فلسطینیوں کو بلا رکاوٹ انسانی امداد کی فراہمی کیلئے اقدامات کئے جائیں: اسحاق ڈار
اشاعت کی تاریخ: 21st, May 2025 GMT
اسلام آباد (ویب ڈیسک) نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ فلسطینیوں کو بلا رکاوٹ انسانی امداد کی فراہمی کیلئے اقدامات کئے جائیں۔
ایک بیان میں اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ غزہ میں ہر 5 میں سے ایک شخص کو بھوک کا سامنا ہے، غزہ کی پوری آبادی کو غذائی عدم تحفظ اور قحط جیسے خطرے کا سامنا ہے، پاکستان غزہ میں جاری اسرائیلی جارحیت کی مذمت کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ غزہ میں اسرائیلی زمینی کارروائیاں خطے میں امن و استحکام کی کوششوں کیلئے خطرہ ہیں، غزہ میں ہسپتالوں اور اہم انفراسٹرکچر کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا گیا، اسرائیلی اقدامات عالمی قوانین اور انسانی اصولوں کی خلاف ورزی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ عالمی برادری فلسطینیوں کی نسل کشی کی اسرائیلی مہم کو فوری ختم کرے، فلسطینیوں کو بلا رکاوٹ انسانی امداد کی فراہمی کیلئے بھی اقدامات کئے جائیں۔
نائب وزیراعظم نے مزید کہا کہ پاکستان فلسطینیوں کو ان کی سرزمین سے بے دخل کرنے کی کوششوں کی مخالفت کرتا ہے، پاکستان فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کی حمایت کا اعادہ کرتا ہے۔
Post Views: 2.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: فلسطینیوں کو
پڑھیں:
جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
جرمنی کی وفاقی وزارت داخلہ نے اعلان کیا ہے کہ یکم اگست 2026 یا اس کے بعد توسیع کیے جانے والے افغان پاسپورٹس کو جرمنی میں درست سفری دستاویز کے طور پر تسلیم نہیں کیا جائے گا۔
وزارت داخلہ کی ترجمان ایلینا سنگر نے افغانستان انٹرنیشنل کو جاری بیان میں کہا کہ یہ فیصلہ افغان سفارتی مشنز میں پاسپورٹ کے حصول کے طریقہ کار میں ہونے والی تبدیلیوں، بین الاقوامی قانونی تقاضوں اور بین الاقوامی شہری ہوا بازی تنظیم (ICAO) کی سفارشات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ جرمنی کے رہائشی قانون (Residence Act) کی دفعہ 3(1) کے تحت ملک میں داخل ہونے یا رہائش اختیار کرنے والے غیر ملکیوں کے لیے لازم ہے کہ ان کے پاس ایک درست اور تسلیم شدہ پاسپورٹ یا اس کے متبادل منظور شدہ سفری دستاویز موجود ہو۔
وزارت داخلہ نے واضح کیا کہ یکم اگست 2026 سے پہلے توسیع کیے گئے افغان پاسپورٹس اس نئی پالیسی سے متاثر نہیں ہوں گے اور بدستور قابل قبول رہیں گے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ جرمنی میں اپنے رہائشی اجازت نامے (ریذیڈنس پرمٹ) کی تجدید کے خواہش مند افغان شہریوں کو بھی ایک درست اور تسلیم شدہ سفری دستاویز پیش کرنا ہوگی۔
تاہم جرمنی کے مقامی امیگریشن حکام ہر درخواست کا انفرادی بنیادوں پر جائزہ لیتے رہیں گے تاکہ یہ طے کیا جا سکے کہ متعلقہ افغان شہری کے لیے افغان سفارتی مشن سے پاسپورٹ حاصل کرنا ممکن اور مناسب ہے یا نہیں۔
اگر متعلقہ اتھارٹی اس نتیجے پر پہنچتی ہے کہ کسی افغان شہری کے لیے افغان سفارت خانے یا قونصل خانے سے پاسپورٹ حاصل کرنا ممکن یا مناسب نہیں، تو ایسے فرد کو ٹریول ڈاکیومنٹ فار فارنرز (غیر ملکیوں کے لیے سفری دستاویز) جاری کی جا سکتی ہے۔
جرمن وزارت داخلہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ 1951 کے جنیوا ریفیوجی کنونشن کے تحت تسلیم شدہ افغان مہاجرین کو افغان سفارتی مشنز سے رجوع کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ ایسے افراد جرمنی کے قانونی تقاضے پورے کرنے کے لیے ریفیوجی ٹریول ڈاکیومنٹ حاصل کر سکتے ہیں۔
وزارت کے مطابق اس وقت یہ اندازہ لگانا ممکن نہیں کہ نئی پالیسی سے کتنے افغان شہری متاثر ہوں گے، تاہم نئے افغان پاسپورٹس کے اجرا کے لیے درخواستیں بدستور دی جا سکتی ہیں۔
جرمن وزارت داخلہ نے یہ بھی واضح کیا کہ اس فیصلے کا جرمنی میں طالبان کی جانب سے مقرر کردہ سفارتی عملے کی موجودگی یا افغان شہریوں کی ملک بدری سے متعلق جرمن حکومت کے پروگرام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں