خاموش تماشائی نہیں بن سکتے،خضدار حملے کا بدلہ ضرور لیا جائے گا، وزیراعلی سرفراز بگٹی کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 21st, May 2025 GMT
خاموش تماشائی نہیں بن سکتے،خضدار حملے کا بدلہ ضرور لیا جائے گا، وزیراعلی سرفراز بگٹی کا اعلان WhatsAppFacebookTwitter 0 21 May, 2025 سب نیوز
کوئٹہ (سب نیوز)وزیراعلی بلوچستان سرفراز بگٹی نے خضدار میں اسکول بس پر دہشتگرد حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم بزدلانہ حملوں پر خاموش تماشائی نہیں بن سکتے۔
وزیراعلی بلوچستان نے کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ آج صبح خضدار میں اسکول بس پر حملہ کیا گیا جس میں 47 بچے سوار تھے اور اس افسوسناک واقعے میں 4 بچے شہید ہو گئے۔سرفراز بگٹی نے کہا کہ اطلاعات تھیں کہ بھارت کے قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوول بزدلانہ حملے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں، تاہم یہ اندازہ نہیں تھا کہ معصوم بچوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔
وزیراعلی نے کہا کہ بھارت اپنی جنگی شکست چھپانے کے لیے ایسے اقدامات پر اتر آیا ہے اور بی ایل اے اور بی ایل ایف جیسے گروہ ہمیشہ سافٹ ٹارگٹ کو نشانہ بناتے ہیں ۔بھارت دہشت گردوں کو پیسہ اور ٹریننگ فراہم کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ کسی بلوچ نے پنجاب کو نشانہ نہیں بنایا، دہشتگردوں نے پاکستانیوں کو شہید کیا ہے اور اب جب بات بچوں تک پہنچ چکی ہے،وزیراعلی نے واضح کیا کہ دہشتگردوں سے بدلہ لیا جائے گا اور ان بزدل عناصر کو جہنم واصل کیا جائے گا۔
سرفراز بگٹی نے کہا کہ معصوم بچوں کا مقدس خون ہرگز رائیگاں نہیں جائے گا اور دہشتگردوں کی نہ کوئی قوم ہے نہ قبیلہ، وہ صرف دہشتگرد ہیں، جنہیں عبرت کا نشان بنایا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ تمام دہشتگرد تنظیموں کی نانی ایک ہے اور وہ سب بھارت کی پشت پناہی سے کام کر رہی ہیں۔انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ بلوچستان میں امن قائم ہوگا اور دہشتگردوں کو چن چن کر ختم کیا جائے گا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرعمران خان کا پولی گرافگ، فوٹوگرامیٹک اور وائس میچنگ ٹیسٹ کرانے سے انکار عمران خان کا پولی گرافگ، فوٹوگرامیٹک اور وائس میچنگ ٹیسٹ کرانے سے انکار میرعلی واقعے میں بھارتی حمایت یافتہ فتنہ الخوارج ملوث نکلے، ترجمان پاک فوج ایک سو نوے ملین پاونڈ کیس، پی ٹی آئی رہنما عمران اور بشری کی سزا معطلی کا کیس مقرر کرانے کیلئے متحرک فیلڈ مارشل عاصم منیر کو بیجز لگانے کی تقریب موخر کردی گئی سعودی عرب یا امارات میں پاک بھارت مذاکرات ہوسکتے ہیں جس میں امریکا بنیادی کردار ادا کریگا، وزیراعظم چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا کی زیر صدارت اجلاس، جاری اور نئے ترقیاتی منصوبوں بارے تبادلہ خیالCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: سرفراز بگٹی جائے گا
پڑھیں:
پیٹرول مہنگا، کیا دفتروں کے لیے ہفتہ دوبارہ 3 یا 4 روز پر مشتمل ہوسکتا ہے؟
پیٹرول کی قیمتوں میں ہر روز اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور قیمت 327 روپے فی لیٹر سے تجاوز کر گئی ہے۔
اس اضافے کے بعد سرکاری و نجی شعبے کے ملازمین کی جانب سے حکومت سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ ایندھن کی بڑھتی لاگت کو مدنظر رکھتے ہوئے ہفتے میں دفتری حاضری کم کی جائے اور 2 روز گھر سے کام یعنی ورک فرام ہوم کی اجازت دی جائے۔
تاہم، اس وقت وفاقی حکومت کی جانب سے ہفتے میں صرف 3 دفتری دن یا 2 دن لازمی ورک فرام ہوم کرنے کی کوئی سرکاری تجویز یا منظوری سامنے نہیں آئی۔
یہ بھی پڑھیں:
البتہ حکومت ماضی کی طرح توانائی کی بچت اور کفایت شعاری کے مختلف اقدامات پر غور کر رہی ہے، لیکن موجودہ سرکاری معلومات کے مطابق 3 روزہ آفس ورک کے کسی فیصلے کے زیر غور ہونے کی تصدیق نہیں ہوئی۔
وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے وی نیوز کو بتایا کہ حکومت نے ماضی میں ایندھن بچانے کے لیے محدود مدت کے لیے دفتری اوقات اور ورکنگ ڈیز میں تبدیلیاں کی تھیں۔
’فی الحال حکومت نے دوبارہ ہفتے میں 3 یا 4 ورکنگ ڈیز نافذ کرنے کا کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا ہے، نہ ہی ایسی کوئی تجویز زیر غور ہے۔‘
مزید پڑھیں:
گریڈ 18 کے سرکاری افسر محمد جہانزیب بٹ سمجھتے ہیں کہ اگر ہفتے میں 3 دن دفتر اور 2 دن گھر سے کام کرنے کی اجازت دی جائے تو ان کے پیٹرول کی مد میں اخراجات میں نمایاں کمی آئے گی۔
’میرا زیادہ تر کام لیپ ٹاپ، آن لائن رابطے اور ٹیلی فون کے ذریعے مؤثر انداز میں انجام دیا جا سکتا ہے، جس سے کارکردگی بھی متاثر نہیں ہوگی۔‘
انہوں نے کہا کہ پیٹرول کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باعث میرے ماہانہ سفری اخراجات بہت بڑھ گئے ہیں، جبکہ آمدنی میں کوئی اضافہ نہیں ہوا، جس سے گھریلو بجٹ سنبھالنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں:
’اگر ہفتے میں 2 دن گھر سے کام کرنے کی اجازت مل جائے تو نہ صرف میرے سفری اخراجات کم ہوں گے بلکہ میں اپنی ذمہ داریاں بھی مؤثر انداز میں، بغیر کسی رکاوٹ کے، انجام دیتا رہوں گا۔‘
ٹیلی کام سیکٹر سے منسلک شہزاد خان نے وی نیوز کو بتایا کہ اب دنیا میں بیشتر نوکریاں ایسی ہیں جو لیپ ٹاپ اور انٹرنیٹ کی مدد سے باآسانی کی جا سکتی ہیں۔
گزشتہ 3 ماہ سے ہماری کمپنی نے جمعہ کے روز ورک فرام ہوم کی اجازت دے رکھی ہے لیکن کسی کے کام کا حرج نہیں ہوا۔
’مہنگائی کے اس دور اور پیٹرول کی بڑھتی قیمتوں کے باعث اگر ملازمین کو ہفتے میں 2 دن گھر سے کام کرنے کی اجازت دے دی جائے تو اس سے لوگوں کو بہت سہولت ہوگی۔‘
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آمدنی انٹرنیٹ ایندھن پیٹرول کمپنی گھریلو بجٹ لیپ ٹاپ ملازمین مہنگائی نوکریاں ورک فرام ہوم ورکنگ ڈیز