنا ہے کہ اے این پی کے خلاف سوشل میڈیا پر مذہبی بنیادوں پر نفرت انگیز اور اشتعال انگیز مہم قابل مذمت ہے، پارٹی کے خلاف نفرت پھیلا کر سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، اے این پی آئین کی بالادستی، جمہوریت، عدم تشدد اور انتہا پسندی کے خلاف جدوجہد کی علمبردار ہے۔
امریکی فورسز نے متعدد ایرانی بیلسٹک میزائل اور ڈرونز کو تباہ کر دیا: سینٹکام
میاں افتخار نے مطالبہ کیا ہےکہ این سی سی آئی اے، آئی جی اور سیکرٹری داخلہ فوری اور شفاف تحقیقات کرائیں، نفرت انگیز مواد پھیلانے اور جھوٹے بیانیے تشکیل دینے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔
مزید :